30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مزید یہ کہ حضرت محمدصَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ظاہراً پڑھے لکھے نہ تھے اس کا معنی یہ ہے کہ آپصَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے کسی ایسے تعلیمی نظام کے تحت علم حاصل نہیں کیا جو اُس وقت مکہ مکرمہ اور اس کے اَطراف میں معروف تھا لیکن بے شک اللّٰہ تعالیٰ نے آپ کو علم سکھایا، قرآنِ پاک بیان کرتا ہے:
وَ عَلَّمَكَ مَا لَمْ تَكُنْ تَعْلَمُؕ- (پ۵، النساء: ۱۱۳)
ترجمۂ کنزالایمان: اور تمہیں سکھادیا جو کچھ تم نہ جانتے تھے ۔
اگر حضرت محمدصَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکسی کے پاس تحصیل علم کے لیے گئے ہوتے تو آپصَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ہم عصر لوگ جو آپصَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے مخالف تھے ضرور اس بات کا چرچا کرتے اور اِس سے پردہ اٹھاتے لیکن اس بات کی کوئی شہادت موجود نہیں ہے کہ مخالفین نے ایسا کیا ہو، اس میں شک نہیں کہ کئی لوگوں نے حضورصَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے پیغام کو رد کیا جیسا کہ لوگ پچھلے انبیاء عَلَیْہِمُ السَّلَام کے پیغام کو رد کرتے آئے ہیں لیکن کسی نے حضرت محمدصَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے پیغام کو رد کرنے کی یہ وجہ بیان نہیں کی کہ انہوں نے کہیں سے پڑھا ہے یا سیکھ کر آتے ہیں اور پھر ہم کواِس دعوی کیساتھ بتاتے ہیں کہ یہ اللّٰہ تعالیٰ کا کلام ہے۔
اس بات کو نوٹ کرنا بھی دلچسپی سے خالی نہ ہوگا کہ اگرچہ قرآن مجید کوئی شعر و شاعری کی کتاب نہیں ہے لیکن قرآن کے نزول کے بعد عربوں کا میلان شعرو شاعری کی طرف کم ہوگیا، یہ کہا جاسکتا ہے کہ قرآن مجید عربی ادب کا شاہکارہے اور حضرت محمدصَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے دشمنوں نے یہ جان لیا تھا کہ وہ قرآن کی فصاحت و بلاغت کا مقابلہ کرنے میں ناکام ہوچکے ہیں ، قرآن سے اچھا کلام پیش کرنا تو دور کی بات، قرآن کی ایک چھوٹی سی سورت کے برابر بھی کچھ نہ پیش کرسکے۔
اسلام پرتنقید کرنے والے کچھ عیسائی اس بات کا دعویٰ کرتے ہیں کہ حضرت محمد صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمقران کے بذاتِ خود مصنف تو نہیں ہیں لیکن اُنہوں نے یہودیوں اور عیسائیوں کی کتابوں سے نقل کرکے قرآن تیار کیا حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ حضرت محمدصَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا کسی یہودی یا عیسائی عالم کے ساتھ کوئی رابطہ نہ تھا، تاریخ اس بات کی شہادت دیتی ہے کہ آپصَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اعلانِ نبوت سے قبل صرف تین سفر کیے، چھ سال کی عمر میں آپصَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّما پنی امی حضور سیدتنا آمنہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے ساتھ مدینہ تشریف لے گئے۔اور بارہ سال کی عمر مکمل ہونے سے پہلے آپصَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنے چچا ابو طالب کی معیت میں شام کا ایک کاروباری سفر کیا اور پھر اپنی پہلی شادی سے پہلے جب آپصَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی عمر پچیس سال کی تھی حضرت خدیجۃ الکبریٰ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَاکے ایک تجارتی قافلے کو شام لے گئے۔ ([1])
ایک صاحبِ علم عیسائی شخص جس کو آپصَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمجانتے تھے وہ ایک بوڑھا اور نابینا شخص تھا جس کا نام تھا وَرَقہ بن نوفل، وہ حضرت بی بی خدیجۃ الکبریٰ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا کا رشتے دار تھا، وہ اپنا پرانا مذہب چھوڑ کر عیسائیت میں داخل ہوا تھا اور انجیل کی بڑی مہارت رکھتا تھا، حضورصَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماُس سے صرف دوبار ملے، پہلی مرتبہ اعلانِ نبوت سے تھوڑا سا وقت پہلے ([2]) اور دوسری مرتبہ حضور صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمورقہ بن نوفل سے اس وقت ملے جب آپصَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر پہلی وحی نازل ہوئی، ([3])
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع