30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
زمانۂ جاہلیت اور جانوروں کا عِلاج
انسانوں کے عِلاج کی طرح جانوروں کے عِلاج کا عمل بھی پُرانے زمانے سے جاری وساری ہے۔ چنانچہ اہلِ عرب کی تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ اسلام کی آمد سے پہلے بھی ان میں ایسے اَفراد موجود تھے، جو جانوروں کے عِلاج میں مہارت رکھتے اور ان کے لئے دوائیں تجویز کرتے تھے، انہیں عربی میں ”بیطار“ کہا جاتا تھا اور ان کا ذکر زمانۂ جاہلیت کے عرب شعرا کی شاعری میں بھی ملتا ہے۔ یہ لوگ جانوروں کو پہنچنے والے زخموں کا عِلاج کرتے تھے اور ان کا طریقۂ عِلاج یہ تھا کہ زخموں کو داغ دیتے (گرم لوہے کے ساتھ نشان لگا دیتے) تھے۔اسی طرح خارش والے اونٹوں کا عِلاج کرنے کے لئے یہ اس پر ”تارکول (Tar)“ کی مالش کرتے تھے ۔ تارکول مَلے ہوئے اونٹ کو عربی میں ”مقطور“ اور اونٹنی کو ”مقطورہ“ کہا جاتا تھا۔ تارکول کی ایک قسم ”ہِناء“ کے ذریعے خارش اور دیگر بیماریوں کا عِلاج کیا جاتا تھا۔ یونہی ”نِفْط (Petroleum) “ سے بھی مختلف جلدی امراض کا عِلاج کرتے تھے۔ اونٹوں کو لگنے والے ایک مرض کا نام ”دَبَرَہ“ تھا جو اونٹ کے کوہان میں ظاہر ہوتا اور اس کے کوہان کو کھانا شروع کر دیتا یہاں تک کہ اس کا کوہان کٹ کر گرجاتا یا پھر وہ اس کی پیٹھ کے مہروں تک اتر جاتا، جِس سے جانور ہلاک ہوجاتا۔ اگر اس مرض کے شکار اونٹ کا کوہان کُھلا رہ جاتا تو پرندے اس پر بیٹھ کر چونچ مارتے رہتے اس تکلیف اور اذیت کی وجہ سے جانور ہلاک ہوجاتا تھا۔ شاید اسی وجہ سے زمانہ جاہلیت کے لوگ ”نیل کنٹھ (Indian Roller)“ اور بعض دوسرے پرندے جو اونٹ کی کوہان پر بیٹھتے تھے، اُنہیں منحوس سمجھتے تھے۔(1)
زمانۂ جاہلیت یعنی اسلام سے پہلے کے زمانے میں ویٹرنری کی مہارت رکھنے والوں میں ایک مشہور نام ”عاص بن وائل“(2)کا ہے جو اپنے دور میں گھوڑوں اور اونٹوں کا عِلاج کرنے میں ماہر
[1] ... تواریخ عرب کی مختلف کتب سے ماخوذ
[2] ...یہ حضرت عَمرو بن عاص رضی اللہُ عنہ کا باپ تھا لیکن کافر تھا ، اسی کے رد میں سورۂ کوثر نازل ہوئی تھی ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع