30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(26)شریعت ہی صرف وہ ’’راہ ‘‘ہے جس کا مُنْتَہیٰ ’’اللہ ‘‘ہے اور جس سے وُصول اِلَی اللہ(یعنی خدا تک پہنچنا)ہے اور اس کے بغیر آدمی جو راہ چلے گا اللہ کی راہ سے دُورپڑے گا۔
(فتاویٰ رضویہ ، 29 / 388)
(27)دنیا گُزشْتَنی(یعنی گزرجانے والی)ہے ، یہاں احکامِ شرع(شریعت کی مُقَرَّر کی گئی سزائیں) جاری نہ ہونے سے خوش نہ ہوں۔ ایک دن انصاف کاآنے والا ہے جس میں شاخدار( یعنی سینگ والی)بکری سے مُنْڈی(یعنی بے سینگ کی)بکری کا حساب لیا جائے گا۔ (فتاویٰ رضویہ ، 16 / 310)
(28)ناجائز بات کو اگر کوئی بدمذہب یا کافر مَنْع کرےتو اسے جائز نہیں کہا جاسکتا۔ ( فتاویٰ رضویہ ، 21 / 154)
(29)کسی چیز کی مُمانَعَت قرآن وحدیث میں نہ ہو تو اسے منع کرنے والا (گویا )خود حاکِم و شارِع ( یعنی صاحبِ شریعت)بننا چاہتا ہے۔ (فتاویٰ رضویہ ، 11 / 405)
(30) شرعِ مُطَہَّر شعر و غیرِشعر سب پر حُجّت (یعنی دلیل)ہے ، شعر شَرْع پر حُجّت نہیں ہوسکتا۔ ( فتاویٰ رضویہ ، 21 / 118)
(31)اطاعتِ والدین جائز باتوں میں فرض ہے اگرچہ وہ (یعنی والدین)خود مُرتکبِ کبیرہ ہوں۔ (فتاویٰ رضویہ ، 21 / 157)
(32)جس طرح عورَتیں اکثرتَسْخِیرِشوہر(یعنی شوہر کو اپنےقابو میں کرنا)چاہتی ہیں کہ شوہر ہمارے کہنے میں ہوجائے جوہم کہیں وہی کرے ، یہ حرام ہے۔ یایہ چاہتی ہیں کہ اپنی ماں بہن سے جداہوجائے یاان کوکچھ نہ دے ہمیں کو دے ، یہ سب مَرْدود خواہشیں ہیں۔ اللہ پاک نے شوہرکوحاکم بنایا نہ کہ محکوم(خادم)۔ (فتاویٰ رضویہ ، 26 / 607ملتقطاوبتقدم وتاخر )
(33)جِن غیب سے نِرے (یعنی بالکل)جاہِل ہیں ، اُن سے آئندہ کی بات پوچھنی عقلاً حماقت (یعنی بے وقوفی)اور شرعاً حرام اور اُن کی غیب دانی کا اِعتقاد(یعنی جنات کو غیب کا علم ہونے کاعقیدہ رکھنا)تو کفر(ہے )۔ (فتاویٰ افریقہ ، ص178)
(34)نسب کے سبب اپنے آپ کو بڑا جاننا ، تکبر کرنا جائز نہیں۔ (فتاویٰ رضویہ ، 255 / 23)
(35)حرام کھانا کبھی جائز نہیں ہوتا ، جس وقت جائز ہوتا ہے اُس وقت وہ حرام نہیں رہتا۔ (فتاویٰ رضویہ ، 21 / 225)
(36)جس چیز کوخدا و رسول اچھا بتائیں وہ اچھی ہے ، اور جسے بُرا فرمائیں وہ بُری ، اور جس سے سُکُوت (یعنی خاموشی اختیار) فرمائیں یعنی شرع سے نہ اس کی خوبی نکلے نہ بُرائی وہ اِباحتِ اصلیہ پر رہتی ہے کہ اس کےفعل وترک (کرنے یا نہ کرنے) میں ثواب نہ عِقاب (سزا)۔ (فتاویٰ رضویہ ، 23 / 320)
(37)کوئی شخص ایسے مقام تک نہیں پہنچ سکتا جس سے نماز روزہ وغیرہ احکامِ شرعیہ ساقِط(یعنی معاف) ہو جائیں جب تک عقل باقی ہے ۔ (فتاویٰ رضویہ ، 14 / 409)
(38) جو باوصفِ بقائے عقل و استطاعت(یعنی جس کی عقل وہمت سلامت اورباقی ہو)قصداً (یعنی جان بُوجھ کر)نماز یا روزہ ترک کرےہرگز وَلِیُّ اللہ نہیں(بلکہ ) وَلِیُّ الشیطان(یعنی شیطان کا دوست)ہے۔ (فتاویٰ رضویہ ، 14 / 409)
(39)ہماری شَرْع بحمدِ اللہ اَبَدِی(یعنی ہمیشہ رہنے والی)ہے ، جو قاعدے اس کے پہلے تھے قیامت تک رہیں گے ، مَعاذَ اللہ زیدوعَمروکاقانون تو ہے ہی نہیں کہ تیسرے سال بدل جائے۔ (فتاویٰ رضویہ ، 26 / 540)
(40)مسلمان ہونے سے دونوں جہان کی عزّت حاصل ہوتی ہے۔ (فتاویٰ رضویہ ، 11 / 719)
(41) جو شخص حدیث کا مُنکِر (یعنی انکارکرنے والا)ہے وہ نبی صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا منکر ہے اور جو نبی صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا منکر ہے وہ قرآنِ مجید کا منکر ہے اور جو قرآنِ مجید کا منکر ہے اللہ واحد قہّار کا منکر ہے ۔ (فتاویٰ رضویہ ، 14 / 312)
(42)زبان سے سب کہہ دیتے ہیں کہ ہاں ہمیں اللہ پاک و رسول صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی مَحبّت وعَظْمت سب سے زائد ہے مگر عَمَلی کاررَوائیاں آزمائش(امتحان)کرادیتی ہیں کہ کون اس دعوے میں جھوٹا اور کون سچا(ہے)۔ (فتاویٰ رضویہ ، 21 / 177)
(43) آدمی ہر وقت موت کے قبضےمیں ہے ، مَدْقُوْق(یعنی مریض) اچھا ہوجاتاہے اوروہ جواُس کے تیمار(یعنی بیمارپُرسی)میں دوڑتا تھا اُس سے پہلے چل دیتا ہے۔ (فتاویٰ رضویہ ، 9 / 81)
(44)بِرادرانِ اسلام(یعنی مسلمان بھائیوں)کو احکامِ اسلام سےاطلاع دینی’’خیرخواہی ‘‘ہے اورمسلمانوں کی خیرخواہی ہر مسلمان کا حق ہے۔ (فتاویٰ رضویہ ، 16 / 243)
(45)حقوقُ العباد جس قدر ہوں ، جو ادا کرنے کے ہیں (آدمی اُن کو) ادا کرے ، جو معافی چاہنے کے ہیں معافی چاہے اور اس میں اَصْلاً(یعنی بالکل) تاخیر کو کام میں نہ لائے (یعنی دیر نہ کرے) کہ یہ شہادت سے بھی معاف نہیں ہوتے۔ (فتاویٰ رضویہ ، 9 / 82)
(46) جب وقت لوگوں کی نیند کا ہو یا کچھ (افراد )نماز پڑھ رہے ہوں تو ذکر کرو جس طرح (چاہو)مگر نہ اتنی آواز سے کہ ان کو ایذا (یعنی تکلیف) ہو۔ (فتاویٰ رضویہ ، 179 / 23)
(47)معافی چاہنے میں کتنی ہی تَوَاضُع( یعنی عاجزی )کرنی پڑے اِس میں اپنی کسرِ شان(یعنی بے عزتی) نہ سمجھے ، اِس میں ذِلّت(یعنی بے عزتی) نہیں۔ (فتاویٰ رضویہ ، 9 / 82)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع