دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Ishq e Rasool Barhane Ka Tariqa | عشق رسول بڑھانے کا طریقہ

book_icon
عشق رسول بڑھانے کا طریقہ

سنتا ہوں۔ ‘‘ اور ایسا کہنے میں مزا بھی نہیں آتا۔ بعض اوقات میں بولنے والے کے مُنہ کے قریب کان لے جاتا ہوں کہ کیا بول رہے ہیں؟ اس پر بھی ان کو رَحم نہیں آتا کہ اس کو بار بار یوں جھکانے سے بہتر ہے کہ ہم ذرا اُونچا بول دیں تاکہ کان میں آواز چَلی جائے۔ بہرحال! موقع کی مُناسبت سے اتنی آواز کے ساتھ بات کرنی چاہیے کہ سامنے والا سمجھ سکے ، اس میں آپ ہی کا  فائدہ ہے۔ چیخ چلّا کر جو باتیں کرتے ہیں یہ سنّت نہیں ہے۔ سامنے والے کے اِحتِرام کا خیال بھی رکھنا چاہیے ، اس کے درجے کے مُطابق اس سے بات کی جائے۔ ہمارے  ہاں ’’تو تکار ، اوئے توئے‘‘ کررہے ہوتے ہیں ، یہ طر یقے بھی سنّت نہیں ہیں۔ حوصلہ اَفزائی کرنی چاہیے ، غلط خوشامد  نہیں کرنی چاہیے اور سنبھل کر بات کرنی چاہیے۔ صحیح یہ ہے کہ کم سے کم بولے ، خصوصاً  محفل میں جب  کم بولے گا تو اس کا بھرم رہے گا اور  اگر اس میں کوئی کمزوری ہے تو وہ بھی چھپی رہے گی۔ کہتے ہیں نا کہ خاموشی عالم کا وَقار جب کہ جاہل کا پَردہ ہے۔ عالم بھی زیادہ بول بولا کرے گا تو لوگ اِدھر اُدھر دیکھ ر ہے ہوں گے اور اس کا اِمپریشن قائم نہیں رہے گا۔ عالم کو چاہیے کہ نپا تُلا بولے اور کم بولے ، تاکہ سننے والے کو یہ  رہے کہ اب  حضرت مزید کچھ فرمائیں ، یہ اچھا ہے ، یہ نہیں کہ حضرت اَب چُپ کریں ، یہ اچھا  نہیں ہے۔ جاہل جب بولتا ہے تو  اس کا پردہ چاک ہوجاتا ہے اور اس کا بھاؤ پتا چل جاتا ہے ، کیونکہ اس  بے چارے کی جہالت کُھل جاتی ہے اور وہ بے وُقوفی  کی باتیں کرنے لگتا ہے۔ البتہ جب تک وہ خاموش  رہتا ہے تب تک اس کا رُعْب اور بھرم قائم رہتا ہے۔

کورونا وائرس کا خوف

سُوال : ایک افسوس ناک خبر یہ ہے کہ پھیلتے پھیلتے اب کورونا وائرس کے Patient (یعنی مریض) کراچی میں بھی  ریکارڈ ہوچکے ہیں اور یہ چیز ٹھیک ٹھاک  Viral (یعنی عام) ہورہی ہے جس سے بہت خوف و ہراس  پھیل رہا ہے۔ اس بارے میں کچھ ارشاد فرمائیے۔ (نگرانِ شوریٰ ابو حامد محمد عمران عطاری)

جواب : کورونا  وائرس نیا دریافت ہوا ہے ، اس کے بارے میں طرح طرح کی  تحقیقات آرہی ہیں اور اسے بہت خطرناک مانا جارہا ہے۔ اِنسانی جانیں بھی جارہی ہیں۔ اللہ کریم ہر مسلمان کی حفاظت فرمائے اور عاشقانِ رسول کو اس سے محفوظ رکھے ، جن عاشقانِ رسول کو کورونا وائرس ہوگیا ہے پا ک پروردگار انہیں شفائے عاجلہ نافعہ عطا کرے۔ صبر و ہمّت سے کام لیں ، مَلَکُ الْمَوْت عَلَیْہِ السَّلَام کے پاس سب کی لسٹیں ہیں۔ بچنا کسی نے نہیں ہے ، کورونا  وائرس نے ڈَرا رکھا ہے ، کاش!  اپنے رب کا خوف اور ڈَر ہم کو نصیب ہوجائے۔ بہرحال! ہمارے لئے عبرت  ہے کہ کورونا وائرس سے ڈَر لگ رہا ہے ، ورنہ ویسے تو روز ہی حادثوں اور بیماریوں کی وجہ سے اَموات ہوتی ہیں اور بیٹھے بیٹھے ہارٹ فیل ہوجاتا ہے۔ مَلَکُ الْمَوْت عَلَیْہِ السَّلَام کو وقت کاانتظار ہے ، جیسے ہی وقت  پورا ہوگا وہ ایک سیکنڈ بھی دیر نہیں لگائیں گے۔ ([1]) اللہ کریم ہمارا اِیمان سلامت رکھے  اور کورونا وائرس بلکہ تمام مہلک اَمراض سے ہماری حفاظت فرمائے۔ اللہ کریم آسانی دے اور  مدینہ پاک میں محبوب کے جَلوں اور قدموں میں زیرِ گنبد خضرا شہاد ت نصیب کردے ، جنتُ البقیع میں مَدفَن مِل جائے اور جنتُ الفردوس میں پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا پڑوس نصیب ہوجائے ۔

اجمیر شریف کا سفر اور منقبت خوانی

سُوال : کیا آپ کی  خواجہ غریب نواز رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کی بارگاہ میں کبھی حاضری ہوئی ہے؟ (محمد چشتی عطاری۔ سوڈان)

جواب : اَلْحَمْدُ لِلّٰہ! اللہ پاک کی رَحمت سے مجھے لاتعداد مرتبہ اَجمیر شریف کا سفر نصیب ہوا ہے اور خواجہ صاحب کی  منقبت خوانی کی سعادت ملی ہے۔

کیا ثواب کا ہر کام عبادت ہوتا ہے؟

سُوال : غریبوں کی مَدَد کرنا ، سچ بولنا ، بھوکے کو کھانا کھلانا ، راستے سے پتھر ہٹانا ، پرندوں کو پانی پلانا وغیرہ سب  ثواب کے کام ہیں ، یہ ارشاد فرمائیے کہ  کیا  ثواب کے سب کام عبادت ہوتے ہیں؟ کیونکہ عبادت تو صر ف اللہ پاک کی ہوتی ہے۔ (محمد حماد عطاری کا سُوال )

جواب : جو کام آپ نے گنوائے  اگر اچھی نیّت سے اور رضائے اِلٰہی کے لئے کئے گئے ہوں تو بے شک ثواب کے کام ہیں ، کیونکہ یہ اللہ ہی کے لئے کئے ہیں ، اس لئے یہ بھی اللہ ہی  کی عبادت ہیں۔ ماں باپ کی فرمانبرداری ، ان کا حکم ماننا اور انہیں نفع پہنچانا اگر ثواب کے لئے کیا تو یہ اللہ کی عبادت ہوگئی ، کیونکہ یہ کام ہم نے اللہ کے لیے کئے ہیں۔ البتہ اگر خدمت کرنے کا مقصد یہ ہے کہ اب یہ بوڑھے ہوچکے ہیں ، ان کی خدمت کرتا ہوں ، تاکہ اپنی زندگی میں ہی وِرْثہ تقسیم کردیں اور مجھے زِیادہ دے دیں تو اب یہ ذاتی مَفاد ہے۔ یہ ایک مثال ذہن میں آئی تو میں نے عرض کردی۔ بہرحال! اللہ کی رضا کے لئے جو بھی ثواب کے کام کئے جائیں وہ عبادت میں شمار ہوتے ہیں۔ ([2])

صدقہ اور خیرات کی قبولیت کا معیار

سُوال : صدقہ اور خیرات کی قبولیت کا معیار کیا ہے ؟ (سوشل میڈیا کے ذریعے سُوال)

جواب : اِخلاص کے ساتھ جو عمل کیا جائے اللہ کی رَحمت سے اس میں قبولیت کی اُمّید بہت زِیادہ ہے ، اور اگر اِخلاص نہیں ہے تو پھر وہ  رَد ہے ، اس میں قبولیت نہیں ہے۔ ([3]) جیسے



[1]    پ۸ ، الاعراف : ۳۴۔

[2]    شرح صحيح مسلم للنووی ، کتاب الزکاة ، باب بیان ان اسم الصدقة... الخ ، ۷ / ۹۲۔

[3]    نسائی ، کتاب الجھاد ، باب  من غزا  یلتمس  الاجر و الذکر ، ص۵۱۰ ،  حدیث : ۳۱۳۷ ماخوذاً۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن