آپ رحمۃُ اللہِ علیہ یہ دعاکیاکرتےتھے:’’اَللّٰہُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِکَ اَنْ تُحَسِّنَ فِیْ لَوَائِعِ الْعُیُوْنِ عَلَانِیَتِیْ وَتُقَبِّحَ فِیْ خَفِیَّاتِ الْعُیُوْنِ سَرِیْرَ تِیْ اَللّٰہُمَّ کَمَا اَسَاْتُ وَاَحْسَنْتَ اِلَیَّ فَاِذَا عُدْتُّ فَعُدْ عَلَیَّ یعنی اے اللہ پاک ! میں اس بات سےتیری پناہ مانگتا ہوں کہ میرے ظاہری کام تو اچھے ہوں لیکن چھپے کام بُرےہوں۔اےاللہ پاک ! میرے بُرے اعمال کے باوجود جس طرح تُو نے میرے ساتھ بھلائی کا معاملہ فرمایا اسی طرح اگردوبارہ مجھ سےکوتاہی ہو جائے تو میرے ساتھ عفو و درگزر کا معاملہ ہی فرمانا۔“ (حلیۃ الاولیاء،3/158،رقم:3540)
(عبادت میں لوگوں کی تین قسمیں ہیں:) (1)کچھ لوگ اللہ پاک کی عبادت خوف کی وجہ سے کرتے ہیں، یہ غلاموں کی سی عبادت ہے۔ (2)کچھ لوگ جنت حاصل کرنے کے لئے عبادت کرتے ہیں، یہ تاجروں کی سی عبادت ہے اور کچھ لوگ بطورِشکر عبادت کرتے ہیں، یہ آزاد لوگوں کی عبادت ہے۔(حلیۃ الاولیاء،3/158،رقم:3540)
سب سے زیادہ مال دار وہ ہے جو اللہ پاک کے دئیے گئے رزق پر قناعت کرے ۔
(حلیۃ الاولیاء،3/159،رقم:3543)
ہم سے اسلام کے لئے محبت رکھو اور ہمیں ہمارے مرتبے سے بلند نہ کرو۔
(حلیۃ الاولیاء،3/161،رقم:3552)
مجھے نرمی سے جتنا حصہ ملا ہے اس کے بدلے اگر سرخ اونٹ بھی ملیں تو مجھے پسند نہیں۔ (حلیۃ الاولیاء،3/161،رقم:3553)
*حضرتِ محمد بن عبدالرحمٰن بن مدینی رحمۃُ اللہِ علیہ بیان کرتے ہیں کہ حضرتِ علی بن حسین رحمۃُ اللہِ علیہما اپنی قوم کے حلقوں کو چھوڑ کر حضرتِ زید بن اسلم رحمۃُ اللہِ علیہ کے حلقے میں جاکر بیٹھ جاتے اور فرماتے: ’’آدمی اسی کے پاس بیٹھتا ہے جو دینی اعتبار سے اسے فائدہ پہنچائے۔‘‘(حلیۃ الاولیاء،3/162،رقم:3556)
* اے لوگو! مجھے(کثرت سے رونے پر)ملامت نہ کرو کیونکہ حضرتِ یعقوب علیہ السّلام نے اپنے ایک بیٹے (حضرتِ یوسف علیہ السّلام ) کو کھویا تو اس قدر وئے کہ ان کی آنکھیں سفید ہوگئیں(یعنی بینائی کمزور ہوگئی) حالانکہ آپ (خود سے) نہیں جانتے تھےکہ بیٹے کا وصال ہوچکا ہے(یازندہ ہیں)،جبکہ میں نے اپنے گھر کے 14افراد کو اپنی آنکھوں کے سامنے ایک ہی جنگ(میدانِ کربلا) میں شہید ہوتے دیکھا ہے، تمہارا کیا خیال ہے کہ ان کا غم میرے دل سے نکل جائے گا؟(حلیۃ الاولیاء، 3/162، رقم: 3557)