30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مزاج میں نرمی اور عاجزی وانکساری پیداہوتی ہےچنانچہ دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ 1360 صَفحات پر مشتمل کتاب بہارِ شریعت (جلد اوّل) صَفْحَہ 402 پر ہے:”درندے کی کھال اگرچِہ پکالی گئی ہو ( خشک کر کے تیار کر لی گئی ہو) ،نہ اس پر بیٹھنا چاہیے ،نہ نَماز پڑھنی چاہیے کہ مزاج میں سختی اورتکبُّر پیدا ہوتا ہے، بکری اور مینڈھے کی کھال پر بیٹھنے اور پہننے سے مزاج میں نرمی اور انکسار پیدا ہوتا ہے۔“
د ِل کا خون صاف کیےبغیر سالن میں ڈالنا
عرض:مُرغی کے دِل کا خون صاف کیے بغیر سالن میں ڈال سکتے ہیں یا نہیں؟
ارشاد: مُرغی کا دل پکانا ہو تو اسے ثابت نہ پکایئے بلکہ لمبائی میں چار چِیرے لگا کر پہلے خون کو اچھّی طرح دھو کر اسے صاف کرلیجیے پھر سالن میں ڈالیے۔
ذ بیحہ کے د ِل کا خون پاک ہے یا ناپاک؟
عرض: کیا دِل کا خون ناپاک ہے؟
ارشاد:اس میں عُلما کا اختِلاف ہے یعنی بعض فُقہائے کرامرَحِمَہُمُ اللّٰہ ُ السَّلَام ذبیحہ کے دل کے خون کو پاک کہتے ہیں جبکہ بعض کے نزدیک یہ ناپاک ہے ۔ میرے آقا اعلیٰ حضرت، امامِ اہلِسنّت، مجدِّدِ دین وملّت مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن دونوں طرف کے اَقوال نَقْل کرنے کے بعد فرماتے ہیں: ’’اور ظاہر ہے نَجاست مُثْبِتِ حُرمَت ہے اور طہارت مُفیدِ حِلّت نہیں۔‘‘([1])یعنی یہ طے ہے کہ ہر ناپاک چیز کا کھانا حرام ہے مگر ہر پاک چیز کا کھانا حلال بھی نہیں۔
بَہَرحال مسئلہ مختلَفْ فِیْہ ہے اور اختِلاف دِل کے خون کے پاک ہونے اور نہ ہونے میں ہے لہٰذا اگر کوئی سالِم دل سالن میں پکالے تو اُس سالن کو ناپاک نہ کہاجائے مگر ذبیحہ کا خونِ دل ہر گز کھایا بھی نہ جائے بلکہ دل میں پکے ہوئے سیاہ رنگ کے خون کو نکال دیاجائے۔
عرض:کپُورے کھانا کیسا ہے؟
ارشاد: کپُورے کھانا مکروۂ تحریمی ہے۔اسے خُصیَہ، فَوطہ یا بَیْضَہ بھی کہتے ہیں۔یہ بکرے، بیل وغیرہ نَر (یعنی مُذَکَّر) میں نُمایاں ہوتے ہیں۔ مُرغے کا پیٹ کھول کر آنتیں ہٹائیں تو پیٹھ کی اندرونی سطح پرانڈے کی طرح سفید دو چھوٹے چھوٹے بیج نظرآئیں گے یہی کپُورے ہیں، ان کو نکال دیجیے۔ افسوس!مسلمانوں کے بعض ہوٹلوں میں دل ،کلیجی کے علاوہ بیل، بکرے کے کپُورے بھی توے پر بھون کر پیش کئے جاتے ہیں۔ غالِباً ہوٹل کی زَبان میں اس ڈِش کو ’’ کَٹا کَٹ ‘‘کہاجاتا ہے۔ شاید اس کو ’’ کَٹا کَٹ‘‘اِس لیے کہتے ہیں کہ گاہک کے سامنے ہی دِل یا کپُورے وغیرہ ڈال کر تیز آواز سے توے پر کاٹتے اوربُھونتے ہیں اِس سے ’’ کَٹا کَٹ‘‘ کی آواز گونجتی ہے۔
میرے آقا اعلیٰ حضرت، امامِ اہلِسنّت ،مجدِّدِ دین وملّت مولانا شاہ امام احمد رضا خانعَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن نے فتاویٰ رضویہ جلد20صفحہ240 پر جہاں حلال جانور کے وہ 22 اَجزاء بیان فرمائے ہیں جن کا کھانا حرام یا ممنوع یا مکروہ ہے ان میں سے ایک بَیضے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع