30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
میں ڈالا جائے گا اور قیامت کے دن اس کے عذاب کو دوگنا کر دیا جائے گا اور وہ ہمیشہ جہنم میں ذلیل وخوار ہوتا رہے گا ۔اور میں نے ان سب کاموں کو کیا ہے ، تو کیا ان سب کے باوجود آپ میرے چھٹکارے کی کوئی راہ پاتے ہیں ۔‘‘
اسی وقت یہ آیت نازل ہوئی ،
اِلَّا مَنْ تَابَ وَ اٰمَنَ وَ عَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا فَاُولٰٓىٕكَ یُبَدِّلُ اللّٰهُ سَیِّاٰتِهِمْ حَسَنٰتٍؕ-وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا
ترجمہ کنزالایمان : مگر جو توبہ کرے اور ایمان لائے اور اچھا کام کرے تو ایسوں کی برائیوں کو اللہ بھلائیوں سے بدل دے گا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے ۔‘‘ (الفرقان ۷۰)
جب وحشی کو اس آیت کے بارے میں پتہ چلا تو اس نے اپنا اشکال پیش کیا کہ نیک اعمال اور توبہ کی شرط تو بہت کڑی ہے ، عین ممکن ہے کہ میں اس کو پورا نہ کر پاؤں ۔ اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی
اِنَّ اللّٰهَ لَا یَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَكَ بِهٖ وَ یَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِكَ لِمَنْ یَّشَآءُۚ
ترجمۂ کنزالایمان : بے شک اللہ اسے نہیں بخشتا کہ اس کے ساتھ کفر کیا جائے اور اس کفرسے نیچے جو کچھ ہے جسے چاہے معاف فرمادیتا ہے ۔‘‘(النساء : ۴۸)
اس آیت کو سن کر وحشی نے کہا، ’’میرے گمان میں یہ خدا ( عَزَّ وَجَلَّ )کی مشیت پر ہے مجھے کیا پتہ کہ میری مغفرت ہوگی بھی یا نہیں ؟ کیا اس کے علاوہ کوئی اور بھی امید افزاء بات ہے یا نہیں ؟‘‘تب یہ آیت نازل ہوئی
یٰعِبَادِیَ الَّذِیْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَةِ اللّٰهِؕ
ترجمۂ کنزالایمان : اے میرے وہ بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ، اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو۔‘‘(زمر : ۵۳)
یہ سن کر حضرت سیدنا وحشی بن حرب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے کہا ، ’’اب ٹھیک ہے ۔‘‘اوردامن ِ اسلام میں آگئے ۔(مجمع الزوائد ، ج۷، ص۲۲۴، رقم الحدیث ۱۱۳۱۴)
(7) حضرت سیدنا عمرو بن عبسہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ پر انفرادی کوشش
حضرت سیدنا عمرو بن عبسہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ اپنے اسلام قبول کرنے کا واقعہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ
’’میں زمانہ جاہلیت میں لوگوں کو سراسر گمراہ خیال کرتا تھا اور بتوں کو کچھ نہ سمجھتا تھا ۔ ایک دن میں نے سنا کہ مکہ میں ایک شخص ہے جو نئی نئی باتیں بیان کرتا ہے ۔ میں اپنی اونٹنی پر سوار ہوکر فوراً مکہ جاپہنچا ۔ وہاں پہنچ کر مجھے معلوم ہوا کہ رسول ِ اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کسی خفیہ مقام پر جلوہ فرما ہیں اور مکہ والے آپ کے درپیٔ آزار ہیں ۔ میں بڑی مشکلوں سے آپ تک پہنچا اور عرض کی ، ’’آپ کون ہیں ؟‘‘ آپ نے ارشاد فرمایا ، ’’میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا نبی ہوں ۔‘‘میں نے پوچھا ، ’’نبی کس کو کہتے ہیں ؟‘‘ آپ نے جواب دیا ، ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی طرف سے پیغام لانے والے کو ۔‘‘ میں نے سوال کیا ، ’’کیا واقعی آپ کو اللہ ( عَزَّ وَجَلَّ ) نے بھیجا ہے ؟‘‘آپ نے ارشاد فرمایا ، ’’ہاں !مجھے اللہ تَعَالٰی نے ہی بھیجا ہے ۔‘‘ میں نے پوچھا ، ’’کیا پیغام دے کر بھیجا ہے ؟‘‘ فرمایا ، ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّ کو ایک مانا جائے ، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرایا جائے ، بت توڑ دئیے جائیں اور رشتہ داروں سے اچھا سلوک کیا جائے ۔‘‘ میں نے عرض کی ، ’’آپ کا ساتھ دینے والوں میں کون لوگ شامل ہیں ؟‘‘ ارشاد فرمایا ، ’’ایک آزاد اور ایک غلام۔‘‘تو میں نے دیکھا کہ آپ کا پاس حضرت ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ اور حضرت بلال رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ موجود تھے ۔میں نے عرض کی ، ’’میں بھی آپ کی غلامی میں آنا چاہتا ہوں ۔‘‘آپ نے ارشاد فرمایا ، ’’موجودہ حالات میں میرا ساتھ دینا تمہارے بس سے باہر ہے ، ابھی تو تم (اسلام قبول کر کے ) اپنے گھر چلے جاؤ اور جب سنو کہ مجھے غلبہ حاصل ہوگیا ہے تو میرے پاس چلے آنا۔‘‘ چنانچہ میں آپ کے حکم کے مطابق اسلام قبول کر کے گھر چلا آیا۔‘‘(طبقات ابن سعد ، ج۴ص۱۶۳)
(8) حضرت سیدنا ضماد رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ پر انفرادی کوشش
حضرت سیدناضمادرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ جواسلام قبول کرنے سے قبل بھوت پریت اتارنے کا منتر کیا کرتے تھے ، فرماتے ہیں کہ جب میں مکہ آیا تو چند احمقوں کو یہ کہتے سنا کہ محمد (صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ) پر جنون کا اثر ہے ۔ میں نے لوگوں سے دریافت کیا کہ وہ کہاں رہتے ہیں ، شاید اللہ تَعَالٰی انہیں میرے ہاتھوں شفا دے دے ۔‘‘ پھر میں نے آپ کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کی ، ’’میں ہوائی اشیاء اورجنون وغیرہ کا علاج کرتا ہوں اور اللہ ( عَزَّ وَجَلَّ )جسے چاہتا ہے میرے ہاتھوں شفاء دے دیتا ہے، آئیے میں آپ کا علاج کردوں ۔‘‘ یہ سن کر سرور ِ عالم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے خطبہ پڑھنا شروع کیا کہ تمام تعریفیں اللہ ہی کے لئے ہیں ، ہم اسی کی تعریف کرتے ہیں اور اسی سے مدد کے طلب گارہیں ، جسے اللہ تَعَالٰی ہدایت عطا فرمائے اسے کوئی گمراہ کرنے والا نہیں ہے اور جسے وہ راہ ِ حق سے بھٹکا دے اس کی راہنمائی کرنے والا کوئی نہیں ، میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تَعَالٰی کے سوا کوئی معبود نہیں ، وہ واحد ویکتا ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ۔‘‘ آپ نے یہ تین مرتبہ ارشاد فرمایا۔ یہ سن کر میں نے کہا ، ’’خدا کی قسم ! میں نے کاہنوں کی باتیں بھی سنی ہیں اور جادوگروں کی بھی نیز شاعروں کے کلام بھی سن رکھے ہیں مگر آپ جیسا کلام کسی نے نہیں کیا ، اپنا دست ِ اقدس آگے بڑھائیے ۔‘‘ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا اور میں نے آپ کے ہاتھ پر اسلام لانے کی بیعت کی ۔(البدایۃ والنھایۃ ، ج۳، ص۴۸)
(9) حضرت سیدناطفیل بن عمرو رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ پر انفرادی کوشش
حضرت طفیل بن عمر ودوسیرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ بیان کرتے ہیں کہ(ایمان لانے سے قبل) میں مکہ مکرمہ میں حاضرہوا، اس وقت، سرورِعالم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ وہیں پر موجود تھے۔ چونکہ طفیل بن عمرو، رئیس اور سردار بھی تھے اور صاحب فہم وفراست شاعر بھی، چنانچہ آپ کی آمدپر قریش ، دوڑے ہوئے ان کے پاس آئے اور کہا کہ ’’تم یہاں آئے ہو اور ہمارے پاس موجود اس شخص نے ہمیں بڑی مشکل میں ڈال رکھا ہے۔اس نے ہماری جماعت کو بکھیر کررکھ دیا ہے ، اس کی گفتگو سحر کی مانند ہے، جس کو سننے کی وجہ سے باپ اور بیٹے میں جدائی واقع ہوتی ہے ، بھائی بھائی سے دور ہو جاتا ہے اور میاں بیوی ایک دوسرے کے دشمن ہوجاتے ہیں ۔ہمیں خطرہ ہے کہ جس مشکل سے ہم دوچار ہیں ، کہیں تم اور تمہاری قوم بھی اس مصیبت کاشکار نہ ہوجاؤ ، لہذا تم اس سے کلام
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع