سُوال : گھر میں دو کمانے والے ہیں جو تقریباً 20ہزار تک کماتے ہیں کیا ان پر قربانی واجب ہوگی؟
جواب : 20 ، 30 ہزار کمانے کا مسئلہ نہیں ہے اِس طر ح تو لوگ ایک لاکھ بھی کماتے ہوں گے اور پوری کی پوری رقم خرچ ہو جاتی ہو گی۔ کوئی 10 ہزار میں گزارا کرلیتا ہوگا اور کسی کا دس لاکھ میں بھی گزارا مشکل ہوتا ہوگا ، کسی کے پاس آج کا کھانا ہوگا تو کل کا نہیں ہو گا ، کل کا ہوگا تو پرسوں کا نہیں ہوگا لہٰذاکتنا کماتا ہے یہ بنیاد نہیں ہے بلکہ بنیاد یہ ہے کہ 10ذُوالْحِجَّۃِ الْحَرام کی صبحِ صادق (سے لے کر 12 ذُوالْحِجَّۃِ الْحَرام کے غروبِ آفتاب تک)کے وقت میں جو غنی ہو یعنی ضَروریات کے علاوہ اس کے پاس نصاب( ) کے برابر رقم وغیرہ موجود ہو اور قرض میں گِرا ہوا بھی نہ ہو تو قربانی واجب ہو گی۔ ( )
سُوال : کیا چھوٹی بچی کو ہاف آستین والی قمیص پہنا سکتے ہیں؟
جواب : کتنی چھوٹی بچی ہے؟ آج کل 25 سال کی جوان لڑکیوں کو یتیم کہہ کر ان کی شادیاں کروائی جا رہی ہوتی ہیں حالانکہ 25 سال والے یتیم نہیں ہوتے ، یتیم صرف نابالغی کی عمر تک ہوتے ہیں۔ ( )بلوغت کے بعد ان کے لیے یتیم کی اِصطلاح ختم ہو جاتی ہے اور لڑکا بھی بالغ ہونے کے بعد یتیم نہیں کہلاتا۔ ( ) بہرحال اگر واقعی دو چار سال کی بچی ہے تو اس کو ہاف آستین والی قمیص پہنانے میں حرج نہیں۔
سُوال : سِکَنْدَر ذُوالْقَرْنین نے دُنیا کی سب سے بڑی اور مضبوط دیوار بنائی تھی ، یہ دیوار کہاں ہے اور یہ کیوں بنائی گئی تھی؟
جواب : سِکَنْدَرْ ذُوالْقَرْنَیْن( ) کی بنائی ہوئی دیوار سَدِّ سِکَنْدَری کے نام سے مشہور ہے ، سَدِّ سِکَنْدَری دیکھی نہیں جا سکتی یہ بہت بڑی اور موٹی دیوار ہے۔ ( ) یَاجُوج مَاجُوج روزانہ اس دیوار کو چاٹتے ہیں جب یہ تھوڑی باقی رہ جاتی ہے تو کہتے ہیں کہ باقی کل کریں گے ، جب اگلے دِن آتے ہیں تو یہ پہلےکی طرح مکمل دُرست ہو چکی ہوتی ہے۔ قربِ قیامت میں ایک دِن یہ دیوار چاٹ کر جانے لگیں گے تو کہیں گے اِنْ شَآءَ اللّٰہ ہم کل آکر یہیں سے کام شروع کریں گے۔ اگلے دِن آئیں گے تو اِنْ شَآءَ اللّٰہ کہنے کی وجہ سے ان کو یہ دیوار ویسی ہی ملے گی جیسی چھوڑ کر گئے تھے اب یہ اس کو مزید چاٹ کر اس میں شگاف کر دیں گے اور دیوار ٹوٹ جائے گی ( ) پھر یَاجُوج مَاجُوج باہر آکر دُنیا میں قتل و غارت کریں گے۔
سِکَنْدَرْ ذُوالْقَرْنَیْن نے کہا : ) فَاَعِیْنُوْنِیْ بِقُوَّةٍ ((پ۱۶ ، الکھف : ۹۵)ترجمۂ کنز الایمان : “ تو میری مدد طاقت سے کرو ۔ “ یعنی سِکَنْدَرْ ذُوالْقَرْنَیْن نے اس قوم سے مدد طلب کی کہ دیوار بنانے میں تم اپنی طاقت سے میری مدد کرو۔ اِس آیتِ کریمہ سے بھی ہمارے عُلَمائے کِرام کَثَّرَہُمُ اللّٰہُ السَّلَام اللہ پاک کے سِوا کسی اور سے مدد مانگنے کا جواز ثابت کرتے ہیں ۔
سُوال : مجھے مسجد سے ہاتھ میں پہننے والی گھڑی ملی ہے اگر کوئی یہ گھڑی لینے نہ آئے تو کیا میں اسے پہن سکتا ہوں یا اس کو بیچ کر اس کی رَقم مدرسے یا مسجد میں لگا سکتا ہوں؟ (ایک مؤذن صاحب کا سُوال)
جواب : یہ گھڑی لُقْطَہ ہے۔ ( ) اس کے بارے میں اِعلان کریں یا پھر مسجد ہی میں اس طرح کی تحریر لکھ کر لگادیں کہ “ مجھے وُضو خانے یا فُلاں جگہ سے فُلاں تاریخ کو اتنے بجے گھڑی ملی ہے جن صاحب کی ہو وہ نشانی بتا کر لے لیں “ اگر کوئی آکر نشانی بتاتا ہے اور آپ مطمئن ہوتے ہیں تو اسے دے دیجیے ، یوں وہ گھڑی مالک تک پہنچ جائےگی۔ اگر کافی وقت گزرنے کے بعد کوئی لینے نہیں آتا اور آپ کو کسی کے آنے کی اُمید بھی نہیں رہتی تو اس کا مسئلہ یہ ہے کہ اگر آپ خود غریب ، مسکین یا شرعی فقیر ہیں یعنی زکوٰۃ کے مستحق ہیں تو وہ گھڑی خود رکھ سکتے ہیں ورنہ کسی شرعی فقیر کو دے دیجیے۔ ( )نیز کسی مسجد یا مدرسے میں بھی دینے کی اِجازت ہے۔ ( )
سُوال : سائل گھڑی اُٹھاچکے ہیں اگر اُٹھاتے وقت ان کی یہ نیت نہیں تھی کہ مالک تک پہنچا دوں گا بلکہ خود رکھنے کی نیت تھی تو اب کیا حکم ہوگا؟ (مفتی صاحب کا سوال)
جواب : اگر گِری پڑی چیز اپنے ذاتی اِستعمال کے لیے اُٹھائی تو یہ غَصب کی صورت بنے گی( )جس طرح ڈاکو کسی کا مال چھینتا ہے تو سخت گناہ گار ہوتا ہے اور اس پر توبہ فرض ہونے کے ساتھ ساتھ مالک کو تلاش کرنا بھی واجب ہوتا ہے اسی طرح خود رکھنے کی نیت سے گِری پڑی چیز اُٹھانے والے پر بھی یہی کچھ واجب ہوگا۔ مالک کے ملنے کی اُمید ختم ہونے کے بعد یہ گھڑی خود نہیں رکھ سکتے نہ مسجد میں دے سکتے ہیں بلکہ اب کسی شرعی فقیر یعنی مستحق زکوٰۃ کو ہی دینی ہو گی۔