سخی (اللہ پاک کے ) فضل پر خوش ہو تا ہے، جبکہ کنجوس اپنے مال پر فخر کر تا ہے۔
(التذکرۃا لحمدونیہ،2/262،رقم 682)
اعلیٰ اخلاق کی نشانی یہ ہے کہ بندہ اپنے مہمان کی(خود) مہمان نوازی کرے جیسا کہ حضرت ابراہیم خلیلُ اللہ علیہ السّلام نے خود اور اپنے گھر والوں کے ساتھ مہمانوں کی مہمان نوازی فرمائی۔ (المستطرف، ص 194۔ ربیع الابرار،3/227)
قیامت کے دن تین آنکھوں کے علاوہ ہر آنکھ جاگتی (یعنی پریشان ) ہو گی (1)وہ آنکھ جو اللہ پاک کی راہ میں جاگتی رہی اور (2)وہ آنکھ جو اللہ پاک کے حرام کئے ہوئےکاموں سے بچی رہی اور (3)وہ آنکھ جو اللہ پاک کے خوف سے (روتی )رہی۔
(التذکرۃ الحمدونیۃ،1/116،رقم:236)
امام زین العابدین رحمۃُ اللہِ علیہ نے عید کے دن لوگوں کو دیکھا کہ وہ ہنس رہے ہیں تو آپ نے فرمایا: بیشک اللہ پاک نے رمضان کے مہینے کو اپنی مخلوق کے لیے میدانِ ( عمل ) بنایا ہے ، تاکہ لوگ اُس کے پسندیدہ کاموں کی ادائیگی کے ساتھ سبقت لے جائیں، چنانچہ ایک قوم نے اس معاملے میں پہل کر لی تو وہ کامیاب ہو گئے اور ایک قوم پیچھے رہ گئی تو وہ نقصان میں رہی، تو اُس دن غفلت میں رہتے ہوئے ہنسنے والوں پر تعجب ہے کہ جس میں نیک لوگ کامیاب ہوتے ہیں اور بُرے کام والے نقصان میں رہتے ہیں ، خدا کی قسم ! اگر پَر دے اٹھا دیے جائیں تو بجا ئے نئے کپڑے پہننے اور بال سنوارنے کے نیک لوگ اپنے اوپر ہونے والے احسان کے شکر میں اور بُرے لوگ اپنے گناہوں پر ندامت میں مشغول ہو جائیں۔(التذکرۃ الحمدونیہ،1/117، رقم:240)
ہوشیاری کاملناحفاظت کا اشارہ کرتا ہے۔ عقلمند کے لیے اشارہ کافی جبکہ جاہل کے لیے تفصیلی کلام بھی بے فائدہ ہے اور اگر چہ کتنی ہی مفید بات کیوں نہ ہو بُرے طریقے سے سُننے کی صورت میں اُس سے نفع حاصل نہیں کیا جاسکتا۔
(التذکرۃ الحمدونیہ،1/273، رقم:705)
اگر لوگ مختلف حالات میں سوالات کی ترجیح اور بیانات کی دُرستی کی کیفیت جان لیں تو وہ اپنے دلوں میں کھٹکنے والی باتوں کی تہہ تک بھی پہنچ سکتے ہیں، نیز اس سے انہیں ایسا یقین نصیب ہوگا جو اُنہیں سوائے اپنے اعمال (کے نتائج )کے (لوگوں کی طرف سے پیدا کی گئی ) ہر کیفیت میں خرابی سے محفوظ رکھے گا لیکن ایسے اُمور تک رسائی تھوڑے سے عرصے میں اور ذرا سے غورو فکر سے حاصل نہیں ہوتی بلکہ اس کے لیے انہیں بہت گہرائی سے ایسے لوگوں کی جانچ پڑتال کرنا ہوگی جو جہالت ، خود پسندی اور خواہشات میں گرفتار ہیں اور علم سے غافل ہوکر برائیوں میں مشغول ہیں ۔ (البیان والتبیین ،1/84)
(کسی کو غیبت کرتے ہوئے سُنا تو فرمایا : ) غیبت سے بچو کیونکہ یہ جہنّم کے کتوں کا کھانا ہے ، نیز جو شخص لوگوں کی عزّت اُچھالنے سے باز رہے تو اللہ پاک قیامت کے دن اُس کے گناہوں سے دَر گزر فرما ئے گا۔(ربیع الابرار،2/320،رقم:55۔المختار من مناقب الاخیار،4/42)
پیارے پیارے اسلامی بھائیو!مظلومِ کربلاحضرتِ امام زین العابدین رَحمَۃُ اللہِ علیہ نے غیبت کرنے والوں کوانسان نُما کتّوں کے ساتھ اس لئے تشبیہ دی ہے کہ قراٰنِ مجید اور احادیثِ مبارَکہ میں غیبت کو مردار کا گوشت کھانے کی مثل بتایا گیا ہے اور مردار کا گوشت چبانا اور کھانا کتّوں کا کام ہے لہٰذا غیبت کرنے والے گویا کُتّوں کی مثل ہو کر آدمیوں کی اَقسام سے خارِج ہوئے کیونکہ اگر آدَمی ہوتے تو ان میں آدمی کی صفت ہوتی اور انسان کی خصلت ان میں پائی جاتی ،کسی کی غیبت نہ کرتے ،کسی کا گوشت کُتّوں کی طرح نہ چباتے۔(غیبت کی تباہ کاریاں،صفحہ:324)
نبی کا صدقہ سدا غیبتوں سے دور رکھنا کبھی بھی چُغلی کروں میں نہ یا رب!
ترے حبیب اگر مسکراتے آ جائیں تو گورِتیرہ میں ہو جائے چاند نا یا رب!
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب! صَلَّی اللهُ علٰی مُحَمَّد
غصّے کی حالت میں بندہ غضبِ الہی کے زیادہ قریب ہو جاتا ہے۔(المستطرف، ص 203)
کوئی شخص کسی دوسرے پر برتری نہ جتائے کیونکہ تم سب غلام (یعنی بندے) ہو اور تمہارا آقا(یعنی پالنے والا) ایک ہی ہے ۔(التذکرۃ الحمدونیہ،3/390، رقم:1051)
امام زین العابدین رحمۃُ اللہِ علیہ کے شہزادے کا انتقال شریف ہوا تو آپ نے جَزَع فَزَع (یعنی بُلند آواز سے رونا یا نوحہ) نہیں کیا اور فرمایا: یہ (موت) ایسی بات ہے ، جس کی ہم توقع رکھتے تھے ، پس جب وہ واقع ہوگئی ، تو ہم اُ س پر انکار نہیں کرتے۔
(التذکرۃ الحمدونیہ،4/195، رقم:475۔ المختار من مناقب الاخیار،4/39)
سب سے بڑی غربت اپنے پیاروں کو کھو دینا ہے ۔ (حلیۃ الاولیاء،3/158،رقم:3540)