30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نہیں۔لقطہ کو اپنے تصرف(استعمال)ميں لانے کے ليے اُٹھا یا پھر نادم ہوا کہ مجھے ایسا کرنا نہ چاہیے اور جہاں سے لایا وہیں رکھ آیا تو بری الذمہ نہ ہوگا یعنی اگر ضائع ہوگیا تو تاوان دینا پڑے گا بلکہ اب اس پر لازم ہے کہ مالک کو تلاش کرے اور اُس کے حوالہ کردے اور اگر مالک کو دینے کے ليے لایا تھا پھر جہاں سے لایا تھا رکھ آیا تو تاوان نہیں۔ ([1])
عرض:لقطہ کو اُٹھانے کے بعدمالک کو کیسے تلاش کرے اور مالک نہ مل سکے تو کیا کرنا چاہیے؟
ارشاد:اگر کسی نے لقطہ(گری پڑی چیز کو )اٹھا لیا تو اب اس پر لازم ہے کہ بازاروں ، شارعِ عام اور لوگوں کے مجمعوں وغیرہ میں اتنے دنوں تک اعلان کرے کہ غالب گمان ہو جائے کہ اب اس کا مالک اسے تلاش نہ کرتا ہو گا۔ فقۂ حنفی کی مشہور ومعروف کتاب عالمگیری میں ہے : ملتقط (گری پڑی چیز اٹھانے والے)پر بازاروں اور شارعِ عام ميں اتنے زمانے تک تشہیر لازم ہے کہ ظنِّ غالب ہو جائے کہ مالک اب تلاش نہ کرتا ہوگا۔ یہ مدت پوری ہونے کے بعد اُسے اختیار ہے کہ لقطہ کی حفاظت کرے یا کسی مسکین پر صدقہ کردے۔([2]) مصارفِ خیر مثل مسجد اور مدرسہ اہل سنت ومطبع اہل سنت وغیرہ میں(بھی) صَرف ہوسکتاہے([3]) اور اٹھانے والافقیر ہے تو مذکورہ مدت تک اعلان کے بعدخوداپنے استعمال میں بھی لا سکتا ہے ۔([4])
صدقہ کرنے کے بعد مالک آجائے تو؟
عرض: لقطہ کو فقیر کے اپنے استعمال میں لانے یاصدقہ کرنے کے بعد مالک آ جائے تو پھر کیا کرے ؟
ارشاد: لقطہ کے اپنے استعمال میں لانے یا کسی مسکین پر صدقہ کرنے کے بعد اگر اس کا مالک آ جائے تواسے صدقے کو جائز رکھنے یا نہ رکھنے کا اختیار ہے اگر جائز رکھے گا تو ثواب پائے گا اور جائز نہ رکھے تو اگر وہ چیزموجود ہے اپنی چیز لے لے اور ہلاک ہوگئی ہو تو اسے اختیار ہے کہ ملتقط سے تاوان لے یا مسکین سے، جس سے بھی لے گا وہ دوسرے سے رجوع نہیں کرسکتا۔([5])
اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول میں دیگر کاموں کے لیے جہاں بہت سی مجالس بنائی گئی ہیں وہیں ایک مجلس بنام”مجلس برائے گمشدہ سامان “بھی ہے۔ سنتوں بھرے اجتماعات کے دوران لوگوں کی گمشدہ اشیاء ملنے پر اسلامی بھائی وہاں جمع کرواتے ہیں پھر مالکان اپنی گمشدہ چیز کی علامات بتاکر وہاں سے وصول کر لیتے ہیں۔اسی طرح اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ دعوتِ اسلامی کے مدنی مراکز میں بھی یہ مجالس قائم ہیں۔
عرض:کیا بے قیمت چیز کابھی مالک تلاش کرنا پڑے گا؟
ارشاد:ایسی معمولی چیز جس کے پھینک دینے کا عُرف ہو مثلاً رَسی یا لکڑی کاٹکڑا وغیرہ تو ایسی چیزوں کواُٹھا کر اپنے استِعمال میں لاسکتے ہیں۔ حضرت علامہ ابنِ نجیممصری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں:کوئی ایسی چیز پائی جو بے قیمت ہے جیسے کھجور کی گٹھلی، اَنار کا چھلکا ایسی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع