30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اپنی شان و شوکت اور طاقت دکھانے کے لیے لوگوں سے جنگ کی جائے، جہاد کا بنیا دی مقصد یہ ہے کہ اپنی اور دوسروں کی جان و مال، عزت و آبرو، آزادی اور جائیداد وغیرہ کی ظالموں سے حفاظت کی جائے اور اعلائے کلمۃ الحق کے راستے میں جو رکاوٹیں ہوں ان کو دور کیا جائے۔
سوال: کیا اسلام جنگ و قتال کرنے والا دین ہے؟
جواب: اسلام میں طاقت کا استعمال خاص صورتوں میں جائز ہے، خاص کر جب کہ مسلمان قوم کو کسی ایسی طاقت سے خطرہ لاحق ہو جو مسلمانوں کو نقصان پہنچانے پر تلی ہوئی ہو ، ایسے وقت میں طاقت کا استعمال فطری بھی ہے اور منطقی بھی یعنی عقل بھی اس کو قبول کرتی ہے، مزید یہ کہ ہر کوئی جنگ کا اعلان بھی نہیں کرسکتا، یہ صرف مسلمانوں کے ممالک کا جو شرعی شرائط کے مطابق خلیفہ مقررکیا گیا ہو اس کا حق ہے اور یہ کام بھی بڑے منظم اور مہذب طریقے سے ہوتا ہے، اسلام میں زندگی کی بہت قدر ہے، خاص کر انسانی زندگی کے تحفظ پر اسلام نے بہت زور دیا ہے، اللّٰہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
وَ لَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّٰهُ اِلَّا بِالْحَقِّؕ-ذٰلِكُمْ وَصّٰىكُمْ بِهٖ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ (۱۵۱) (پ۸، انعام : ۱۵۱)
ترجمۂ کنزالایمان: اور جس جان کی اللّٰہ نے حرمت رکھی اسے ناحق نہ مارو یہ تمہیں حکم فرمایا ہے کہ تمہیں عقل ہو۔
مزید ارشاد ہوتا ہے:
مَنْ قَتَلَ نَفْسًۢا بِغَیْرِ نَفْسٍ اَوْ فَسَادٍ فِی الْاَرْضِ فَكَاَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِیْعًاؕ- (پ۶، المائدۃ: ۳۲)
ترجمۂ کنزالایمان: جس نے کوئی جان قتل کی بغیر جان کے بدلے یا زمین میں فساد کے تو گویا اس نے سب لوگوں کو قتل کیا۔
صرف ایک جان کی ایسی قدر ہے کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ ایک جان کو ظالمانہ طور پر ضائع کرنے کو پوری انسانیت کے قتل کے برابر قرار دیتا ہے۔
اس بات کو سمجھنا ضروری ہے کہ اسلام میں جنگ کی اجازت خاص صورت میں اور سخت حاجت کے وقت پرہے اور اِس کی اجازت صرف اُسی وقت ہے جب کہ سارے پر امن طریقے ناکام ہوجائیں ۔
آقائے دوعالمصَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے کبھی کبھار صرف اپنے مقصد کو زندہ رکھنے کے لیے جنگ کی اور رکاوٹ اور خطرہ دور ہوا تو آپ نے فوراً امن اور سفارتی راستہ اختیار فرمایا، جنگ کی حالت میں بھی اسلام نے مسلمان فوج پر یہ لازم قرار دے دیا ہے کہ وہ میدانِ جنگ میں بھی دشمنوں کے ساتھ مُنْصِفانہ رویہ رکھیں ، اسلام نے لڑنے والوں اور عام لوگ جو دشمن ملک کے باشندے ہیں ان کے درمیان ایک واضح اور صاف خط کھینچ دیا ہے، سرکارعَلَیْہِ الصَّلاۃُ وَالسَّلَام نے مسلمان فوج کو حکم دیا ہے کہ ’’ کسی بوڑھے، بچے اور عورت کو قتل مت کرو۔ ‘‘ ([1])
اور ارشاد فرمایا: ’’ راہبوں کو ان کے عبادت خانوں میں قتل نہ کرو۔ ‘‘ ([2])
ایک بار ایک عورت کی لاش کو سرکار دو عالمصَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے میدانِ جنگ میں دیکھا تو ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: یہ عورت کیوں قتل کی گئی اور سرکار نے اِس تکلیف دِہ عمل کی مَذَمت کی۔ ([3])
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع