دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Infiradi Koshish Main 25 Hikayaat e Attaria | انفرادی کوشش مع 25 حکایاتِ عطاریَّہ

book_icon
انفرادی کوشش مع 25 حکایاتِ عطاریَّہ

ہے کہ وہ نبی مرسل ہیں ۔ اگر تم نہ ہوتے تو ہم اس معاملہ میں انتظار نہ کرتے ، اب تم آگئے ہو تو اس کا فیصلہ کرنا تم پر موقوف ہے ۔ ‘‘میں نے انہیں احسن طریقے سے واپس کیا پھر نبی اکرم صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے بارے میں پوچھا تو مجھے معلوم ہوا کہ آپ حضرت خدیجہ رضی اللہ  عنہاکے گھر میں ہیں ۔ میں نے دروازہ کھٹکھٹایا تو آپ باہر تشریف لائے ۔

        میں نے پوچھا ، ’’اے محمد! آپ نے اپنے آباؤ اجداد کا دین ترک کر دیا؟‘‘ آپ نے (اسلام کی دعوت دیتے ہوئے ) فرمایا،

 ’’ اے ابوبکر ! میں تمہاری اور تمام لوگوں کی طرف اللہ  تَعَالٰی کا رسول ہوں ، تم اللہ  پر ایمان لے آؤ۔‘‘ میں نے کہا کہ آپ کے اس دعویٰ کی دلیل کیا ہے ؟‘‘ فرمایا ’’وہ بوڑھا شخص جو تمہیں یمن میں ملا تھا ۔‘‘ میں نے کہا کہ میں تو وہاں کئی بوڑھوں سے ملا ہوں ۔ ‘‘ آپ نے فرمایا کہ’’ وہ بوڑھا شخص جس نے تمہیں شعر سنائے تھے ۔‘‘میں نے کہا کہ’’ آپ کو کس نے خبر دی ؟‘‘ آپ نے فرمایا کہ اس عظیم فرشتے نے جو مجھ سے پہلے انبیاء کے پاس آتا رہا ہے ۔‘‘ میں نے کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ بلاشبہ اللہ  تَعَالٰی کے سوا کوئی مستحقِ عبادت نہیں اور بے شک آپ اللہ  تَعَالٰی کے رسول ہیں ۔‘‘ پھر فرماتے ہیں کہ ’’ میں واپس ہوگیا اور میرے اسلام لانے پر پوری وادی میں سب سے زیادہ خوشی رسول اللہ  صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کو ہوئی ۔‘‘(اسد الغابہ ، جلد ۳، ، س۳۱۹)

( 2) حضرت سیدنا عمر بن خطاب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ   پر انفرادی کوشش

         حضرت سیدنا اسلم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ   فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت سیدنا عمرفاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ   نے لوگوں سے فرمایا ، ’’کیا میں تمہیں اپنے اسلام قبول کرنے کا قصہ نہ بیان کروں ؟‘‘ لوگوں نے عرض کی ، ’’کیوں نہیں ۔‘‘تو ارشاد فرمایا ، ’’میں پہلے پہل رسول اللہ  صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   کا بہت بڑا دشمن تھا ۔ آپ صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  صفا پہاڑی کے قریب ایک مکان میں تشریف فرما تھے کہ میں آپ کی خدمت میں پہنچا اور سامنے جاکر بیٹھ گیا ۔ آپ صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے میری قمیص پکڑ کر ارشاد فرمایا ، ’’اے خطاب کے بیٹے! اسلام لے آؤ۔‘‘اور ساتھ ہی یہ دعا کی ، ’’اے اللہ   عَزَّ وَجَلَّ  ! اسے ہدایت عطا فرما۔‘‘ یہ سن کر فوراً میرے منہ سے نکلا ، ’’اشہد ان لاالہ الا اللہ  واشہد انک رسول اللہ  ۔‘‘ میرے اسلام قبول کرتے ہی مسلمانوں نے اتنی زور سے نعرۂ تکبیر بلند کیا کہ مکہ کی گلیاں گونج اٹھیں ۔(حلیۃالاولیاء ، ج۱ ، ص۷۶، رقم الحدیث : ۹۵)

( 3) حضرت علی ابن ابی طالب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ   پر انفرادی کوشش

        ایک مرتبہ سرورِ عالم نورِ مجسم صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  اور حضرت خدیجہ رضی اللہ  عنہا  نماز پڑھ کر فارغ ہوئے ہی تھے کہ حضرت علی ابن ابی طالب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ   کا شانہ رسالت میں تشریف لائے۔ حضرت علی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ   نے پوچھا کہ’’ یہ آپ کیا کررہے تھے؟‘‘ آپ صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے(اسلام کی دعوت دیتے ہوئے )ارشاد فرمایا، ’’یہ اللہ   عَزَّ وَجَلَّ  کا ایسا دین ہے جس کو اللہ  تَعَالٰی نے اپنے لئے منتخب کیا اور اسی کی دعوت کے لئے انبیاء علیہم السلام بھیجے لہٰذا میں تمہیں بھی ایسے اللہ   عَزَّ وَجَلَّ  کی طرف بلاتا ہوں جو تنہا ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں اور اس کی عبادت کا حکم دیتا ہوں اور لات و عزیٰ کا انکار کرو۔‘‘ حضرت علی رضی اللہ  نے کہا کہ’’ یہ ایسی بات ہے کہ آج سے قبل میں نے کبھی نہیں سنی میں اس بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کرسکتا جب تک کہ اپنے والد ابو طالب سے  بیان نہ کرلوں ۔‘‘ آپ صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کو حضرت علی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ   کے اس جواب سے تشویش ہوئی کہ کہیں آپ کے اعلان سے پہلے ہی یہ راز فاش نہ ہوجائے، لیکن اللہ   عَزَّ وَجَلَّ  نے حضرت علی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ   کے دل کو اسلام کی طرف مائل فرمادیا ۔چنانچہ وہ دوسری صبح آپ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور عرض کی ، ’’آپ مجھ پر کیا پیش کرتے ہیں ؟‘‘ آپ صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا ، ’’یہ کہ تم اس بات کی گواہی دو کہ اللہ   عَزَّ وَجَلَّ  کے سواء کوئی معبود نہیں او راس کا کوئی شریک نہیں ہے ، اور لات وعزی کو جھٹلاؤ اور بتوں سے براء ت کا اظہار کرو۔‘‘ حضرت علی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ   نے ایسا ہی کیا اور مسلمان ہوگئے۔ (البدایۃ والنہایۃ ، ج۳، ص۳۴)

( 4) حضرت سیدنا ابوقحافہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ   پر انفرادی کوشش

        حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ   فتح مکہ کے موقع پر اپنے بوڑھے والد ابو قحافہ (جو اس وقت تک مسلمان نہیں ہوئے تھے)کو لے کر سرکارِ دوعالم کی بارگاہِ اقدس میں حاضر ہوئے تو آپ نے فرمایا ، ’’اے ابوبکر! تم نے اپنے بوڑھے باپ کو کیوں تکلیف دی؟ میں خود ان کے پاس آجاتا ۔‘‘ تو سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ   نے عرض کی ، ’’ ان کا یہاں حاضر ہوناہی زیادہ مناسب تھا ۔‘‘رسولِ اکرم نے ابوقحافہ کو اپنے سامنے بٹھایا اور ان کے دل پر ہاتھ رکھ کر کہا ، ’’اے ابو قحافہ !اسلام قبول کرلو سلامتی کو پالو گے ۔‘‘ تو سیدنا ابوقحافہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ   نے اسلام قبول کر لیا ۔‘‘(الطبقات الکبری، ج۶، ص۸، رقم :  ۱۴۹۷)

(5) حضرت سیدنا حکم بن کیسان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ   پر انفرادی کوشش

        حضرت سیدنا مقداد بن عمرورَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ    فرماتے ہیں کہ ہم نے حَکَم بن کَیسان کو ایک جنگی معرکے میں گرفتار کیا ۔ ہمارے سپہ سالار نے اس کی گردن اڑا دینے کا ارادہ ظاہر کیا لیکن میں نے عرض کی، ’’رہنے دیجئے! ہم اسے رسول ِ اکرم صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی بارگاہ میں پیش کریں گے ۔‘‘جب ہم اسے لے کر بارگاہِ نبوی میں پہنچے تو پیارے آقا صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے اسے دعوت ِ اسلام پیش کی اورکافی دیر تک انہیں سمجھاتے رہے ۔ یہ دیکھ کر حضرت سیدنا عمرفاروق  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ   نے عرض کی ، ’’یارسول اللہ  صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ! آپ کس امید پر اس شخص سے گفتگو فرمار ہے ہیں ؟ (مجھے تو لگتا ہے کہ) خدا  عَزَّ وَجَلَّ  کی قسم! یہ رہتی دنیا تک ایمان نہ لائے گا ، مجھے اجازت دیجئے کہ میں اس کی گردن اڑا دوں اوریہ جہنم رسید ہوجائے ۔‘‘مکی مدنی سلطان رحمت ِ عالمیان صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے آپ کی بات پر توجہ نہ دی اوراسے مسلسل سمجھاتے رہے یہاں تک کہ حکم بن کیسان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ   مسلمان ہوگئے ۔( طبقات ابن سعد ج۴، ص۱۰۲)

( 6) حضرت سیدنا وحشی بن حرب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ   پر انفرادی کوشش

        حضرت سیدنا ابن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  سے مروی ہے کہ نبی کریم صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے حضرت سیدنا حمزہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ   کو شہید کرنے والے وحشی بن حرب کے پاس اپنا نمائندہ بھیج کر اسلام قبول کرنے کے لئے دعوت دی ۔ اس نے جواب میں یہ کہلا بھیجا ، ’’آپ کیونکر مجھے اسلام کی طرف آمادہ کررہے ہیں جب کہ آپ کا دعوی ہے کہ قاتل ، مشرک اور زانی جہنم

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن