30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
پیدانہ ہوں۔ چنانچہ صَدرُ الشَّریعہ، بَدرُ الطَّریقہ حضرتِ علّامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں:گوشت یا جو کچھ غذا کھائی جاتی ہے وہ جُزوِ بدن ہو جاتی ہے اور اس کے اَثرات ظاہِر ہوتے ہیں اور چونکہ بعض جانوروں میں مذموم صِفات پائے جاتے ہیں ان جانوروں کے کھانے میں اندیشہ ہے کہ اِنسان بھی ان بُری صفتوں کے ساتھ مُتَّصِفْ ہو جائے لہٰذا انسان کو ان کے کھانے سے منع کیا گیا۔([1])
مُفَسِّرِ شَہِیر، حکیم الاُمَّت مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں: غذا کا اثر بھی دل پر پڑتا ہے۔ سؤر کھانا شریعت نے اسی لے حرام فرمادیا کہ اس سے بے غیرتی پیدا ہوتی ہے کیونکہ سؤر بے غیرت جانور ہے اور سؤر کھانے والی قومیں بھی بے غیرت ہوتی ہیں جس کا تجربہ ہورہا ہے اگر چیتے یا شیر کی چربی کھائی جائے تو دل میں سختی اور بربریت پیدا ہوتی ہے چیتے اور شیر کی کھال پر بیٹھنا اسی لئے منع ہے کہ اس سے غرورپیدا ہوتا ہے، غرضیکہ ماننا پڑے گا کہ غذا اور لباس کا اثر دل پر ہوتا ہے تو اگر کافروں کی طرح لباس پہناگیا یا کفار کی سی صورت بنائی گئی تو یقیناً دل میں کافروں سے محبت اور مسلمانوں سے نفرت پیدا ہوجاوے گی غرضیکہ یہ بیماری آخر میں مہلک ثابت ہوگی اس لئے حدیثِ پاک میں آیا ہے:”مَنْ تَشَبَّہَ بِقَوْمٍ فَہُوَ مِنْہُمْ([2]) جو کسی دوسری قوم سے مشابہت پیدا کرے وہ ان میں سے ہے۔“([3])
جانوروں کی کھال پر بیٹھنے کی تاثیر
عرض: کیاجانوروں کی کھال پر بیٹھنے سےبھی انسان کی طبیعت پر اثر ہوتاہے ؟
ارشاد:جی ہاں!گوشت کی طرح ان کی کھال پر بیٹھنے کی بھی تاثیر ہوتی ہے اسی لیے ”حدیثِ پاک میں درندوں کی کھال کے بنے ہوئے بچھونے استعمال کرنے سے منع فرمایا گیا ہے ۔“([4]) نیز آپ صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نےچیتے کی کھال کی زین پرسُوارہونے سے بھی منع فرمایا ہے۔([5])
مُفَسِّرِ شَہِیر، حکیم الاُمَّت مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں: اس زمانہ میں متکبر لوگ فخر کے طور پر چیتے کی کھال کی زین گھوڑے پر
ڈال کر سوار ہوتے تھے یہ طریقہ متکبر ہی کا تھا،نیز چیتے اور شیر کی کھال پر سواری دل میں تکبر اورسختی پیدا کرتی ہے اس لیے اس سے منع فرمادیا گیا۔ ([6])
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!درندوں کی کھال کے بنے ہوئے بچھونے وغیرہ استعمال کرنے سے اجتناب کیجیے کہ یہ متکبرین کا طریقہ ہے اور اس سے دل میں سختی پیدا ہوتی ہے ۔ اگر کھال استعمال کرنی ہی ہے تو بکری اور مینڈھے کی کھال استعمال کیجیے کہ اس سے
[1] بہارِشَرِیعت، ج۳، ص۳۲۳
[2] معجمِ اَوْسَط،ج۲،ص۱۵۱، حدیث ۸۳۲۷،دارالفکر بیروت
[3] اسلامی زندگی ،ص۸۶،مکتبۃ المدینہ باب المدینہ کراچی
[4] تِرمِذی، ج۳ ،ص۲۹۹، حدیث ۱۷۷۷ ،دار الفکربیروت
[5] مُصَنَّف عَبْدُ الرَّزَّاق ،ج۱ ،ص۵۴ ،حدیث ۲۲۰، دارالکتب العلمیة بیروت
[6] مِرْآۃُ المناجیح ،ج۵،ص ۵۰۰،ضیاء القرآن پبلی کیشنز مرکز الاولیا لاہور
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع