30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول میں بُزرگوں کابہت اَدَب کیا جاتا ہے بلکہ حقیقت تویہ ہے کہ اللّٰہ ربُّ الْعزّت کی عنایت سے دعوتِ اسلامی فیضانِ اَولیاء رَحِمَہُمُ اللّٰہ ہی کی بدولت چل رہی ہے۔
عرض:وہ کون سا دِن ہے جس دن کپڑے کی کٹائی(Cutting) نہیں کرنی چاہیے؟
ارشاد: میرے آقااعلیٰ حضرت، امامِ اہلِسنّت، مجدِّدِ دین وملت مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں:منگل کے دن کپڑاقَطع نہ کیا جائے ، حضر تِ سیِّدُنامولیٰ علیُ المرتضیٰ شیر خدا کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے فرمایا: ”جوکپڑا منگل کے روز قطع کیاجائے ، وہ جلے یا ڈوبے یا چوری ہو جائے۔“([1])منگل کے دن کپڑے کاٹنا شرعاً جائزہے مگر واجب نہیں لہٰذا کپڑے سینے والے اِسلامی بھائیوں اور اِسلامی بہنوں کی خدمت میں مشورہ ہے کہ منگل کے دن کپڑے کاٹنے سے اِجتناب کرتے ہوئے کسی اور دن کا ٹ لیں ۔
عرض:بعض”ذِمہ دار“ کہلانے والے اسلامی بھائیوں تک جب مدنی مرکز کی طرف سے کوئی حکمتِ عملی(Policy) پہنچتی ہے تو وہ اس طرح اپنے ماتحت ذِمہ داران کا ذہن بناتے ہیں کہ” ٹھیک ہے،مدنی مرکز نے صحیح کہا ہے، مگرہمیں یہاں اپنے حالات کا پتا ہے،ہم تو یہاں وہی کریں گے جس کاہمیں تجربہ ہے ۔“ایساکہنے والے ذِمہ دار اسلامی بھائیوں کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں؟
ارشاد: ایساکہنے والے ذِمہ دار یقیناً غیر ذِمہ دارہیں ۔اگر بالفرض کسی علاقے میں کسی وجہ سے مدنی مرکز کی حکمتِ عملی(Policy) پر عمل کرنا ممکن نظر نہیں آتا تو اس علاقے کے ذِمہ دار کو چاہیے کہ تنظیمی ترکیب کے مطابق مدنی مرکز کو اعتماد میں لےلے اور مدنی مرکز جیسے اجازت دے اس کے مطابق عمل کرے۔ ہر ذِمہ دار کو اپنی مرضی سے کوئی حکمتِ عملی ترتیب دینے کے بجائے ہمیشہ تنظیمی ترکیب کے مطابق مدنی مرکز کی اطاعت کرتے ہوئے چلنا چاہیے ۔ اگر اس اُصول کے پابند رہیں گے تو آپ کے علاقے میں دعوتِ اسلامی کا مدنی کام مضبوط ہو گا جبکہ من مانی یا خودپسندی سے مدنی کام انحطاط کا شکار ہوجائے گا۔
عرض:لُقطہ کسے کہتے ہیں؟نیز اگر کسی کی گری پڑی چیز مثلاً گھڑی وغیرہ پائی اور اُس کو اُٹھا لیا تو اب کیا کرنا چاہیے؟
ارشاد:لُقطہ اُس مال کو کہتے ہیں جو پڑا ہوا کہیں مل جائے۔([2]) اگر کسی کی گری پڑی چیز مثلاً گھڑی وغیرہ پائی اور اُس کو اُٹھا لیا تو اب اس کی مختلف صورتیں ہیں چنانچہ صدرُ الشَّریعہ، بدرُ الطَّریقہ حضرتِ علّامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں:پڑا ہو امال کہیں ملا اور یہ خیال ہو کہ ميں اس کے مالک کو تلاش کرکے دیدوں گا تو اُٹھا لینا مستحب ہے اور اگر اندیشہ ہوکہ شاید ميں خود ہی رکھ لوں اور مالک کو نہ تلاش کروں تو چھوڑ دینا بہتر ہے اور اگر ظن غالب(یعنی غالب گمان ) ہو کہ مالک کو نہ دونگا تو اُٹھا نا نا جائز ہے اور اپنےلیے اُٹھانا حرام ہے اور اس صورت ميں بمنزلہ غصب کے ہے(غصب کرنے کی طرح ہے )اور اگر یہ ظن غالب ہو کہ ميں نہ اُٹھاؤں گا تو یہ چیز ضائع و ہلاک ہو جائے گی تو اُٹھا لینا ضرور ہے لیکن اگر نہ اٹھاوے اور ضائع ہو جائے تو اس پر تاوان
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع