30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مدنی انقلاب برپا ہو گیا نمازوں کی پابندی اور سابقہ گناہوں سے توبہ نصیب ہوگئی ۔ مدنی چینل دیکھنے کی برکت سے میرے گھر والوں نے مجھے بخوشی داڑھی سجانے کی اجازت دے دی ۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ مَدَنی چینل کی برکت سے نہ صرف ہمارے سب گھر والے امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ سے مرید ہو گئے ہیں بلکہ والدِمحترم توہر ماہ تین دن کے مَدَنی قافلے کے مسافر بھی بنتے ہیں ۔
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد
بابُ المدینہ (کراچی) کے علاقہ کیماڑی میں مُقیم ایک اسلامی بھائی کے بیان کا لُبِّ لُباب ہے : عرصہ درازسے میں گناہوں کی مرض میں مبتلا تھا، بات بات پر گالی گلوچ ، لڑائی جھگڑا اور دنگا فساد جیسی ناپسندیدہ حرکتیں میری عادت میں شامل ہو چکی تھیں اور فلمیں ڈرامے دیکھنے ، گانے باجے سننے کا شوق تو جنون کی حد تک تھا۔ میری اصلاح کی سبیل کچھ اس طرح بنی کہ میں ایک بنگلے پر بطور ڈرائیور ملازمت کرتا تھا، ایک دن کام سے فارغ ہوکرT-Vروم میں بیٹھ گیا۔ وہاں مجھے بذریعہ مَدَنی چینل شیخِ طریقت، امیرِاہلسنّت، بانی ٔدعوت اسلامی حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطّارؔ قادِری رَضَویدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا سنّتوں بھرا بیان سننے کی سعادت حاصل ہوئی تو میں نے اس بیان کو توجہ سے سنا جس نے مجھے سرتاپا ہلا کر رکھ دیا۔ مجھے گناہوں بھری زندگی گزارنے پر نَدامت ہونے لگی میں نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں سچے دل سے توبہ کی اورراہِ سنّت کو اپنا لیا۔جب امیرِاہلسنّتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے 30دن کے تربیتی اعتکاف کی ترغیب دلائی تو آپدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے میں نے 30دن کے تربیتی اعتکاف کی نیت کرلی۔ تادمِ تحریراَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ اس نیت کوعملی جامہ پہنانے کے لئے دعوتِ اسلامی کیعالمی مَدَنی مرکزفیضان مدینہ باب المدینہ(کراچی) میں نفلی اعتکاف کی برکتیں حاصل کر رہا ہوں ۔اِنْ شَآءَ اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ اعتکاف سے فارغ ہوتے ہی میں ہاتھوں ہاتھ یکمشت 12ماہ کے مَدَنی قافلے میں بھی سفر کروں گا۔
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد
بابُ المدینہ(کراچی ) کے ایک اسلامی بھائی کے بیان کاخُلاصہ ہے : دعوتِ اسلامی کے مشکبارمدنی ماحول سے وابستہ ہونے سے قبل میں مذہبِ مہذَّب اہلسنّت وجماعت سے دور بدمذہبوں کی صحبت میں رہا کرتا تھا اور انہی کے عقائد کو درست سمجھتا تھا۔میں ایک دن ٹی وی کے سامنے اپنا مطلوبہ چینل تلاش کرنے میں مشغول تھاکہ اچانک مَدَنی چینل کے نام سے ایک چینل گزرانہ کوئی ساز اورنہ ہی کوئی ایڈورٹائزنگ تو میں نے اسلامی چینل پا کر اس کو دیکھنا شروع کر دیا۔اس وقت مَدَنی چینل پرمَدَنی مذاکرہ نشر ہورہاتھااورشیخِ طریقت، امیرِاہلسنّت، بانیٔ دعوتِ اسلامی حضرت علّامہ مولانا ابوبلالمحمد الیاس عطّار قادری رَضَوی ددَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ غیبت کے متعلق کیے گئے سوالات کے جوابات بڑے عام فہم انداز میں بیان فرما رہے تھے۔الفاظ کی چاشنی میرے دل میں ایسی بیٹھی کہ دل پر جمی سیاہی اترتی چلی گئی حتّی کہ میں نے ہاتھوں ہاتھ اپنے باطل عقائد سے توبہ کی اوریہ نیت کی کہ اِنْ شَآءَاللہ عَزَّوَجَلَّ اس سال رَمَضانُ المبارک کی مبارک ساعتوں میں 30دن کا اعتکاف فیضانِ مدینہ میں کروں گا۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہِ عَزَّ وَجَلَّیہ بیان دیتے وقتمیں اپنی اُس نیت کو عملی جامہ پہناتے ہوئے دعوتِ اسلامی کے عالمی مدنی مرکزفیضانِ مدینہ میں 30دن کا تربیتی اعتکاف کی سعادت حاصل کر رہا ہوں اورآپدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا مرید بھی ہو چکا ہوں ۔
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد
دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی ادارے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ 561 صَفحات پرمشتمل کتاب’’ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت‘‘صَفْحَہ277سے عرض، ارشاد کا اقتِباس مُلاحظہ فرمایئے اوراپنی آخِرت کی بہتری کی صورت بنایئے۔
عرض : اکثرلوگ بدمذہبوں کے پاس جان بوجھ کربیٹھتے ہیں ۔ان کے لئے کیاحکم ہے؟
ارشاد : (بدمذہبوں کے پاس بیٹھنا)حرام ہے اور بدمذہب ہوجانے کاا ندیشہ کامل اور دوستانہ ہو تو دین کے لیے زہرِقاتل۔رسول اللّٰہ صلَّی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلَّم فرماتے ہیں : اِیَّاکُمْ وَاِیَّاھُمْ لَایُضِلُّوْنَکُمْ وَلَایَفْتِنُوْنَکُمْ یعنیانھیں اپنے سے دورکرواوران سے دور بھاگو وہ تمہیں گمراہ نہ کردیں کہیں وہ تمہیں فتنے میں نہ ڈالیں ۔(مقدّمہ صَحیح مُسلِم حدیث۷ص۹) اوراپنے نفس پر اعتماد کرنے والا بڑے کذّاب (یعنی بَہُت بڑے جھوٹے ) پر اعتماد کرتا ہے، ’’اِنَّھَااَکْذَبُ شَیْئٍ اِذَاحَلَفَتْ فَکَیْفَ اِذَاوَعَدَتْ(نفس اگرکوئی بات قسم کھا کر کہے تو سب سے بڑھ کرجھوٹاہے نہ کہ جب خالی وعدہ کرے )صحیح حدیث میں فرمایا : جب دجّال نکلے گا، کچھ (افراد)اسے تماشے کے طورپر دیکھنے جائیں گے کہ ہم تواپنے دین پر مُستقیم(یعنی قائم)ہیں ، ہمیں اس سے کیانقصان ہوگا؟وہاں جاکروَیسے ہی ہو جائیں گے۔ (سُنَنِ ابوداوٗدج۴ص۱۵۷حدیث۴۳۱۹)
حدیث میں ہے نبی صلَّی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلَّم نے فرمایا : جوجس قوم سے دوستی رکھتاہے اُس کا حَشراسی کے ساتھ ہوگا۔(اَلْمُعْجَمُ الْاَوْسَط لِلطّبَرانی ج۵ص۱۹حدیث۶۴۵۰)
اللہ عَزَّ وَجَلَّ فرماتاہے :
وَ مَنْ یَّتَوَلَّهُمْ مِّنْكُمْ فَاِنَّهٗ مِنْهُمْؕ (پ۶، المائدہ : ۵۱)
ترجَمۂ کنزالایمان : تم میں سے جوکوئی ان سے دوستی رکھے گاتووہ انہیں میں سے ہے۔
ایک بُزُرگ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : اَلْاَعْدَائُ ثَلٰثَۃٌ عَدُوُّکَ وَ عَدُوُّ صَدِیْقِکَ وَصَدِیْقُ عَدُوِّکَ(دشمن تین ہیں : ایک تیرادشمن، ایک تیرے دوست کادشمن اور ایک تیرے دشمن کا دوست )۔
(المختصرالمحتاج الیہ للذہبی ص۱۲۵)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع