دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Islam kay Bunyadi Aqeeday | اِسلام کے بُنیادی عَقیدے

book_icon
اِسلام کے بُنیادی عَقیدے

بالا بیماریوں سے شراب نوشی نہ کرنے والے مسلمان بچ جاتے ہیں ۔

 اسلام میں عورت کا مقام

سوال:  کیا اسلام عورت پر ظلم کرتا ہے؟

جواب: اس سوال کا جواب دینے سے پہلے ضروری ہے کہ اسلامی تعلیمات اور بعض مسلمانوں کے عمل میں فرق کیا جائے،  اگرچہ ایسا ممکن ہے کہ بعض مسلمان معاشروں میں کچھ لوگ عورت پر ظلم کرتے ہوں اور بعض اوقات ایسا ہوتابھی ہے لیکن اس سے اُن لوگوں کے مقامی رَسم و رَواج کا ظہور ہوتا ہے،  یہ اسلامی تعلیمات کا اثر نہیں ہوتا کیونکہ اسلامی تعلیمات کے مطابق عورت کو جو تحفظ اور جو مقام دیا گیا ہے وہ بہت اونچا ہے،  اسلام اس بات کی توقع رکھتا ہے کہ اِس دین کے ماننے والے،  عورت کے مقام کو حفاظت کے ساتھ بلند سطح پر رکھیں اور وہ اُس کے معاشرتی مقام کی حفاظت کریں اور اس کے رُتبے کو چھوٹا کرنے کی ہر ساز ش کو ناکام بنائیں ،  اسلام اس بات کی واضح تعلیم دیتا ہے کہ عورتیں اپنی اصل یعنی انسان ہونے کے اعتبار سے مردوں کے برابر ہیں ،  سب انسان عزت،  اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے سامنے حساب و کتاب اور جزاو سزا پانے کے حوالے سے برابر ہیں ،  آج مغربی معاشرے میں عورت کو بالکل ایک جنسی چیز بنا دیا گیا ہے۔

          یہ بات کہ اسلام عورت کو دوسرے نمبر کے شہری کا درجہ دیتا ہے یا اس کا مقام مرد سے آدھا ہے یہ صرف وہم ہے اور بہت بڑی غلط فہمی ہے،  اسلام نے چودہ سو سال پہلے عورت کے مرتبے کو بہت بلند کردیا،  اُنہیں تعلیم کا حق دیا،  انہیں اپنا خاوند اختیار کرنے کا حق دیا،  اُنہیں وراثت میں حصہ ملا،  الغرض ایک سلطنت میں عورت کو مکمل شہری ہونے کا مرتبہ اسلام نے دیا،  یہ حقوق صرف جسمانی حوالے سے یا شادی کے حوالے سے ہی نہیں بلکہ اسلام کے احکام میں جو مہربانی اور محبت اور جو نرم دلی عورت کے حق کے معاملے میں بیان کی گئی ہے وہ بڑی مثالی اور واضح ہے،  مرد و عورت انسانیت کے دو بہت اہم اجزاء ہیں ، ان دونوں کے حقوق اور ذمہ داریاں اپنی اپنی جنس کے اعتبار سے متوازن،  کامل اور مکمل ہیں اگرچہ اُن کے جسمانی اور ذہنی فرق کی وجہ سے انکی ذمہ داریاں ایک دوسرے سے کئی سارے معاملات میں مختلف ہیں لیکن ہر ایک اپنی ذمہ داری کا حساب دِہ ہے اور اُسے وہ ذمہ داری احسن طریقے سے نبھانی ہے،  اسلامی قانون کے مطابق جب عورت کی شادی ہو جاتی ہے تو وہ اپنا پہلا نام بدلنے پر مجبور نہیں کی جاسکتی اُسے اس بات کی پوری اجازت ہے کہ وہ اپنا منفرد نام اور پہچان باقی رکھے۔

          اسلامی شادی میں دولہا دلہن کو مہر دیتا ہے،  اس کی مالکہ دلہن ہی ہے ،  وہ دلہن کے باپ کے لیے نہیں ہوتا،  وہ اس کی ذاتی ملکیت ہے چاہے تو وہ اپنے پاس رکھے اور چاہے تو کسی کاروبار میں اس کو لگادے لہٰذاکسی مرد رشتہ دار کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ عورت پر زبردستی کرے کہ وہ اس پیسے کے ساتھ کیا کرے اور کیا نہ کرے، البتہ عورت کے فائدے کیلئے اُسے مشورہ دے سکتاہے۔ 

          قرآنِ پاک نے یہ ذمہ داری مرد پر ڈالی ہے کہ وہ اپنی ساری رشتہ دار عورتوں کی حفاظت کرے اور ان کے نان و نفقہ کا انتظام کرے،  اِس کا مطلب یہ ہے کہ اگرچہ عورت کی اپنی جائیداد موجود ہو لیکن یہ مرد کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی بیوی اور اپنے پورے خاندان کی دیکھ بھال کرے اور اُن کے نان و نفقہ اور عزت کا خیال رکھے۔

          عورت پر یہ لازم نہیں ہے کہ وہ اپنا پیسہ اپنے خاندان کے نان و نفقہ پر خرچ کرے لہٰذا یہ نظام ایسا ہے کہ جس میں عورت کو کمانے کی تکلیف سے آزاد کردیا گیاہے، ہاں اگر وہ کام کرنا چاہے تو کرسکتی ہے جبکہ حالات اس کا تقاضا کریں ،  مگر اس میں شرط یہ ہے کہ وہ ان اصولوں کی پابندی کرے جو شریعت مطہرہ نے عورت کے کام کرنے کے حوالے سے فراہم کیے ہیں ۔ شیخ طریقت،  امیر اہلسنّت بانی

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن