30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہیں اس لیے ان میں مماثلت ہے اور اُن سب میں توحید کا بنیادی پیغام مشترک ہے۔
سوال: قرآن دوسری نازل شدہ کتابوں سے کیسے مختلف ہے؟
جواب: ہر مسلمان کا یہ بنیادی عقیدہ ہے کہ وہ اللّٰہ تعالیٰ کے سارے نبیوں اور رسولوں پر ایمان رکھے اور جو کچھ اللّٰہ تعالیٰ نے نازل فرمایا اس کو دل سے تسلیم کرے اگر چہ بعض آسمانی کتابیں اب بھی موجود ہیں لیکن اپنے اصلی الفاظ کہ جن میں وہ نازل ہوئی تھیں اُس پر باقی نہ رہیں ، یعنی انسانوں نے اس کے اندر تبدیلیاں کر ڈالیں ، قرآن پاک ہی اللّٰہ تعالیٰ کا ایسا کلام ہے کہ جس کی حفاظت کا ذمہ اللّٰہ تعالیٰ نے خود لیا ہے اور وہ ہر طرح کی تبدیلی سے محفوظ ہے، اللّٰہ تعالیٰ قرآن کریم میں ارشاد فرماتا ہے:
اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَ اِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ (۹) (پ۱۴، الحجر: ۹)
ترجمۂ کنزالایمان: بیشک ہم نے اتارا ہے یہ قرآن اور بیشک ہم خود اس کے نگہبان ہیں ۔
حضور اکرمصَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے تشریف لانے سے پہلے جو آسمانی کتابیں تھیں جیسا کہ تورات اور انجیل وہ اُس وقتٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍ لکھی گئیں جب وہ انبیاء وصال فرما گئے جن پر یہ کتابیں نازل ہوئیں اور اس کے متضاد پورے کا پورا قرآن پاک حضورصَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ظاہری زندگی میں مکمل ہوچکا تھا، کھجور کے پتوں پر، چمڑے پراور ہڈیوں پر مسلمانوں نے لکھ لیاتھااور پھر اس کے ساتھ ساتھ صحابۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکی بہت بڑی تعداد ایسی تھی جنہوں نے قرآن پاک کو حفظ کرلیا تھا اور اس کے جو اصل عربی الفاظ تھے ان کو اپنے سینوں اوراپنے دل و دماغ میں محفوظ کرلیا تھا مزید یہ کہ قر آن پاک کو ہزاروں بلکہ لاکھوں مسلمانوں نے ہر دور میں خوب پڑھا، اس کو یاد کیا۔ حق یہ ہے کہ ہر آنے والے دور میں مسلمانوں کی ایک بہت بڑی تعداد قرآن پاک کو حفظ کرتی ہے اور یوں قرآن پاک کے الفاظ کی حفاظت ہوتی رہتی ہے اور کوئی مذہبی یا غیر مذہبی کتاب دنیا میں ایسی نہیں ملے گی جس کو اس طرح لکھا گیا ہو، محفوظ کیا گیا ہو اور نسل در نسل وہ ایک قوم کے اندر بہت بڑی تعداد میں حفظ کی جاتی رہی ہو۔
قرآن پاک اس بات کو پیش کرتا ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ کے جتنے بھی نبی ہیں وہ اخوت کے لحاظ سے ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں ، سارے کے سارے نبوت کے مشن میں ایک جیسے ہیں اور وہ جو بنیادی پیغام تھا وہ سب نے انسانوں تک پہنچایا، خاص کر جو چیز سب میں مشترک رہی وہ یہ ہے کہ صرف اللّٰہ واحد کی عبادت کی طرف لوگوں کو بلایا، لہٰذا اُن سب کے پیغام کا مقصد ایک ہی تھا اور وہ اللّٰہ تعالیٰ کی ذات کی پہچان ہے اگر چہ دوسری کتابیں اسلام کی بنیاد ی مذہبی باتوں میں مماثلت رکھتی ہیں لیکن وہ خاص طبقوں اور خاص لوگوں کے لیے نازل کی گئی تھیں لہٰذا اُن کتابوں کے اصول و قواعد اُنہی لوگوں کے لیے ہیں جن کے لیے وہ کتابیں نازل ہوئیں ، دوسری طرف دیکھا جائے تو قرآن پاک ساری انسانیت کے لیے نازل ہوا، کسی خاص قوم کے لیے نازل نہ ہوا ، اللّٰہ تعالیٰ قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے:
وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا كَآفَّةً لِّلنَّاسِ بَشِیْرًا وَّ نَذِیْرًا وَّ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ (۲۸) (پ۲۲، سبا: ۲۸)
ترجمۂ کنزالایمان: اور اے محبوب ہم نے تم کو نہ بھیجا مگر ایسی رسالت سے جو تمام آدمیوں کو گھیرنے والی ہے خوشخبری دیتا اور ڈر سناتا لیکن بہت لوگ نہیں جانتے۔
سوال: کیا یہ سچ ہے کہ مسلمان عیسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام اور دوسرے پیغمبروں کو نہیں مانتے؟
جواب: اگر کوئی مسلمان عیسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام یا کسی بھی نبی پر ایمان نہ رکھے تو وہ مسلمان ہی نہیں ، سب مسلمان عیسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام اور دیگر
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع