30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تمام انبیاءعَلَیْہِمُ السَّلَام کو مانتے ہیں ، یہ مسلمانوں کے ایمان میں بنیادی بات ہے کہ وہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے ہر نبی اور ہر رسول کو مانیں ، مسلمان عیسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام کی بڑی عزت اور بڑا احترام کرتے ہیں اور ان کے دوبارہ تشریف لانے کے منتظر ہیں ، قرآن مجید کے مطابق عیسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام کو نہ سولی دی گئی نہ اُنہیں قتل کیا گیا بلکہ وہ آسمانوں میں اُٹھالیے گئے۔ ([1])
مسلمان اس بات کا بھی عقیدہ رکھتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام بہت اونچی شانوں و الے انبیاءعَلَیْہِمُ السَّلَام میں سے ہیں ، لیکن نہ وہ خدا ہیں نہ خدا کے بیٹے اور حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام کی والدہ حضرت مریم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَابڑی صالحہ اور متقیہ خاتون تھیں ، قرآن پاک ہمیں بتاتا ہے کہ عیسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام بغیر باپ کے نشانِ قدرت کے طور پر پیدا ہوئے، اللّٰہ تعالیٰ قرآن پاک میں ارشاد فرماتاہے:
اِنَّ مَثَلَ عِیْسٰى عِنْدَ اللّٰهِ كَمَثَلِ اٰدَمَؕ-خَلَقَهٗ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَهٗ كُنْ فَیَكُوْنُ(۵۹) (پ۳، ال عمران: ۵۹)
ترجمۂ کنزالایمان: عیسیٰ کی کہاوت اللّٰہ کے نزدیک آدم کی طرح ہے اُسے مٹی سے بنایا پھر فرمایا ہوجا وہ فوراً ہوجاتا ہے۔
بہت سارے عیسائی یہ جان کر چونک جاتے ہیں کہ مسلمان حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام کو اللّٰہ تعالیٰ کے عظیم انبیاء اور رسولوں میں شمار کرتے ہیں ، مسلمانوں کو یہ تعلیم دی جاتی ہے کہ عیسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام سے محبت کریں اور کوئی شخص اس وقت تک مسلمان نہیں ہوسکتا جب تک کہ وہ اس چیز کو نہ مان لے کہ حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام بغیر باپ کے پیدا ہوئے اور مسلمان اِن چیزوں میں اس لیے یقین نہیں رکھتے کہ انہوں نے یہ چیزیں انجیل سے پڑھی ہیں بلکہ قرآنِ پاک ان چیزوں کا عیسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام کے بارے میں ذکر کرتا ہے لیکن مسلمان ہمیشہ اس بات کی تاکید کرتے ہیں کہ عیسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام کے معجزے ہوں یا دیگر انبیاءعَلَیْہِمُ السَّلَام کے معجزے ہوں ، وہ اللّٰہ تعالیٰ کی مرضی اور اس کی رضا اور اس کے ممکن بنانے سے ظاہر ہوتے ہیں ۔
مسلمان اس بات کی سختی سے تردید کرتے ہیں کہ اللّٰہ تعالیٰ کا کوئی بیٹا ہے اور قرآنِ پاک تاکیداً اس بات کو بیان کرتا ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ کا کوئی بیٹا نہیں ہے۔
اِس بات کی وضاحت کردینا بھی ضروری ہے کہ جب مسلمان انجیل کی کچھ باتوں پر تنقیدکرتے ہیں تو اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ وہ عیسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام پر حملہ کررہے ہیں بلکہ عیسائیوں کے عقیدے مثلاً تثلیث وغیرہ پرتنقیدکرتے ہیں کیونکہ یہ چیزیں عیسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام نے شروع نہیں کیں ، اُن کا اِن چیزوں سے کوئی تعلق نہیں اور جب مسلمان انجیل کا حوالہ دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ اللّٰہ تعالیٰ کا کلام ہے لیکن اس میں تبدیلی آگئی اور اس میں بہت سارے مقامات پر انسانوں کے الفاظ ہیں اللّٰہ تعالیٰ کے الفاظ نہیں ہیں ، تو اِس تنقید کا مطلب ہر گزیہ نہیں ہے کہ مسلمان عیسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام پر حملہ کرتے ہیں ۔
مسلمان یہ یقین رکھتے ہیں کہ آج کے دور میں جو انجیل موجود ہے اس میں کہیں کہیں چھوٹے چھوٹے حصے موجود ہیں جو اللّٰہ تعالیٰ کا اصلی کلام ہیں اور اس میں بہت سارا حصہ ایسا ہے کہ جس میں انسانوں کی دخل اندازی ہوئی اور بہت بڑی تعداد آیات کی وہ ہے جو کہ تبدیل ہوچکی ہیں اور انجیل مقدس کے مختلف ترجمے جو لوگوں کے سامنے موجود ہیں وہ ایک دوسرے سے بہت مختلف ہیں ، مسلمان اس بات کا یقین رکھتے ہیں کہ اصل انجیل وہ ہے جو عیسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام کی تعلیمات ہیں ، وہ نہیں جو بعد کے لوگوں نے مثلاً پول (PAUL) یا دوسرے گرجا گھروں کے لیڈروں نے لکھی بلکہ اسلام دراصل اُسی توحید پر زور دیتا ہے کہ جس کی اشاعت حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام نے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع