دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Ishq e Rasool | عِشقِ رسُول

book_icon
عِشقِ رسُول

چھٹی ہجری میں رسولِ کریم، رؤوفٌ رَّحِیم صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کے ہمراہ عمرہ ادا کرنے کے لئے مکۂ مکرمہ کی طرف روانہ ہوئے، جب آپ صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم حُدیبیہ پہنچے تو قریش آپ کی تشریف آوری سے گھبرا گئے۔ایسے حالات میں سَیِّدِ عالَم، نورِ مجسم صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے حضرت سَیِّدُنا عثمانِ غنی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو قریش کے پاس بھیجا اور فرمایاکہ انہیں جاکر بتاؤ کہ ہم لڑنے نہیں بلکہ عمرہ اداکرنے آئے ہیں۔جب آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ مکہ پہنچے تو حُدیبیہ میں موجود صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کہنے لگے کہ عثمان رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ خوش نصیب ہیں، انہیں بیتُ اللہ کے طواف کی سعادت نصیب ہوچکی ہوگی۔ یہ سُن کر محبوبِ دوجہان، سرورِ ذیشان صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّمنے فرمایا :  میرا نہیں خیال کہ ہم یہاں ہوں اور عثمان ہمارے بغیر طواف کرلے۔جب حضرت سَیِّدُناعثمانِ غنی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ مکہ سے واپس تشریف لائے تو صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے پوچھا : اے ابوعبداللہ ! (یہ عثمانِ غنی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی کنیت تھی)آپ نے طوافِ کعبہ کی سعادت تو حاصل کر لی ہوگی؟ تواُس  عشق و وفا کے پیکر نے جواب دیا : قسم ہے اُس ذات کی جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے اگر میں پورا سال مکۂ مکرّمہ زَادَہَا اللّٰہُ شَرَفًاوَّتَعْظِیْماً  میں ٹھہرا رہتا اور پیارے آقا، مکی مدنی مصطفےٰ صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم  حُدیبیہ میں ہوتے تب بھی میں اس وقت تک بیتُ اللہ شریف کا طواف نہ کرتا جب تک کہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم طواف نہ کرلیتے۔ ہاں قریش نے مجھے طواف کرنے کا کہا تو تھا مگر میں نے انکار کردیا۔ ([1])

سُبْحٰنَ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  !آقا ہوں تو ایسے اور غلام ہو تو ایسا ، یقیناً یہ حضرت سَیِّدُنا عثمانِ غنی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا بے پناہ عشْقِ رسول تھا کہ کفار نے آپ کو تنہا طواف کرنے کی پیشکش کی  مگر آپ نے جواب دیا : میں ایسا ہرگز نہیں کرسکتا کہ اپنے  پیارے آقا، مدینے والے مصطفےٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم کے بغیر طواف کرلوں اور پیارے آقا، دو عالم کے داتا صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو بھی اپنے  عاشقِ باصفا پر پورا اعتماد تھا کہ عثمانِ غنی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ میرے بغیر طواف نہیں کریں گے۔  

آقا کا نام نہیں مٹاؤں گا

حُدیبیہ میں صلح نامہ لکھتے وقت حضرت سَیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے جس والہانہ انداز میں سرورِ عالَم ، نورِ مُجسم صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے اپنی بے پناہ محبت کا اظہار کیا وہ بھی اپنی مثال آپ ہے ۔ چنانچہ جب رسولِ کریم، رؤوفٌ رَّحِیم صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم اور قریش کے نمائندے سُہیل بن عَمْرو کے درمیان صلح کی شرائط پر اتفاق ہوگیا تو آپ صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے معاہدہ کی دستاویز لکھنے کیلئے حضرت سَیِّدُنا علیُّ المرتضیٰکَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کو بلایا اور ارشاد فرمایا :  لکھو ”بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم اس پرسہیل نے کہا کہ ہم اسے نہیں جانتے آپ ”بِاِسْمِکَ اللّٰھُمَّلکھئے۔نبیِ کریم، رؤوفٌ رَّحیم صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے حکم پر حضرت سَیِّدُنا علی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے یہی الفاظ لکھ دیئے۔ پھر آپ صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا :  لکھو :  هٰذَا مَا صَالَحَ عَلَيْهِ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللهِ سُهَيْلَ بْنَ عَمْرٍو یعنی یہ وہ شرائط ہیں جن پر اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  کے رسول حضرت محمد صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم کی سہیل بن عمرو کے ساتھ صلح ہوچکی ہے۔ اس پر بھی سہیل کہنے لگا کہ رسولُ اللہ کے الفاظ نہ لکھئے کیونکہ اگر ہمیں آپ کی رسالت پر یقین ہوتا تو پھر ہمارے اور آپ کے درمیان کوئی جھگڑا ہی نہ ہوتا، آپ ایسا کیجئے کہ اس کے بجائے صرف اپنا اور اپنے والد کا نام  لکھ دیجئے۔ رسولِ اکرم، نورِ مجسم صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اس کی یہ بات بھی قبول فرمائی اور حضرت علی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے فرمایا کہ رسول اللہ کے الفاظ مٹا دو۔ لیکن  قربان جایئے حضرت علی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے عشْقِ رسول پر کہ عرض کرنے لگے یارسول اللہ میں آپ کے نامِ مُبارک کو ہرگز نہیں مٹا سکتا۔  بالآخر نبیِ کریم، رؤوفٌ رَّحیم صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے خود ہی رسولُ اللہ کی جگہ محمد بن عبداللہ لکھ دیا۔([2])

  میٹھےمیٹھےاسلامی بھائیو!دیکھا آپ نے کہ یہ روشن اور دَرَخْشَندہ ستارے جن کی چمک دمک سے پورا عالَم جگمگا رہا ہے ان کے دل محبتِ رسول سے کس قدر روشن تھے، عشْقِ رسول کی چاشنی ان کی رگ وجاں میں اس قدر سرایت کرچکی تھی کہ انہیں محبوب آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّمکی ذات سے بڑھ کر کوئی چیز عزیز نہ تھی۔ یہ حضرات عشْقِ رسول میں نہ صرف اپنا مال و دولت لُٹایا دیا کرتے تھے  بلکہ حالتِ جنگ میں اپنی جانوں کی پروا کئے بغیر سَیِّدِ عالمصَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی حفاظت کیلئےاپنی جان کی بازی بھی لگادیتے اوراپنے محبوب صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے جسْمِ نازنین  کیلئے خود کو ڈھال بناکر کفار کی طرف  سے ہونے والے تیروں کے حملے اپنے جسموں پرسہتے  ہوئے جامِ شہادت نوش کرجاتے ۔ اے کاش! ہم بھی صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ   الرِّضْوَان  کی سیرتِ حَسَنہ پر عمل کرکے سرکارِ مدینہ، سُرورِ قلب و سینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم  کے سچے عاشق بن جائیں اور آپ صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی  محبت میں آپ کی ناموس پر جان ومال قربان کرنے والے بن جائیں۔آئیے! ذرا جنگِ اُحُد کے اُس خونریز معرکے کے  احوال ملاحظہ کیجئے جب اسلام کے عظیم مجاہد ین اپنی محبوب ہستی کے دِفاع کے خاطر اپنی جان کے نذرانے پیش کرتے رہے، عشق انہیں آزماتا رہا اور وہ  وفا شِعار سُرخْرُو ہوتے رہے ۔

غزوۂ اُحدکے جانثار صحابہ

صحابۂ کرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُم کے جا ں نثارانہ جذبات کا ظہورسب سے زیادہ غزوۂ اُحُد میں ہوا، اس غزوہ میں ایک  مقام پر رسولُ اللہ صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے ساتھ صرف سات انصاری اور دوقریشی صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان رہ گئے۔اس حالت میں کفار نے آپ صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم پر گھیرا تنگ کردیا، آپ صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ان جاں نثاروں سے مخاطب ہوکر فرمایا : جو اُن بدبختوں کو ہم سے دور  ہٹائے گا اس کے لئے جنت ہے۔ ایک انصاری صحابی  فوراً آگے بڑھے اور کفار سے لڑتے ہوئے  آپ صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم  پرقربان ہوگئے۔اس طرح ایک ایک صحابی آپ صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم پر اپنی جان قربان کرتا جاتا ، یہاں تک کہ یکے بعد دیگرے ساتوں انصاری صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  جامِ شہادت نوش کرگئے۔ ([3])   

حُسنِ یوسف پہ کٹیں مصر  میں انگشْتِ زناں

 



[1]    دلائل النبوة، باب ارسال النبی …الخ، ۴/ ۱۳۳-۱۳۴، ملخصاً

[2]    الکامل فی التاریخ، ذکرعمرة الحدیبیة ، ۲/ ۸۹، ملخصاً

[3]       مسلم، کتاب الجھادوالسیر، باب غزوةاحد، ص۹۸۹ ، حدیث : ۱۷۸۹، ملخصاً

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن