30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کیا رِشتے اَزل سے بنے ہوئے ہیں؟
سُوال : کیا یہ کہنا دُرُست ہے کہ اللہ پاک نے رِشتے اَزل سے بنادئیے ہیں؟ (سید اَحسن ، سوشل میڈیا کے ذریعے سُوال)
جواب : لوحِ محفوظ پر جوڑے لکھے ہوئے ہیں ، اللہ پاک کے عِلم میں ہے کہ کس کی شادی ہوگی؟ کس کی نہیں ہوگی؟ کس کی کہاں ہوگی؟ کب تک چلے گی؟ یعنی لمحے لمحے ، ہر شے اور ذرّے ذرّے کا عِلم اللہ پاک کو ہے ، ([1]) یہاں تک کہ اگر کوئی نَعُوْذُ بِاللہ یہ کہے کہ ’’فلاں چیز کے فلاں حصّے کا عِلم اللہ پاک کو نہیں ہے تو وہ کافر ہوجائے گا۔ ([2]) اس پر تو سوچنا بھی نہیں ہے کہ اللہ کو کتنا عِلم ہے؟ اللہ پاک کو عِلم ہے اور اتنا عِلم ہے کہ ہماری عقلیں اس کو نہیں پہنچ سکتیں۔ سارے کا سارا عِلم اس کے پاس ہے ، اب وہ اپنے کرم سے جس کو جتنا عطا کرے اس کو اتنا عِلم ہے۔ ہمیں نہیں پتا کہ شادی ہوگی یا نہیں؟ لیکن ہمیں جدّوجہد تو کرنی ہے ، جیسے روزی کے لئے بھی ہم جدّوجہد کرتے ہیں کہ کیا کھا ئیں اور کیا نہ کھائیں ، دنیا عالمِ اَسباب ہے ، تدبیر تو کرتے رہنی ہے۔
قرآنِ پاک یاد کرنے کا آسان وَظیفہ
سُوال : قرآنِ پاک یاد کرنے کا آسان وَظیفہ بتادیجئے۔
جواب : Serious (یعنی سنجیدہ) ہونا سب سے بڑا آسان وَظیفہ ہے ، یعنی بندہ یہ ٹھا ن لے کہ میں نے یہ کرنا ہے ، بندہ وہ کرلے گا۔ کرنے والا جب Serious ہوتا ہے تو کرہی لیتا ہے۔ حضرت سیّدنا امام محمد رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ حنفیوں کے عظیم پیشوا حضرت سیّدنا امامِ اعظم ابو حنیفہ کی بارگاہ میں جب پڑھنے کے لئے حاضرہوئے توچھوٹے تھے ، اس لئے آپ نے فرمایا کہ بیٹا! پہلے حفظ کرلو۔ ابھی ایک ہفتہ گزرا تھا کہ سامنے آکر کھڑے ہوگئے کہ میں آپ سے پڑھنا چاہتا ہوں ، آپ نے فرمایا کہ بیٹا! میں نے کہا تھا نا کہ حفظ کرلو۔ عرض کی کہ حضور! وہ تو میں نے کرلیا ہے۔ پوچھا : آٹھ دن میں کرلیا ہے؟ عرض کی : جی ہاں۔ اب امامِ اعظم نے توجہ فرمائی کہ یہ بچہ بہت ذہین ہے ، اس کے بعد آپ پڑھانے کے لئے راضی ہوئے ، مگر آپ دیوار یا سُتون کے پیچھے بٹھا کر پڑھاتے تھے ، کیونکہ اس وقت امام محمد رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ اَمْرَد تھے ، ([3]) یہ امامِ اعظم رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کا تقویٰ تھا کہ اَمْرَد پر نظرنہ پڑے۔ اللہ کریم ان کے صدقے ہمارے گناہ مُعاف فرمائے اور ہماری مغفرت فرمائے۔ اس طرح کے اور بھی حفاظ ہوئے ہیں۔ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کا حافظہ بھی بڑا زبردست اور قوی تھا۔ آپ کی سیرت میں لکھا ہے کہ آپ نے ایک مہینے میں قرآنِ کریم حفظ کیا تھا۔ اِفطار کے بعد مغرب اور عشا کے درمیان قرآنِ کریم کا ایک پارہ توجہ سے دیکھ لیتے تھے اور غور سے پڑھ لیتے تھے ، اسی سے آپ کو قرآنِ کریم حفظ ہوگیا۔ ([4]) آپ نے حفظ کیوں کیا تھا؟ اس کا بھی بڑا پیارا واقعہ ہے۔ کچھ لوگ ناواقفیت کی بنا پر آپ کو حافظ صاحب بول دیتے تھے کہ حافظ احمد رضا۔ یہ آپ کو کھٹکتا تھا کہ میں حافظ ہوں نہیں اور لوگ مجھے حافظ بولتے ہیں ، آپ نے سوچا کہ اللہ کے بندوں کا یہ کہنا غلط نہ ہو ، بے چارے حافظ بولتے ہیں ، ان کے حسنِ ظنّ کا مان رکھ لیا جائے ، یوں آپ نے حفظ کرلیا اور حافظ احمد رضا ہوگئے۔ ہمارے یہاں تو کسی مولانا کو مفتی بول دیا جائے تو شاید اسے مفتی کی Definition (تعریف) بھی پتا نہ ہو ، لیکن وہ منع نہیں کرے گاکہ مجھے مفتی مت بولو۔ طلبائے کِرام کو لوگ علّامہ بول دیتے ہوں گے ، کیونکہ یہ خطیب بھی ہوتے ہیں ، حالانکہ علّامہ بہت بڑے عالم کو بولتے ہیں ، ہر عالم بھی علّامہ نہیں ہوتا۔ یہاں تو درسِ نظامی کرنے سے پہلے ہی علّامہ بن جاتے ہیں ، بعد میں علّامۂ دہر بن جائیں گے ، پھر دو چار مسئلے یاد کرلیں گے تو مفتیٔ اِسلام بن جائیں گے ، ایسے تھوڑی ہوتا ہے ، سب کی اپنی اپنی Category ہوتی ہے اور درجے مقرر ہوتے ہیں۔ ہماری یا کسی کی مرضی سے ہم عالم یا مفتی نہیں بن سکتے ، اس کے لئے مِقدارہے ، وہ پوری ہوگی تب جا کر بنیں گے۔
دِین کے کاموں کے لئے مسجد میں سُوال کرنا کیسا؟
سُوال : کیا دِین کے کاموں کے لئے مسجد میں سُوال کرنا جائز ہے ؟ (علی عطاری۔ گجرانوالہ)
جواب : اگر نمازیوں کو تکلیف نہیں ہوتی تو کسی مدرسے یا مسجد کی تعمیر وغیرہ کے لئے اِعلان کرسکتے ہیں۔ نمازیوں کو تکلیف نہیں ہونی چاہیے۔ اگر ایسی صورت بنی کہ لوگوں کا ہجوم ہے ، نمازیوں کی نمازیں اُلٹ پُلٹ ہورہی ہیں اورمدرسے کا چندہ ہورہا ہے تو ظاہر ہے کہ یہ انداز نہیں چلے گا۔ سنجیدہ انداز ہوگا تو اس میں کوئی حَرَج نہیں ہے۔ مسجد میں اپنی ذات کے لئے سُوال نہیں کیا جاسکتا ، ([5]) جیسے سائل کھڑے ہوکر مانگ رہے ہوتے ہیں۔
سُوال : آپ کو رَجَب کا مہینا مُبارک ہو۔ غریب نواز کے کیا معنیٰ ہیں؟ (چھوٹی بچی عائشہ کا سُوال)
[1] بہار شریعت ، ۱ / ۱۰ ، حصّہ : ۱ ملخصاً۔
[2] کفریہ کلمات کے بارے میں سوال جواب ، ص۶۱۲۔
[3] مناقب الامام الاعظم للکردری ، الباب الثالث فی ذکر الامام محمد بن الحسن ، الفصل الاول فی صفته و مولده و وفاته...الخ ، ۲ / ۱۵۵۔
[4] حیاتِ اعلیٰ حضرت ، ۱ / ۲۰۸۔
[5] در مختار ، کتاب الصلاة ، باب ما یفسد الصلاة وما یکرہ فیھا ، ۲ / ۵۲۳۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع