اللہ پاک ہم سب کو اپنا حقیقی خوف عطا فرمائے اور مسلمانوں کے عیب چُھپانے والا بنائے۔ یاد رکھیے! جو دُنیا میں مسلمان کا عیب اُچھالے گا قیامت کے دِن اللہ پاک اس کے عیب کھولے گا۔ بعض اوقات دُنیا میں بھی عیب کھل جاتے ہیں اور وہ شخص بے آبرو ہو جاتا ہے لہٰذا مسلمان کی عزت کو اپنی عزت سے بھی زیادہ اَہمیت دینی چاہیے۔ میرے آقا ، مکی مَدَنی مصطفےٰ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم پر میری جان قربان اور میری آنے والی نسلیں بھی قربان آپ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے ایک بار کعبہ کی طرف ہاتھ اُٹھا کر فرمایا : اے کعبہ! مسلمان کی عزت تجھ سے بڑھ کر ہے۔ ( ) تو جس مسلمان کی عزت کعبے سے بڑھ کر ہو ، کیا سوشل میڈیا پر اس کی دھجیاں بکھیری جاتی ہیں؟ جب بھی کسی پر تنقید کرنے کا ذہن بنے تو میری ان گزارشات کو ذہن میں لائیے گا کہ یہ کیا کہہ رہا تھا اور ہم کیا کر رہے ہیں؟اگر آپ کسی کے بارے میں Message Text کرنا چاہیں تو ہاتھ روک لیجیے گا ، Voice Message کرنے لگیں تو زبان کا قفلِ مدینہ لگا لیجیے گا بولیے گا نہیں ۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ کے دو لفظوں سے کسی مسلمان کی عزت کی دھجیاں اُڑ جائیں اور آپ دُنیا و آخرت میں رُسوا ہو جائیں۔ اللہ پاک ہمیں عیب اُچھالنے کے بجائے عیب چُھپانے والا بنائے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّم
سُوال : جو لوگ سوشل میڈیا پر آپ یا دعوتِ اسلامی پر بے جا تنقید کرتے ہیں ، ان کے خلاف جوابی کاروائی کیوں نہیں کی جاتی؟ ( )
جواب : منہ میں زبان ہم بھی رکھتے ہیں۔ سوشل میڈیا کے رَف سُوالوں کا جواب دینے والے ہمارے پاس بھی ہیں مگر ان کے رَف جوابات کو ہم نے سیل کر دیا ہے کیونکہ ہمیں یہ کام نہیں کرنا ۔ ہمیں وہی کرنا ہے جو اللہ پاک اور اس کے رسول صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا حکم ہے اور قرآن و حدیث کی روشنی میں کرنا ہے۔ رَف اَنداز ہمیں نہیں اپنانا بھلے لوگ ہمیں کہیں کہ تم لوگ ہار گئے۔ ہاں! ہم ہار گئے بلکہ ہم پہلے سے ہی ہارے ہوئے ہیں ہم نے کب کہا کہ ہم جیتے ہوئے ہیں؟اللہ پاک راضی ہو جائے تو جیت ہی جیت ہے لہٰذا ہمیں اللہ پاک کو راضی کرنے والے کام کرنے چاہئیں اور حُسنِ اخلاق کے ساتھ دوسروں کی اِصلاح کرنی چاہئے۔ یہ بھی ذہن میں رکھیے کہ ہم پر ہر ایک کی اِصلاح کرنا واجب نہیں ہے ، نہ اللہ پاک نے ہم کو یہ منصب دیا ہے کہ ہم ایک ایک کی اِصلاح کریں۔ حضراتِ اَنبیائے کِرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَام حُسنِ اَخلاق کے ساتھ اعلیٰ دَرجے کی تبلیغ فرمایا کرتے تھے ، جہاں ضَرورت پڑتی وہاں سختی فرماتے اور کوئی بھی کام اللہ پاک کی اِجازت کے بغیر نہیں کرتے تھے۔ ہم پر کون سی وحی آرہی ہے کہ ہم نے فُلاں فُلاں کی اِصلاح کر کے ہی رہنا ہے۔ اللہ پاک سارے مسلمانوں پر رحم فرمائے اور ان کے صَدقے ہمارے حال پر بھی رحم فرمائے۔
اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّم
سوشل میڈیا اِستعمال کرنے والے جتنے بھی عاشقانِ رَسُول ہیں وہ اپنے کو قابو میں رکھیں۔ سوشل میڈیا پر بعض اوقات کسی کی اِصلاح کرنے کا ایسا رَف اَنداز ہوتا ہے کہ کیا بتایا جائے؟ موٹی موٹی گالیاں تک دے رہے ہوتے ہیں۔ یاد رکھیے! جب تک اَندازِ گفتگو اور اَندازِ تحریر میں نرمی نہیں ہو گی اس سے اِصلاح نہیں ہو سکتی ، اِصلاح کرنا چاہتے ہیں تو نرمی کے ساتھ اکیلے میں اِصلاح کیجیے۔ البتہ اگر شریعت واجب کرتی ہے کہ عَلَی الْاِعْلَان اس کی اِصلاح کرو! تو ٹھیک ہے سوشل میڈیا آپ کے لیے حاضر ہے لیکن یہ مشکل ہے کہ شریعت کسی کو عَلَی الْاِعْلَان اِصلاح کرنے کی اِجازت دے لیکن یہاں تو مُعاملہ ایسا ہے گویا سب کو اِجازت ملی ہوئی ہے کہ جو جیسا چاہے کرے۔ شیطان شاید میری ان باتوں پر قہقہے لگا کر ہنس رہا ہو کہ تو جتنا بھی زور لگا لے جو میرے دوست ہوں گے وہ تیری ان باتوں میں بھی کچھ نہ کچھ نکال لیں گے اور مجھے خوش کر دیں گے اور میں ان کو کان پکڑ کر ساتھ لگا لوں گا۔ تو اے عاشقانِ رَسُول! میں نہیں چاہتا کہ شیطان کسی کا کان پکڑے بلکہ میں چاہتا ہوں کہ ہم سب شیطان سے اپنا کان ، ہاتھ اور دامن چُھڑا کر پیارے مصطفےٰ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے دامن سے لپٹ جائیں کیونکہ !
دامنِ مصطفےٰ سے جو لپٹا یگانہ ہو گیا
جس کے حضور ہو گئے اس کا زمانہ ہو گیا
اور اِنْ شَآءَاللّٰہ ....
خُلد میں ہو گا ہمارا داخِلہ اِس شان سے
یَارَسُوْلَ اللہ کا نعرہ لگاتے جائیں گے
سُوال : کیا بارش میں طواف کرنا فضیلت کا باعِث ہے ؟
جواب : بَرسات میں طواف کرنا بڑی سعادت کی بات ہے لیکن نیت دیکھی جائے گی کہ بَرسات میں طواف کیوں کیا جا رہا ہے؟اگر کوئی اِس لیے بارش میں طواف کرتا ہے کہ بارش میں طواف کرنے میں مزہ آئے گا ، سب کو بتاؤں گا کہ میں نے بارش میں طواف کیا تھا جس کی وجہ سے میرے کپڑے بھیگ گئے تھے ، میں تو دو بار پھسل کر گِرا بھی تھا مگر پھر بھی طواف کرتا رہا تو اب اگر کوئی اِس طرح کی باتیں بنانے کے لیے بارش میں طواف کرتا ہے تو وہ دیکھ لے کہ اسے کتنا ثواب ملے گا اور کیا فضیلت حاصِل ہو گی؟اکثر ایسا ہوتا ہے کہ اگر لوگوں کو اِس طرح کی کوئی سعادت مل جائے تو وہ اس کا ڈنکا بجاتے رہتے ہیں۔
اگر کسی نے اللہ پاک کی رِضا پانے کے لیے بارش میں طواف کیا تو اب چاہے اُسے بارش سے پریشانی بھی ہو رہی ہو اور ظاہر ہے پریشانی ہوتی بھی ہے لیکن وہ اس نیت سے بارش میں طواف کرتا ہے تاکہ مجھے ثواب ملے ، بارش میں طواف کرنے کی فضیلت حاصِل ہوتو ایسے کی بات کچھ اور ہے!میرے آقا اعلیٰ حضرت ، امامِ اہلِ سنَّت مولانا شاہ امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِ فرماتے ہیں : حَرم شریف پہنچتے پہنچتے بارش شروع ہو گئی تو مجھے یہ حدیث یاد آئی کہ جو مینہ برستے میں یعنی بارش برستے میں طواف کرے وہ رَحمتِ اِلٰہی میں تیرتا ہے تو میں نے فوراً سنگ ِاَسود یعنی حجرِ اَسود کا بوسہ لے کر بارش ہی میں سات پھیرے طواف کیا۔ ( )
سُوال : ہمارے معاشرے میں یہ رواج بھی ہے کہ حج پر جانے والے کو قریبی رِشتہ داروں کے لیے تحائف کا بندوبست کرنا پڑتا ہے ، اِس بارے میں راہ نمائی فرما دیجئے۔ ( )
جواب : بعض بے چارے حج کی اِستطاعت رکھنے کے باوجود بھی حج پر نہیں جا پاتے اس لیے کہ اُن کے پاس حج کا خرچہ تو ہوتا ہے مگر رواج کے مُطابق رِشتہ داروں کو تحائف دینے کے لیے خطیر رَقم نہیں ہوتی۔ اگر حج کا خرچہ پانچ لاکھ ہے تو بطورِ مُبالغہ کہوں تو انہیں پندرہ لاکھ دَرکار ہوں گے کیونکہ نند کو یہ دینا ہے ، بھاوج کو وہ دینا ہے ، بیٹی کو یہ دینا ہے تو باپ کو وہ دینا ہے ۔ ماں اور ساس کو بھی فُلاں فُلاں تحفہ دینا ہے ۔ یوں اتنے سارے رواج اس ظالم معاشرے نے ڈال دیئے ہیں کہ لوگ اس ڈر سے حج پر نہیں جا پاتے کہ اگر حج کے لیے جائیں گے تو رَسم ورواج کے مُطابق رِشتہ داروں کو تحائف دینے پڑیں گے ورنہ وہ ناراض ہو جائیں گے اور باتیں بنائیں گے۔ ظاہر ہے جو تحائف کا مُطالبہ کرتے ہیں وہ اچھے لوگ نہیں ہیں اور ان کے شر سے بچنے کے لیے جو کچھ انہیں دیا جائے گا وہ ان کے حق میں رِشوت ہے۔ حج پر جانے والوں سے تحائف لینے کے بجائے خوشی خوشی یہ کہنا چاہیے کہ آپ حج کے لیے جائیں تو ہمیں کچھ مَت دینا اور اگر دینا ہی ہو تو آبِ زَم زَم کا تحفہ دے دینا۔ اگر آبِ زَم زَم کی بوتل بھی نہ دی تب بھی ہماری طرف سے کوئی ناراضگی نہیں ہے۔ اگر ہر رِشتہ دار اس طرح کہہ دے تو تحائف کے بوجھ سے چھٹکارا ملنے کی وجہ سے حج پر جانے والے کے دِل سے دُعائیں نکلیں گی۔
یاد رَکھیے !آبِ زَم زَم مانگنے کو کوئی بھی رِشوت نہیں کہے گا اس لیے کہ اس میں کوئی شر والا مُعاملہ ہی نہیں ہے کیونکہ یہ پانی ہے البتہ عجوہ کھجور لانے کو کہیں گے تو وہ مہنگی ہوتی ہے۔ حاجی قیمتی مُصلے ، قیمتی تسبیحات ، عجوہ کھجوریں ، سوٹ پیس ، چاکلیٹ کے پیکٹ اور خُدا جانے کیا کیا لاتے ہیں تو ظاہر ہے اس طرح کی چیزیں عام طور پر بندہ واہ وا کر کے نہیں آہ آہ کر کے دیتا ہے ۔
سُوال : میرے چہرے پر بِلاوجہ کالے دھبّے ہیں۔ میں نے ان کا بہت علاج کروایا ہے مگر فرق نہیں پڑا اس لیے میں بہت پریشان ہوں ۔ آپ مجھے ان کا کوئی روحانی علاج بتا دیجیے ۔ (SMS کے ذَریعے سُوال)
جواب : لفظِ “ بِلاوجہ “ تو خیر سُوال کرنے والے کے مُنہ سے نکل گیا ہو گا ورنہ جو بھی مَرض ہوتا ہے اس کی کوئی نہ کوئی وجہ ہوتی ہے۔ “ قَدَّرَ اللہ ُ وَ مَاشَاءَ وَ فَعَلَ یعنی اللہ پاک نے جیسا مقدر کیا اور جو چاہا وہ ہوا۔ “ کالے دھبّوں سے بندہ نفسیاتی طور پر پریشان ہوتا ہے ورنہ بعض اوقات دھبّوں سے اتنا مسئلہ ہوتا نہیں ہے۔ آپ اللہ پاک کا شکر اَدا کریں کہ صِرف دھبّے پڑے ہیں ، ان سے خون اور پیپ نہیں بہہ رہا اور نہ ہی جلن ہو رہی ہے ورنہ آپ سو نہ پاتے ، اللہ پاک نے جیسا کیا بندہ اس پر راضی رہے۔ بے شک علاج کرے مگر کُڑھے نہیں اور نہ ہی اس کے لیے دِل جَلائے۔ اگر دِل جَلانا ہے تو قبر و آخرت اور نزع کی سختیوں سے بچنے کے لیے جَلائے کہ اس میں فائدہ ہے ورنہ داغ دھبّے تو معمولی بات ہے؟چہرے کا قبر میں کیا انجام ہو گا !بال بکھر جائیں گے ، دانت بھی گِر جائیں گے اور صرف اللہ پاک کی رَحمت کام آئے گی۔
بہرحال اس کا روحانی علاج یہ ہے کہ نماز کے بعد ہتھیلیاں پھیلا کر “ یَا نُوْرُ “ 15 بار پڑھ لیجئے اور پھر ہتھیلیوں پر دَم کر کے اپنے چہرے پر پھیر لیا کیجئے۔ اس کے ساتھ ساتھ نمازیں باجماعت پڑھنے کی پابندی کیجئے۔ اگر تا حُصُولِ مُراد ایسا کرتے رہیں گے تو اللہ پاک اپنے مُبارَک نام “ نُوْر “ کی بَرکتوں سے آپ کو نواز دے گا۔ آدمی کو فقط چہرے پر نُور ہی کی فکر کے بجائے دِل چمک اُٹھے اور قبر بھی جگمگاتی رہے اس کی بھی فکر کرنی چاہیے۔ اگر بظاہر چہرہ روشن ہو جیسا کہ سفید چمڑی والے گورے گورے لوگ ہوتے ہیں لیکن دِل کالا کالا ہو تو پھر کیا فائدہ ؟اللہ پاک ہمارے چہروں کو بدنُمائی سے بچائے اور ہمارے دِل بھی نورانی کر دے۔
دِل اپنا چمک اُٹھے اِیمان کی طلعت سے
کر آنکھیں بھی نورانی اے جلوۂ جانانہ (سامانِ بخشش)