30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہوگئے، شراب انسانی دماغ کے مرکزی نظام کو نقصان پہنچاتی ہے، یہی وجہ ہے کہ نشے سے دُھت انسان ایسی موج اور مستی کا اظہار کررہا ہوتا ہے جو کہ اس کی اُس حالت سے بہت مختلف ہوتی ہے جس حالت میں اُس پر نشے کا اثر نہیں ہوتا، شراب پینے کا عادی جب نشے میں دُھت ہوتو اچھی طرح سے چل بھی نہیں سکتا، وہ شاید اپنے کپڑوں میں پیشاب بھی کردے حتّٰی کہ ایسے لوگ نشے کی حالت میں سخت بے حیائی کا کام بھی کرڈالتے ہیں نیزاِس طرح کے لوگ اپنی ماؤں ، بہنوں اور بیٹیوں سے بھی بدکاری کرلیتے ہیں ۔
شراب کو اسلام کے اندر منع کرنے کے کئی اسباب ہیں ، لاکھوں لوگ اس کی وجہ سے ہر سال مرتے ہیں ، شراب کی وجہ سے بیماریاں پیدا ہوتی ہیں جن کی لسٹ مندرجہ ذیل ہے:
(1) Cirrhosis of the liver.
(2) Various forms of cancer.
(3)Esophagitis, gastritis and pancreatitis.
(4) Cardiomyopathy, hypertension, angina and heart attacks.
(5) Strokes, apoplexy, fits and different types of paralysis. (6) Peripheral neuropathy, cortical atrophy, cerebellar atroph. (7)Anemia, jaundice and platelet abnormalities.
(8) Recurrent chest infections, pneumonia, emphysema and pulmonary tuberculosis.
(9) During pregnancy, alcohol consumption has a severe detrimental effect on the fetus,causing "Fetal alcohol syndrome" .
بہت سارے لوگ اس بات کا دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ اپنے آپ کو قابو میں رکھتے ہیں اور وہ ایک حد کے اندر پیتے ہیں اور نشے کی حد سے پہلے رُک جاتے ہیں لہٰذااُن پر نشہ نہیں چڑھتالیکن حقیقت یہ ہے کہ ہر شراب کا عادی سوشل ڈِرِنکر یعنی کبھی کبھی شراب نوشی کرتا ہے، کوئی بھی شروع ہی سے اس نیت سے شراب نہیں پیتا کہ وہ شراب کا عادی بن جائے گا، یہ عادت بس پڑ جاتی ہے، جو یہ سوچ کر شروع کرتا ہے کہ کبھی کبھی پیؤں گا یا ہلکی پھلکی پیؤں گا بالآخر وہی شخص شراب کا پکا عادی بن جاتا ہے لہٰذا یہ بہت بڑا دھوکا ہے کہ میں تو تھوڑی سی پیوں گا یا حدِ نشہ سے کم پیوں گا یا کبھی کبھار پیوں گا۔
اللّٰہ تعالیٰ بہت حکمت والا ہے، یہ اس کی حکمت کے تقاضے ہیں کہ اس نے شراب کو حرام کرکے انسانی معاشرے کو انفرادی اور اجتماعی طور پر تحفظ فراہم کیا ہے، اسلام کے اندر شراب کا استعمال مطلقاً حرام اور ناجائز ہے لہٰذا کبھی کبھار پینا یا حدِ نشہ سے کم پینے کی بھی گنجائش اسلام میں نہیں ہے کیونکہ بالآخر اس طرح کے لوگ پکے پکے شراب نوشی کے عادی ہوجاتے ہیں ، یہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کا بہت بڑا فضل ہے اور یہ چیز بھی نوٹ کرنے کے قابل ہے کہ مسلمان ایسی چیزوں سے رُکتے ہیں جنہیں اللّٰہ تعالیٰ نے منع فرمایا اس کی بڑی وجہ یہ نہیں ہوتی کہ ان چیزوں کے نقصانات ہیں بلکہ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہوتی ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ نے اس سے منع فرمایا ہے یعنی مسلمانوں کا مُنْتَہائے نظر اللّٰہ تعالیٰ کے حکم کی اِطاعت ہوتی ہے اور اس حکم کے ماننے میں اُنہیں یہ دنیاوی فائدے بھی حاصل ہو جاتے ہیں کہ مذکورہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع