30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کافر جنَّات بھی (جہنم کی آگ میں) جلائے جائیں گے ۔([1])
حضرتِ علّامہ بدرُالدّین محمود بن احمد عینیعَلَیْہِ رَحْمَۃُاللّٰہِ الغَنِیفرماتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا عبداللہابنِ عبّاس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے جِنّات کی جزا وسزا کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ارشاد فرمایا: ”ہاں!ان کے لیے ثواب بھی ہے اورعذاب بھی ہے۔“علماء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ آخرت میں کافر جِنّوں کو عذاب دیاجائے گا کیونکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کا اِرشاد ہے: النَّارُ مَثْوٰىكُمْ ([2]) ترجَمۂ کنزُالایمان: آگ تمہارا ٹھکانہ ہے۔ ([3])
بزرگوں کی نِشَسْت گاہ پربیٹھنا
عرض:بُزرگوں کی نِشَست گاہ پر بیٹھنا کیسا ہے؟
ارشاد: بُزرگوں کی نِشَست گاہ پر بیٹھنا بے اَدَبی ہے۔ یاد رکھیے !بُزرگانِ دین رَحِمَہُمُ اللّٰہُ الْمُبِین کا اَدَب بہت بڑی سعادت اور بے اَدَبی زبردست آفت ہے۔ میرے آقا اعلیٰ حضرت ،امامِ اہلِ سنت ،مجدِّدِ دین وملت مولانا شاہ امام احمد رضاخان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن مرشدکے آداب ذِکرکرتے ہوئے اِرشاد فرماتے ہیں:اس کی غَیْبَت(عدم موجودگی) میں اس کی جگہ بیٹھنا منع ہے۔ اس کے کپڑوں کی تعظیم فرض ہے۔اس کے بچھونے کی تعظیم فرض ہے۔ اس کی چوکھٹ کی تعظیم فرض ہے۔([4])
ایک استفتاء میں تصحیح و تصدیق کی غرض سے چند آداب لکھ کر بھیجے گئے جن کی سرکارِاعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحمَۃُ رَبِّ الْعِزَّتنے تائید فرمائی، انہی آداب میں یہ بھی مذکورہے :حتی الامکان ایسی جگہ نہ کھڑا ہو کہ اس کا سایہ مرشدکے سایہ پر یا اس کے کپڑے پر پڑے، اس کے مصلے (یعنی جائے نماز)پرپیر(پاؤں) نہ رکھے، مرشد کے برتنو ں کو استعمال میں نہ لائے۔([5])
فَوَائِدُ الْفوَاد میں ہے:حُضُور سیِّدی غوثُ الاعظم دستگیرعَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَدِیْر نے اپنی خانقاہ شریف کے باہر ایک شخص کوپڑا دیکھا جو انتہائی خستہ حال تھا اور اُس کے پاؤں ٹوٹے ہوئے تھے۔اُس شخص نے دُعا کی درخواست کرتے ہوئے عرض کی، کل مجھ سمیت تین اَبدال ہَوا میں اُڑتے ہو ئے جارہے تھے کہ آپ کی خانقاہ سے گزر ہوا، میرا ایک رفیق اَدَباً دائیں طرف سے اور دوسرا بائیں طرف سے گزرگیا،مجھ بدنصیب سے بے اَدَبی سَرزد ہوگئی، میں خانقاہ شریف کے اُوپر اُڑ کر گزرا اور اس بے اَدَبی کی سزا میں دھڑام سے گر پڑا۔([6]) ؎
از خدا خواہیم توفیقِ ادب
بے اَدَب مَحروم گشت از فضلِ ربّ
(یعنی ہم اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے اَدَب کی توفیق کے طلبگار ہیں کہ بے اَدَب فضلِ ربّ عَزَّوَجَلَّسے محروم ہو کر در بدر ذلیل و خوار پھرتا ہے۔)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع