30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اسلامی قانون کے مطابق اس عورت کا اور اس کے بچوں کا نان و نفقہ واجب ہے، اس خاوند کی مثال اُسBoy Friend کی طرح نہیں ہے جو ایک دن بڑی آسانی سے عورت کو اپنے سے جدا کردیتا ہے، جب عورت کو حمل ہوجاتا ہے تو وہ اُس عورت کو پہچاننے سے بھی انکار کردیتا ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ دوسری بیوی جس کی قانوناً شادی ہوئی ہے اس کی عزت ہے، قانوناً اس کے حقوق محفوظ ہیں ، معاشرے میں اس کو ایک عزت دار عورت کی طرح قبول کیا جاتا ہے، اِس کے برعکس رَکھیل کی نہ معاشرے میں عزت ہے اور نہ کوئی قانونی حق، اسلام سختی سے جسم فروشی اور زنا کو منع کرتا ہے البتہ سخت شرائط اور تعداد کی حد بندی کے ساتھ ایک سے زیادہ نکاح کرنے کی اجازت بھی دیتا ہے۔
سوال: اگر مرد کو ایک سے زیادہ بیویوں کی اجازت ہے تو عورت کو ایک سے زیادہ خاوند رکھنے کی اجازت کیوں نہیں ہے ؟
جواب : اسلام اس بات کی تعلیم دیتا ہے کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ جو کہ غالب حکمت والا ہے اس نے مرد اور عورت کو ہر معاملے میں بِعَیْنِہٖ ایک جیسا نہیں پیدا کیا، وہ ایک دوسرے سے جسمانی، عقلی اور جذباتی اعتبار سے کافی مختلف ہیں اور ان کی صلاحیتیں بھی ایک دوسرے سے جدا گانہ ہیں ، یہی وجہ ہے کہ اُن کی ذمہ داریاں بھی ایک دوسرے سے جدا گانہ ہیں لیکن وہ ایک دوسرے کی ذمہ داریوں کو سراہتے ہوئے زندگی میں آگے بڑھتے ہیں ۔
کچھ لوگ اس پر اعتراض کرتے ہیں کہ مرد کو تو ایک سے زیادہ بیویوں کی اجازت ہے، عدل و انصاف کا تقاضا پھر یہی ہے کہ عورت کو بھی ایک سے زیادہ خاوندوں کی اجازت ہونی چاہیے، ہم ذیل میں کچھ اسباب بیان کرتے ہیں جس کی وجہ سے یہ سمجھنے میں مدد ملے گی کہ عورت کو ایک سے زیادہ مرد رکھنے کی اجازت کیوں نہیں ہے۔
٭مردوں کا ایک سے زیادہ نکاح کرنا عورتوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے مسئلے کو حل کرتاہے۔
٭فطرتی طور پر مرد کے اندر تعددِّ ازواج کا میلان موجود ہے جبکہ عورتوں کے اندر فطرتاً یہ بات نہیں ہے۔
٭اسلام اس بات کو بہت اہمیت دیتا ہے کہ بچے کے ماں اور باپ دونوں کی پہچان واضح ہو، جب مردکی ایک سے زیادہ بیویاں ہوں تو اس شادی میں بچے کے ماںاورباپ دونوں کی پہچان باآسانی ہوسکتی ہے لیکن اگر عورت نے ایک سے زیادہ خاوندوں سے شادی کی ہو تو اس صورت میں صرف ماں کا پتا تو یقینی طور پر لگ سکتا ہے لیکن باپ کا پتا لگانا یقینی طور پر بہت مشکل ہے، پھراس کے لیے میڈیکل ٹیسٹ کروانے کی حاجت پڑے گی کہ کس کے نطفے سے بچہ پیدا ہوا ہے، ٹیسٹ بھی ہمیشہ صحیح نہیں ہوتے یہ بات تجربہ سے ثابت ہوچکی ہے، جس باپ کو یہ یقین نہیں ہوگا کہ یہ بچہ میرا ہے تو وہ اس کی تربیت اور نان و نفقہ کے بارے میں لاپرواہ ہوجائے گا اور ماہرینِ نفسیات بتاتے ہیں کہ یہ صورتِ حال بچے کے لیے ذہنی تکلیف اور ناخوشگوار بچپن کا سبب بن سکتی ہے۔
سوال: اسلام میں زنا کی سزا اتنی سخت کیوں ہے؟
جواب: اسلام میں سزاؤں کی ایک معاشرتی وجہ ہے تاکہ دوسروں کوا س طرح کا جرم کرنے سے روکا جائے، جس سنجیدہ نوعیت کا جرم ہوتا ہے اس کے حساب سے اس کی سزا رکھی گئی ہے، آج کل کچھ لوگ زنا کی سزا کی مخالفت اس لیے کرتے ہیں کہ اُنہیں لگتا ہے کہ اس میں توازن نہیں ہے یا سزا بہت سخت ہے، بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ لوگوں کے ذہنوں میں مختلف معیار ہیں جس کی بنیاد پر مختلف جرائم کے نقصانات کو ناپا جاتا ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع