دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Islaah Karnay Ka Drust Andaaz | اِصلاح کرنےکادُرُست اَنداز

Hajj Umrah Me Farq

book_icon
اِصلاح کرنےکادُرُست اَنداز

حج اور عُمرے میں فرق

سُوال : حج اور عُمرے میں کیا فرق ہے؟
جواب : عُمرے کو حجِ اََصغر کہا جاتا ہے اور عُمرے کے مقابلے میں حج کو حج ِاکبر کہا جا تا ہے( ) لیکن  اب مشہور  یہ ہے کہ  ہم لوگ جمعہ کے دِن ہونے والے حج کو  حجِ اکبری کہتے ہیں اور اس میں حرج بھی  نہیں ہے ( )ورنہ عُمرے  کے مقابلے میں ہر حج حجِ اکبر ہی ہے۔ جب نو ذُوالْحِجَّۃِ الْحَرَام جمعہ کو ہو یعنی وُقوفِ عرفہ جمعہ کا ہو تو یہ  حج اور دِنوں کے حج کے مقابلے میں 70 گنا افضل ہے اور اس میں 70 حج کا ثواب ملتا ہے۔ ( )اس لیے لوگوں نے اسے اکبری حج اور حج ِاکبر کہنا شروع کر دیا ہے ورنہ ہر حج ، حجِ اکبر ہے۔ مولانا حسن رضا خان رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِ  فرماتے ہیں : 
نہیں کچھ جمعہ پر موقوف افضال و کرم اُن کے
                     جو وہ مقبول فرما لیں تو ہر حج حجِ اکبر ہے (ذوقِ نعت)
سُوال : محض سُستی کی وجہ سے حج کرنے میں تاخیر کرنا کیسا ہے؟ 
جواب : جس پر حج فرض ہو اس کے لیے بِلا وجہ اس کی اَدائیگی میں تاخیر کرنا جائز نہیں ہے۔ حدیثِ پاک میں ہے : جس پر حج فرض ہو اور وہ بغیر حج کیے مَر جائے تو چاہے وہ  یہودی ہو کر مَرے یا نصرانی  ہو کر۔ ( )یعنی اس کے لیے  بُرے خاتمے  کا خوف ہے۔ حج فرض ہونے کی صورت  میں اگر کوئی اور رُکاوٹ نہ ہو تو اسی سال حج کرے۔ حج کرنا تو سعادت کی بات ہے مگر بعض مالدار حج نہیں  کرتے اور اُن بے چاروں کا حج  کرنے کا  ذہن نہیں ہوتا کیونکہ انہیں اس طرح کا  ماحول ہی  نہیں  ملا ہوتا۔ 

کیا ماں باپ کی بَد دُعا اَولاد کے حق میں قبول ہے

سُوال : والدین اگر غلطی ہونے یا نہ ہونے پر بَد دُعا  دیتے ہوں  تو کیا اَولاد کے حق میں ان کی بَد دُعا  قبول ہوتی ہے ؟
جواب : ماں باپ کی دُعا اور بَد دُعا اَولاد کے حق میں قبول ہے ( )لہٰذا ان کی دُعا  لینی چاہیے اور بَد دُعا سے بچنا چاہیے ۔ جب  کوئی قصور ہوتا ہو گا تو ماں باپ غُصے  میں آ کر بَد دُعا دیتے ہوں گے ورنہ بے موقع نہیں دیتے ہوں گے ۔ ماں باپ کو چاہیے کہ وہ اپنی اَولاد کو صِرف دُعاؤں سے نوازیں اور بَد دُعا نہ کریں کہ بےچاری اَولاد کہیں کی  نہیں رہے گی ۔ 

قربانی کے جانور کے گوشت کے تین حصّے کرنا

سُوال : قربانی کے جانور کے گوشت کے تین حصّے کیے جاتے ہیں ، کیا شریعت میں اِس کی کوئی دَلیل ہے ؟
جواب : بہارِ شریعت کے پندرھویں حِصّے  میں قربانی کے مَسائل لکھے ہوئے ہیں ، اس میں قربانی کے جانور کے گوشت کے تین حصّے کرنے کو مُسْتَحَب لکھا ہے مثلاً بکرا ہے تو اس کے تین حصّے کر لیے جائیں ، ایک حصّہ قربانی کرنے والا اپنے اِستعمال میں رکھے ، ایک حصّہ رِشتہ داروں میں تقسیم کر دے اور ایک حصّہ غریبوں میں بانٹ دے تو یہ مُسْتَحَب ہے۔ ( ) اگر پورا  بکرا خود رکھ لیا یا پورا بکرا بانٹ دیا  یا  پورا بکرا ایک ساتھ کسی کو اُٹھا کر دے دیا تو یہ سب صورتیں  بھی جائز ہیں۔ 

کیا حوصلہ دیتے ہوئے غیبت سُن سکتے ہیں

سُوال : اگر کوئی شخص لڑائی جھگڑوں کی وجہ سے دُکھی ہو تو جب  اُسے حوصلہ دیا جائے تو وہ لوگوں کی غیبتوں پر اُتر آئے ، کیا اس کا غم ہلکا کرنے کے لیے ان غیبتوں کو خاموشی سے سُن سکتے ہیں کیونکہ  اگر اس وقت کہیں گے کہ یہ بات نہ کرو غیبت ہے تو وہ  اور زیادہ غُصّے میں آ جائے  گا؟(سوشل میڈیا کے ذَریعےسُوال)
جواب : اگر ظَنِّ غالب ہو  کہ مان جائے گا اور غیبت سے باز آئے گا  تب تو اسے غیبت سے روکنا  واجب ہو جائے گا ورنہ ایسی صورت میں حوصلہ دینے  والا غیبت نہ  سُنے بلکہ آگے پیچھے ہو جائے ، بات بدلنے کی کوشش  کرے ، گھڑی دیکھے اور بیزاری سے اِدھر اُدھر دیکھے کہ  اس سے بھی بعض اَوقات سامنے والا سمجھ جاتا ہے کہ یہ  میری بات سُننا  نہیں چاہتا تو اس طرح کی کوئی تدبیر اِختیار  کرے کہ غیبت سُننے سے بچ جائے۔ اگر اس کو اچھا لگانے کے لیے ہاں میں ہاں کرتا رہا تو پھر گویا حوصلہ دینے والا مَعَاذَ اللّٰہ سیدھا جہنم میں کود رہا ہے ۔ یاد رہے !مومن کی غیبت کو روکنا چاہیے اور اسے  روکنے میں ثواب ہے۔ ( )

عورت کا اِحرام کی حالت میں مُصَلّے پر نماز پڑھنا کیسا

سُوال : عورت کا اِحرام کی حالت میں مُصَلّے پر نماز پڑھنا کیسا ہے؟ نیز اگر کسی عورت کی پہنی ہوئی چادر اِحرام کی حالت میں نماز پڑھتے ہوئے  سجدے میں چہرے پر لگ جائے تو اس کا کیا حکم ہے؟
جواب : مَرد ہو یا عورت دونوں اِحرام کی حالت میں مُصَلّے پر نماز پڑھ سکتے ہیں ، اس میں کوئی  حرج نہیں ہے ۔ نیز  حالتِ اِحرام میں نہ تو مَرد نے اپنے چہرے پر چادر ڈالنی ہے اور نہ  ہی عورت نے ، البتہ عورت اِحرام کی حالت میں اپنا سَر ڈھانپے گی جبکہ مَرد نہیں ڈھانپ سکتا تو اب  عورت کا  نقاب یا اس کا کپڑا ہوا سے اُڑ کر چہرے پر آ گیا جیسا کہ بعض اَوقات مَردوں  کا کپڑا  بھی ہوا سے اُڑ کر یا کوئی دوسرا حاجی اپنا اِحرام دُرُست کر رہا ہوتا ہے تو اس کا کپڑا چہرے پر آ جاتا ہے بلکہ میں نے تو باقاعدہ  بھیڑ میں بے چارے حاجیوں کے مُنڈے ہوئے سَر  چادروں میں پھنستے دیکھے ہیں تو اب چاہے عورت کا نقاب ہوا سے اُڑ کر اس کے چہرے سے  لپٹ گیا یا کسی حاجی کے چہرے یا سر پر اس کی اپنی یا  دوسرے مُحْرِم کی چادر چپک گئی تو اگر اس چادر سے عورت کے چہرے کا  چوتھائی یا اس سے زیادہ حصّہ چُھپ گیا یا حاجی کے چہرے یا  سر کا چوتھائی یا اس سے زیادہ حصّہ چُھپ گیا بھلے وہ چند سیکنڈ کے لیے چُھپے تو اس پر ایک  کفارہ آئے گا( ) اور کفارے میں صَدقہ ٔ فطر کی جو رقم بنتی ہو وہ ادا کی جائے گی جیسا کہ اس بار پاکستان میں(2019ء میں)صَدقۂ فطر کی  کم از کم مقدار 100 روپے تھی لیکن اب  100 روپے نہیں چلیں گے  بلکہ کفارہ ادا کرتے وقت صَدقۂ فطر کی جو رَقم بنتی ہو اس کا اِعتبار ہے۔ ( ) کفارہ حرم میں ادا کرنا  افضل ہے۔ ( )اور  حَرم سے مُراد صرف مَسْجِدُ الْحَرام نہیں بلکہ حرم کافی وسیع ہے اور مَسْجِدُ الْحَرام بھی اس میں داخل ہے  تو کفارہ  حرم کے فقرا کو دینا افضل ہے اور  اپنے وطن میں بھی دے سکتے ہیں۔ یاد رَکھیے ! اگر کسی حاجی کی چادر سے دوسرے حاجی کا سر چُھپ گیا تو جس کا سر چُھپا اس پر کفارہ آئے گا نہ کہ جس کی  چادر سے چُھپا اس پر اور وہ یہ بھی نہیں کہہ سکتا کہ اس میں میرا کیا قُصور ہے بلکہ اسے  کفارہ دینا ہو گا۔  

کانوں میں اُنگلیاں ڈالے بغیر اذان دینے سے اذان ہو جائے گی

سُوال : کیا کانوں میں اُنگلیاں ڈالے بغیر اذان دینے  سے  اذان ہو جائے گی؟
جواب : کانوں میں اُنگلیاں ڈال کر اذان دینا یہ اذان کے آداب میں سے ہے۔ کانوں میں اُنگلیاں ڈالنے کی حکمت کتابوں میں  یہ لکھی ہے کہ  پہلے مَساجد کے  مَنارے نہیں ہوتے  تھے یہ بعد میں اِیجاد ہوئے اور پھر یوں  اونچے اونچے مَنارے  بننے لگے تاکہ مؤذن ان مَناروں پر جائے اور اپنے کانوں  میں اُنگلیاں ڈال کر اذان دے  تاکہ اسے یوں لگے کہ ابھی مجھے آواز مزید  بلند کرنی  ہے تو آواز بلند کرنے کے لیے کانوں میں اُنگلیاں ڈالی جاتی ہیں  لیکن آواز  اتنی بلند  نہیں کرنی چاہیے کہ اس سے   خود کو یا کسی دوسرے کو  تکلیف پہنچے۔ چنانچہ “ فیضانِ رَمَضان “ میں بہار ِشریعت کے حوالے سے لکھا ہے کہ “ مسجد کے باہر قبلہ رو کھڑے ہو کر کانوں میں اُنگلیاں ڈال کر بلند آواز سے اذان دی جائے مگر طاقت سے زیادہ آواز بلند کرنا مکروہ ہے۔ “ ( ) نیز  فتاویٰ رضویہ جلد 5 صفحہ نمبر 373پر ہے : اذان میں اُنگلياں کان میں رکهنا مَسْنُوْن(یعنی سُنَّت)و مُسْتَحَب ہے مگر ہلانا اور گھمانا حرکتِ فضول ہے۔ “ مؤذن  کانوں میں اُنگلیاں ڈال کر انہیں ہلا رہے ہوتے ہیں حالانکہ یہ طریقہ دُرُست  نہیں ہے بلکہ  کانوں میں اُنگلیاں ڈال کر انہیں نارمل رکھیں  گے اور اوپر نیچے حرکت نہیں دیں گے۔ پہلے مَناروں پر  کھڑکیاں بنی ہوتی تھیں تو مؤذن دائیں جانب کی کھڑکی سے  منہ  بالکل باہر نکال کر حَیَّ عَلَی الصَّلَاۃ کہتے تھے اور پھر بائیں جانب کی کھڑکی سے مُنہ باہر نکال کر حَیَّ عَلَی  الْفَلَاح کہتے تھے تاکہ دونوں طرف کی آبادی والوں کو آواز پہنچ جائے ۔ اب تو خیر مَناروں پر اذانیں نہیں دی جاتیں اور جب سے مائیک اِیجاد ہوا ہے بظاہر  کانوں  میں اُنگلیاں ڈالنے اور حَیَّ عَلَی الصَّلَاۃ اور حَیَّ عَلَی  الْفَلَاح پر منہ پھیرنے  کی ضَرورت معلوم  نہیں ہوتی لیکن جو بزرگوں سے چلا آ رہا ہے یا  جو اَحادیثِ مُبارَکہ میں آیا اس پر عمل کرنا ہوتا ہے لہٰذا  ہم اب بھی کانوں  میں اُنگلیاں ڈالیں گے اور حَیَّ عَلَی الصَّلَاۃ اور حَیَّ عَلَی  الْفَلَاح پر دائیں بائیں چہرہ  پھیریں گے اگرچہ بظاہر مائیک نے کانوں میں اُنگلیاں ڈالنے اور چہرہ پھیرنے کی عِلَّت کو ختم کر دیا ہے ، مگر ہمیں  اپنی عقل کے گھوڑے دوڑانے کے بجائے وہی کرنا ہے جو کتابوں میں لکھا ہوا ہے۔ یہ بھی ایک طرح سے ہمارا اِمتحان ہے تو ہمیں اپنا یہ ذہن بنانا ہے کہ “ اَسی  منڑ والے ہاں ، سوچن والے نئیں “ لہٰذا جو شریعت نے کہا اور  عُلَما ئے حَقّہ نے فرمایا بس وہی  دُرُست ہے۔  

حَیَّ عَلَی الصَّلَاۃ اور حَیَّ عَلَی الْفَلَاح کہتے ہوئے چہرہ پورا گھمانا چاہیے

مؤذن صاحبان حَیَّ عَلَی الصَّلَاۃ اور حَیَّ عَلَی  الْفَلَاح کہتے  ہوئے بعض اوقات پورا چہرہ نہیں  گھماتے اور ایسا بھی ہوتا ہے کہ حَیَّ عَلَی الصَّلَاۃ اور حَیَّ عَلَی  الْفَلَاح کا اکثر حِصّہ پہلے کہہ لیتے ہیں اور پھر چہرہ گھماتے ہیں تو ایسا  نہیں کرنا بلکہ پورا چہرہ گھما کر  حَیَّ عَلَی الصَّلَاۃ اور حَیَّ عَلَی  الْفَلَاح کہنا ہے۔ ( )اِسی طرح نماز میں سَلام پھیرتے ہوئے بھی لوگ پورا چہرہ نہیں گھماتے؟ آجکل لوگوں کی گردن اکڑی ہوئی ہوتی ہے۔ سَلام پھیرتے وقت چہرہ  بالکل کندھے  کی سیدھ میں اِس طرح گھمانا ہے  کہ  پیچھےنماز پڑھنے والے  کو آپ کا گال نظر آ جائے۔ لوگ شاید اِس وجہ سے چہرہ نہیں گھماتے ہوں گے کہ  گردن میں دَرد ہو جاتا ہو گا حالانکہ یہ بہترین ورزش ہے اس سے گردن کو فائدہ ہو گا بلکہ کبھی کبھی  نماز کے علاوہ بھی دائیں بائیں چہرہ گھماتے رہنا چاہیے کہ اِس سے گردن کی  اکڑن دُور ہوتی ہے ۔ اگر آپ (دعوتِ اسلامی کی مجلس کورسز کے تحت ہونے والا) سات دِن کا “ فیضانِ نماز کورس “ کر لیں گے تو اِنْ شَآءَ اللّٰہ یہ باتیں  سیکھ لیں گے لہٰذا  یہ کورس سب کو کرنا چاہیے مگر اس کے لیے بھی لوگوں کی منتیں کرنا پڑتی ہیں۔ اگر یوں کہیں کہ جو سات  دِن کا “ فیضانِ نماز کورس “ کرے گا اسے روزانہ 1200روپے دہاڑی (اُجرت)ملے گی تو سارے بےروزگاروں کی لائن لگ جائے گی۔ ہم 1200روپے نہیں دیں گے البتہ سات دِن تک  تین ٹائم کھانا کھلائیں گے اور اس کا کوئی پائی پیسا نہیں لیں گے۔ یاد رہے ! اگر 12 اسلامی بھائی سات دن کا کورس کریں تو ان پر پچاس ہزار روپے خرچ آتا ہےکیونکہ مُعَلِّمین  کے اِجارے ہوتے ہیں اور پھر لائٹیں پنکھے وغیرہ کا خرچہ بھی  ہوتا ہے لیکن ہم آپ سے فیس نہیں مانگتے ، آپ یہ کورس کرنے کے لیے آ جائیں۔ اگر آپ کورس کرنے والے  سب اسلامی بھائیوں کا خرچہ اُٹھانا چاہیں تو اُٹھا سکتے ہیں ۔ عاشقانِ رَسول ہی اس کورس کا خرچہ اُٹھاتے ہیں اور اس کے لیے فنڈجمع  کرتے ہیں ۔ 

حاجیوں کا اسٹریچر کو اپنے کمرے میں لے جا کر رکھ لینا کیسا

سُوال : حج کے موقع پر معذور حاجیوں کے لیے اسٹریچر کرسی کا اِہتمام کیا جاتا ہے تو اسے  اپنے کمرے میں لے جا کر رکھ لینا کیسا ہے حالانکہ وہ وقف کی کرسی  ہوتی  ہے ؟
جواب : کسی چیز پر مالکانہ قبضہ اور ہوتا ہے اور اُسے  عارضی طور پر اپنے اِستعمال میں  لینا اور ہوتا ہے  تو جو چیز جس مَد میں دی جاتی ہے وہ اُسی مَد میں اِستعمال کی جا سکتی ہے اور اُسے کسی  دوسری مَد میں یا کسی دوسرے  عُنوان پر اِستعمال کرنے میں منع اور ناجائز کی  صورتیں ہوتی ہیں مثلاً کسی نے مسجد کے لیے کرسی وقف کی اور کہا کہ یہ نمازیوں کے لیے ہے تو اب کوئی کہے  کہ میں اس پر بیٹھ کر  مَدَنی مذاکرہ سُنوں گا تو وہ نہیں سُن سکتا کیونکہ وقف کرنے والے نے اس بات کی  صَراحت کر دی تھی  کہ یہ  کرسی نمازیوں کے لیے ہے۔ جب ہمارا عالَمی مَدَنی مَرکز فیضانِ مدینہ کے لیے کُرسیاں لینے  کا اِرادہ بنا تو میں نے اسلامی بھائیوں کو یہ سمجھا دیا تھا کہ ہمیں  فیضانِ مدینہ کے لیے کُرسیاں اس طرح لینی ہیں کہ ان پر بیٹھ کر نمازی نماز بھی پڑھ سکیں ، مَدَنی مذاکرہ بھی سُن سکیں ، تلاوت بھی کر سکیں ، اِجتماع میں بیان بھی سُن سکیں اور جب فیضانِ مدینہ میں اجلاس یا مَدَنی مشورے ہوں تو ان میں بھی یہ کُرسیاں اُٹھا کر لائی جا سکیں تو یہ سب باتیں بتا کر کسی پارٹی سے کُرسیاں لینی ہیں اور پھر اَلْحَمْدُ لِلّٰہ ایسا ہی کیا گیا ۔ اب اگر کسی نے  اسٹریچر کو صرف مریضوں کے لیے وقف کیا  ہو تو ظاہر ہے پھر مریض ہی اس پر سوئے گا اور اُسے اس پر اُٹھایا جائے گا ، شاید  اسٹریچر عارضی ہوتا ہے اسے اُٹھا کر لے جاتے ہیں اور اُٹھا کر لے آتے ہیں اور غالباًیہ کسی اور کام کا ہوتا بھی نہیں ہے اور ایسا بھی  نہیں ہے کہ پلنگ کی طرح اس کے پائے ہوں اور آدمی اس پر سو جائے۔ بہرحال جو چیز جس مَد میں وقف کی گئی ہو  وہ اسی مَد میں اِستعمال کی جائے گی ۔ 

مَساجد کے کارپیٹ امام یا مؤذن کے کمرے میں بچھانا

مَساجد کے کارپیٹ اُٹھا کر بعض اوقات امام یا مؤذن کے حجرے میں یا اِدھر اُدھر بچھا دئیے جاتے  ہیں تو یوں ان کا غلط اِستعمال ہو رہا ہوتا ہے۔ یاد رہے کہ اگر کسی نے مسجد یا نمازیوں کے لیے کارپیٹ وَقف کیا  تھا  تو اب اُسے امام یا مؤذن کے کمرے کی زینت بنانا گناہ اور ناجائز ہو گا ۔ یوں ہی  اسے گھر لے جا کر اس پر  نماز نہیں پڑھ سکتے کیونکہ وہ مسجد کے لیے وقف ہے تو مسجد میں ہی اس پر نماز پڑھی جائے گی۔ عام طور پر ہر جگہ وَقف کی چیزوں کا غَلَط اِستعمال ہو رہا ہوتا ہے کیونکہ لوگوں کو  وقف کے شرعی مَسائل معلوم نہیں ہوتے اور اگر  کوئی بتائے تو قبولِ حق کا ذہن  بھی نہیں ہوتا لہٰذا  اگر آپ کسی مؤذن صاحب کو بتائیں گے کہ وقف کا  کارپیٹ حجرے میں بچھانا دُرُست نہیں  تو ہو سکتا ہے کہ وہ آپ سے اُلجھنا شروع کر دے ، البتہ یہ بات بھی  یقینی نہیں ہے کہ مؤذن صاحب کے حجرے میں  مسجد کا ہی کارپیٹ بچھاہوا ہو۔ عین ممکن ہے کہ جس نے کارپیٹ وقف کیا ہو اس نے خود ہی وقف کرتے ہوئے یہ  اِجازت دے دی ہو  کہ اس کارپیٹ کو  مسجد میں بچھاؤ یا امام صاحب کے حجرے میں یا مدرسے میں میری طرف سے اِجازت ہے یا پھر مسجد کی اِنتظامیہ نے کارپیٹ وقف کرنے والے سے کہا  ہو کہ ہم اس کا یوں یوں اِستعمال کریں گے اور اس نے ہاں  کہہ دیا ہو  جیسا کہ ہم نے فیضان ِ مدینہ کی کُرسیوں کے اِستعمال کے  حوالے سے اِجازت  لی ہوئی  ہے تو  اب مسجد کے علاوہ بھی کارپیٹ کا اِستعمال  جائز ہو جائے  گا ۔ یاد رَکھیے !  مسجد کے کارپیٹ کو مدرسے میں بھی نہیں بچھا سکتے جبکہ اسے مسجد ہی کے لیے وقف کیا گیا ہو۔   
وقف کی چیزوں پر مالکانہ قبضہ کرنے کا شرعی حکم
سُوال : وقف کی چیزوں پر مالکانہ قبضہ کرنا کیسا ہے ؟
جواب : وقف کی چیز پر مالکانہ قبضہ کرنا یا کسی شخص  کی چیز چھین کر بطور ِ غصب یا اس سے چُھپا کر بطورِ  چوری کے مالکانہ قبضہ کر لینا قطعی حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے ۔ جو لوگ مَساجد اور  مدارس چلاتے ہیں ان کے لیے وَقف کے مَسائل سیکھنا ضَروری ہیں ورنہ وہ بے چارے  کئی کاموں کو  ثواب سمجھ کر کرتے ہوں گے اور حقیقت میں وہ گناہ ہوتے ہوں گے۔ ایک اَلمیہ یہ بھی ہے کہ انہیں نہ تو شرعی مَسائل کی معلومات ہوتی ہیں اور نہ ہی  اتنا جَذبہ و حوصلہ ہوتا ہے  کہ کسی کے بتانے پر اپنی غَلَطی  سُن سکیں۔ بعض بڑی عمر کے لوگوں کو سمجھایا جائے تو وہ بالکل نہیں سنتے اور  غُصے میں آ کر کہنے لگتے ہیں کہ  میاں تمہیں مسئلہ سُنے  ابھی جمعہ جمعہ آٹھ دِن ہوئے ہیں ہم بھی مَسائل  جانتے ہیں تو یوں بے چارے کام سے چلے جاتے ہیں اور اگر یہی اَنداز کوئی مولانا  اِختیار کرتا ہے تو وہ بھی کام  سے گیا ۔ یاد رَکھیے !بزرگی کا تعلق عمر سے نہیں عِلم سےہوتا ہے کہ “ بُزُرْگی بَہ عَقل سَتْ نَہ بَہ سال یعنی بزرگی عِلم و عقل سے ہوتی ہے  نہ  کہ سال سے “ تو پتا چلا بڑھاپا بزرگی نہیں لاتا بلکہ عِلم اور تقویٰ بزرگی لاتا ہے یہاں تک کہ اگر کسی جگہ 100 سال کے 1000لوگ  جمع ہوں اور وہاں ایک نوجوان عالِم بھی ہو تو ان سے یہی نوجوان عالِم افضل ہے کہ عِلم کی وجہ سے اسے  بزرگی ملی ہوئی ہے۔ اِسی طرح “ تَوَنْگری بَہ  دِل سَت نَہ بَہ مال یعنی جو دِل کا مالدار ہے حقیقت میں وہی مالدار ہے “ ورنہ تو  قارون بھی مالدار کہلاتا تھا لیکن اس کا دِل مالدار نہیں تھا۔ پھر اس کا کیا انجام ہوا ؟وہ اپنا مال لے کر ابھی تک زمین میں دھنس رہا ہے اور اس کا مال اس کے سر پر بوجھ بنا ہوا ہے۔ قارون کی ذِلَّت و رُسوائی کا واقعہ قرآنِ کریم میں موجود ہےکہ اس نے حضرتِ سَیِّدُنا مُوسیٰ عَلٰی نَبِیِّنا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی گستاخی کی  تھی جس کی وجہ سے  تباہ و بَرباد ہو گیا۔ ( ) 
بار بار سرزد ہونے والے گناہ سے کس طرح بچا جائے؟
سُوال : اگر کوئی  گناہ بار بار سرزد ہو رہا ہو تو اس گناہ سے کس طرح بچا جا سکتا ہے ؟(سوشل میڈیا کے ذَریعے سُوال)
جواب : توبہ کرتے وقت گناہ پر شرمندگی ہو ، اپنے گناہ کا اِقرار ہو اور عزمِ مُصَمَّم(پختہ اِرادہ)ہو  کہ آئندہ میں نے یہ گناہ نہیں کرنا تو یہ سچی تو بہ ہےاور اِنْ شَآءَ اللّٰہ قبول ہے ۔ توبہ کرتے وقت یہ فائنل تھا کہ اب یہ گناہ نہیں کرنا لیکن بعد میں بتقاضائے بشریت پھر اس گناہ میں پھنس گیا اور پھر سچی توبہ کی مگر بے چارہ پھر اس گناہ میں پھنس گیا تو اس طرح چاہے وہ روزانہ 100 یا 500یا 1000مَرتبہ توبہ کرے اس کی توبہ قبول ہے۔ اگر توبہ کرتے وقت ذہن تَذبذب کا شکار  ہو کہ  بچ تو نہیں سکوں گا ، پھر پھنس جاؤں گا یا میں بڑا کمزور ہوں گناہ سے بچنے کی کوشش کر کے دیکھتا ہوں  اور توبہ کر لیتا ہوں تو یہ سچی  توبہ نہیں ہے بلکہ اگر کوئی اس نیت سے توبہ کر رہا ہے کہ دوبارہ گناہ کروں گا تو اسے حدیثِ  پاک میں اللہ  پاک  سے ٹھٹھا اور مذاق مسخری کرنا  قرار دیا گیا ہے ( ) کہ اس طرح توبہ کرنے والا گویا اللہ پاک سے  مذاق کر رہا ہے کہ میں تیری نافرمانی نہیں چھوڑوں گا مگر تو مجھے معاف کر دے ۔ اس بات کو آپ اس دُنیوی مثال سے یوں سمجھ سکتے ہیں کہ آپ نے  کسی کو چانٹا مارا اور کہا : بہت مَعذِرَت چاہتا ہوں مگر دوسرے چانٹے کے لیے بھی تیار رہنا کہ دوسرا بھی ماروں گا تو اس طرح معافی مانگنے سے  وہ  کہاں معاف کرے گا ؟ بندہ اسی صورت میں سیٹ ہو گا جب  آپ نے اسے چانٹا مار دیا تو  اب آپ اس کے سامنے عاجزی کریں ، نرمی سے پیش آ ئیں ، ہاتھ جوڑیں اور اس کے پاؤں کو ہاتھ لگا کر کہیں کہ مجھے معاف کردو! میں اب کبھی آپ کو  انگلی بھی نہیں لگاؤں گا تو اس طرح معافی مانگنے سے اس کے دِل میں آپ کی جگہ بن سکے گی ، ورنہ اگر آپ اس سے کہیں کہ میں دوبارہ بھی ماروں گا اور ابھی تو صرف چانٹا مارا ہے بعد میں لات بھی ماروں گا لہٰذا سنبھل کر رہنا ! تو اس طرح وہ آپ کو کبھی معاف نہیں کرے گا ۔ 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن