30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جواب : مَاشآءَ اللہ! بڑی پیاری مَدَنی مُنّی ہے ، ماہِ رَجَب کی مُبارک باد دی ہے۔ آپ کو بھی رَجَب کا مہینا مُبارک ہو ، آپ کو جس نے یہ انداز سکھایا اس کو بھی مُبارک ہو۔ ’’غریب نواز‘‘ کا معنی ہے : غریبوں کو نوازنے والا ، غریبوں پر سخاوتو ں کے دروازے کھولنے والا او ر ان کی جھولیاں بھرنے والا۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ! ہمارے خواجہ خواجگان غریبوں کو نوازنے والے اور سخاوتوں سے مالا مال کرنے والے ہیں۔
اپنے ہاتھ سے کام کرنے کی کیا فضیلت ہے؟
سُوال : اپنے ہاتھ سے کا م کرنے کی کیا فضیلت ہے؟
جواب : پیارے آقا صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کئی کام اپنے مُبارک ہاتھوں سے کرتے تھے ، جیسے بکریوں سے دودھ دوہ لینا ، نعلین پاک یعنی اپنے چپّل شریف ہاتھ سے سی لینا ، بکریوں کو چارا ڈالنا ، ضرورت کی چیز بازار سے لے آنا ، اپنے مُبارک ہاتھوں سے کپڑے دھو لینا ، اس طرح کے کئی کام نبیٔ کریم صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے اپنے مُبارک ہاتھوں سے کئے ہیں۔ ([1]) اپنے ہاتھوں سے کام کرنے کی عادت رکھیں ، یہ انسان کو محتاجی اور دوسروں کے اِحسان سے بچاتا ہے ، نیز یہ صحّت کے لئے بھی مفید ہے ، جیسے کسی کو شوگر ہے ، اب اگر وہ کام نہیں کرے گا اور خالی بیٹھا رہے گا تو شوگر بڑھنے کا خطرہ ہے ، ہاتھ پاؤں کم ہلیں گے تو صحّت کے لئے نُقصان دہ ہے۔
لوگوں کے درمیان بیٹھنے کے آداب
سُوال : لوگوں کے درمیان بیٹھنے کے کچھ آداب ارشاد فرمادیجئے۔ (خالد حسنین)
جواب : لوگوں کے درمیان بیٹھے تو نِگاہوں کی حِفاظت کرے ، یوں ہی لوگوں کی بات نہ کاٹے ، بَسا اَوقات ایسا ہوتا ہے کہ اگلا بات کرتا ہے اور ہم سے برداشت نہیں ہوتا ، جس کی وجہ سے فوراً اس کی بات کاٹ کر اپنی بات شروع کردیتے ہیں ، ایسا کرنا سنّت نہیں ہے ، جب تک اگلا اپنی بات ختم نہ کردے پیارے آقا صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم اس کی بات سنتے تھے ، خود ارشاد نہیں فرماتے تھے۔ ([2]) اسی طرح کسی کی بات پر ہنسی نہ اُڑائے کہ بعض اوقات سامنے والا کمزور بات کردیتا ہے جس سے ہم لوگوں کی ہنسی چھوٹتی ہے اور ہم اس کی تحقیر میں ہنسنا شروع ہوجاتے ہیں ، وہ بے چارہ بھی اپنی شرم اور جھینپ(ندامت) مٹانے کے لئے ہنس رہا ہوتا ہے ، ایسا نہیں ہونا چاہیے۔ البتہ اگر اس نے کوئی گناہ بھری بات کردی تو محبّت اور پیار سے موقع کی مُناسبت دیکھ کر ضرور تفہیم کی جائے اور سمجھایا جائے ، لیکن اس کے عیب پر نظر نہ ڈالی جائے اور نہ ہی اس کو بات بات پر ٹوکا جائے نہ مذاق اُڑایاجائے۔ آج کل ہم جو بے تکلفی میں ہا ہا کرکے اور چیخ چیخ کر بات کر رہے ہوتے ہیں یہ طریقہ بھی غلط ہے ، یہ نہیں ہونا چاہیے کہ اس کی تو قرآنِ کریم میں مَذمّت بھی ہے۔
(اس موقع پر پاس بیٹھے مفتی صاحب نے یہ آیتِ مُبارکہ تلاوت فرمائی : )
(وَ اقْصِدْ فِیْ مَشْیِكَ وَ اغْضُضْ مِنْ صَوْتِكَؕ-اِنَّ اَنْكَرَ الْاَصْوَاتِ لَصَوْتُ الْحَمِیْرِ۠(۱۹)) ([3])
ترجمۂ کنزُ الایمان : اور میانہ چال چل اور اپنی آواز کچھ پست کر بےشک سب آوازوں میں بُری آواز گدھے کی آواز۔
(امیرِ اہلِ سُنَّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے فرمایا : )بولنے میں آواز اِتنی دھیمی نہ ہو کہ بے چارہ اگلا بار بار پوچھتا ر ہے کہ کیا کہا؟ ایسی آواز ہونی چاہیے جس سے آپ کا اِمپریشن بھی خراب نہ پڑے اور اگلے کو بھی بار بار پوچھنے کی وجہ سے شرم محسوس نہ ہو۔ البتہ بیان میں جوشیلی آواز ہوتی ہے ، اس میں حَرَج نہیں ہوتا ، کیونکہ وہ ضرورت کے مطابق ہوتی ہے۔
(اس موقع پر نگران شوریٰ نے فرمایا : ) بعض اوقات سامنے والے کو بار بار بولنا پڑتا ہے کہ ذرا اونچا فرمادیں! کیا کہنا چاہ رہے ہیں؟ اس میں آزمائش ہوجاتی ہے۔
(امیرِ اہلِ سُنَّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے ارشاد فرمایا : ) میں جب لوگوں سے ملاقات کرتا ہوں تو یہ آزمائش مجھے زیادہ ہوتی ہے۔ اوّل تو میں عرض کرتا ہوں کہ بات نہ کریں اور جلد ی جلدی فارغ ہوجائیں ، لیکن بولنا سب نے ہوتا ہے۔ میں نے کہہ رکھا ہے کہ اپنی ہتھیلی پر پھونک ماروگے تو میں آپ کو دَم کردوں گا ، مگر وہ دَم دَم بھی بول رہے ہوتے ہیں ، ساتھ میں اِشارہ بھی کرتے ہیں۔ اچھا پھر بولتے ہیں تو بہت آہستہ بولتے ہیں اور مجھے بارہاسمجھ ہی نہیں آتی کہ اگلا بول کیا رہا ہے۔ بعض لوگ حسرت سے سوچتے ہوں گے کہ میری بات نہیں سمجھے ، حالانکہ اگر وہ بے چارہ یہ کہنے کے بجائے کہ ’’مجھ پر دَم کردیں‘‘ میری بات پر عمل کرتا اور دَم کا اِشارہ کرتا تو میں دَم کردیتا ، نہ اس کو پریشانی ہوتی اور نہ ہی مجھے تکلیف ہوتی۔ یہ وَسوسے بھی آتے ہوں گے کہ ’’میں نے بولا ’’دَم کردو‘‘ دَم کرنے میں اس کا کیا جاتا ہے۔ ‘‘ حالانکہ Mikeچَل رہا ہوتا ہے اور یہ بے چارے آہستہ آہستہ بول رہے ہوتے ہیں۔ پھر یہ بھی آپ کو بتادوں کہ آدمی کی Age(یعنی عُمر)کے ساتھ ساتھ اس کی جوانی ڈھلتی ہے اور پستی یعنی نیچے کی طرف آتی ہے جسےعوام میں اُترتا خون بولا جاتاہے۔ تو جس کااُترتا خون ہوتا ہے اس کی ہر چیز میں تبدیلی آتی ہے ، یعنی اب پہلے کی طرح اس کی نظر نہیں رہے گی ، نظر میں کمی آئے گی ، سونگھنے کی طاقت کمزور پڑ جائے گی ، کھانے میں وہ ٹیسٹ نہیں آئے گا جو جوانی میں آتا تھا ، اس سب میں ہمارے لئے عبرت بھی ہوتی ہے۔ اسی طرح سننے میں بھی فرق آتا ہے کہ پہلے یہ باریک باریک باتیں سُن لیتا تھا ، اب نہیں سُن پائے گا اور کہنا پڑے گا کہ میں اُونچا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع