30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
قُلْ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ یَغُضُّوْا مِنْ اَبْصَارِهِمْ وَ یَحْفَظُوْا فُرُوْجَهُمْؕ-ذٰلِكَ اَزْكٰى لَهُمْؕ-اِنَّ اللّٰهَ خَبِیْرٌۢ بِمَا یَصْنَعُوْنَ (۳۰) وَ قُلْ لِّلْمُؤْمِنٰتِ یَغْضُضْنَ مِنْ اَبْصَارِهِنَّ وَ یَحْفَظْنَ فُرُوْجَهُنَّ وَ لَا یُبْدِیْنَ زِیْنَتَهُنَّ اِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَ لْیَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلٰى جُیُوْبِهِنَّ۪-وَ لَا یُبْدِیْنَ زِیْنَتَهُنَّ اِلَّا لِبُعُوْلَتِهِنَّ اَوْ اٰبَآىٕهِنَّ اَوْ اٰبَآءِ بُعُوْلَتِهِنَّ اَوْ اَبْنَآىٕهِنَّ اَوْ اَبْنَآءِ بُعُوْلَتِهِنَّ اَوْ اِخْوَانِهِنَّ اَوْ بَنِیْۤ اِخْوَانِهِنَّ اَوْ بَنِیْۤ اَخَوٰتِهِنَّ اَوْ نِسَآىٕهِنَّ اَوْ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُنَّ اَوِ التّٰبِعِیْنَ غَیْرِ اُولِی الْاِرْبَةِ مِنَ الرِّجَالِ اَوِ الطِّفْلِ الَّذِیْنَ لَمْ یَظْهَرُوْا عَلٰى عَوْرٰتِ النِّسَآءِ۪-وَ لَا یَضْرِبْنَ بِاَرْجُلِهِنَّ لِیُعْلَمَ مَا یُخْفِیْنَ مِنْ زِیْنَتِهِنَّؕ-وَ تُوْبُوْۤا اِلَى اللّٰهِ جَمِیْعًا اَیُّهَ الْمُؤْمِنُوْنَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ (۳۱) (پ۱۸، النور: ۳۰ ، ۳۱)
مسلمان مردوں کو حکم دو اپنی نگاہیں کچھ نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں یہ ان کے لئے بہت ستھرا ہے بے شک اللّٰہ کو ان کے کاموں کی خبر ہے اور مسلمان عورتوں کو حکم دو اپنی نگاہیں کچھ نیچی رکھیں اور اپنی پارسائی کی حفاظت کریں اور اپنا بناؤ نہ دکھائیں مگر جتنا خود ہی ظاہر ہے اور دوپٹے اپنے گریبانوں پر ڈالے رہیں اور اپنا سنگار ظاہر نہ کریں مگر اپنے شوہروں پر یا اپنے باپ یا شوہروں کے باپ یا اپنے بیٹے یا شوہروں کے بیٹے یا اپنے بھائی یا اپنے بھتیجے یا اپنے بھانجے یا اپنے دین کی عورتیں یا اپنی کنیزیں جو اپنے ہاتھ کی مِلک ہوں یا نوکر بشرطیکہ شہوت والے مرد نہ ہوں یا وہ بچّے جنہیں عورتوں کی شرم کی چیزوں کی خبر نہیں اور زمین پر پاؤں زور سے نہ رکھیں کہ جانا جائے ان کا چھپا ہوا سنگار اور اللّٰہ کی طرف توبہ کرو اے مسلمانو سب کے سب اس امید پر کہ تم فلاح پاؤ۔
اسلام کا یہ حکم کہ عورت اپنی نمائش اور خوبصورتی کو چھپائے، اس وجہ سے ہے کہ اُس کی اپنی ذاتی پہچان اور اُس کی حفاظت پر اثر نہ پڑے سوائے اِس کے کہ اپنے قریبی رشتہ داروں (محارم) میں ہو، اسلام نے عورت سے اس بات کا تقاضا کیا ہے کہ وہ اپنے جسم کو شرم وحیاء والے لباس کے ساتھ چھپائے۔
قرآنِ پاک اس بات کی وضاحت کرتا ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ نے عورت کو اس طرح کا لباس پہننے کا حکم کیوں دیا ہے، چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ قُلْ لِّاَزْوَاجِكَ وَ بَنٰتِكَ وَ نِسَآءِ الْمُؤْمِنِیْنَ یُدْنِیْنَ عَلَیْهِنَّ مِنْ جَلَابِیْبِهِنَّؕ-ذٰلِكَ اَدْنٰۤى اَنْ یُّعْرَفْنَ فَلَا یُؤْذَیْنَؕ-وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا (۵۹) (پ۲۲، الاحزاب: ۵۹)
ترجمۂ کنزالایمان: اے نبی اپنی بیبیوں اور صاحبزادیو ں اور مسلمانوں کی عورتوں سے فرمادو کہ اپنی چادروں کا ایک حصہ اپنے منہ پر ڈالے رہیں یہ اس سے نزدیک تر ہے کہ ان کی پہچان ہو تو ستائی نہ جائیں اور اللّٰہ بخشنے والا مہربان ہے۔
سوال: اسلام ایک سے زیادہ شادیوں کی اجازت کیوں دیتا ہے؟
جواب: اسلام ایک حد کے اندر تعدد ِ ازواج کی اجازت دیتا ہے ، یہودیوں کی تورات میں اور عیسائیوں کی انجیل میں ایک سے زیادہ شادیوں پرکوئی حد نہیں ملتی، ان کتابوں کی رو سے اس بات کی حد موجود نہیں ہے کہ ایک مرد کتنی عورتوں سے نکاح کر سکتا ہے لہٰذا اگر کوئی یہودی یا عیسائی درجنوں عورتوں سے بھی شادی کرلے تو اس کا مذہب اُسے اس سے منع نہیں کرتا، واضح رہے کہ تعددِ ازواج صرف اسلام کیساتھ خاص نہیں ہے بلکہ پہلے کے یہودی اور عیسائی اس پر عمل کرتے آئے ہیں ۔ تورات کے مطابق ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام کی تین بیویاں تھیں جبکہ سلیمان عَلَیْہِ السَّلَام کی سینکڑوں بیویاں تھیں ۔
یہودیت کے اندر تعدد ِ ازواج پر عمل جاری رہا یہاں تک کہ ان کے ایک مذہبی رہنما ’’ گِرشم بن یہودہ (955-1030 CE) ‘‘
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع