30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(7) حضرت سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے بارگاہ ِ رسالت میں عرض کی ، ’’یارسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم ! بندے کو کون سی شے دوزخ سے نجات دلوائے گی ؟‘‘ارشاد فرمایا، ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّ پر ایمان لانا ۔‘‘ میں نے عرض کی ، ’’اے اللہ کے نبی ! کیا ایمان کے ساتھ ساتھ کوئی عمل بھی ہے ؟‘‘ ارشاد فرمایا ، ’’اللہ تَعَالٰی کی عطا کردہ نعمتوں کے ہوتے ہوئے عاجزی کرنا ۔‘‘ میں نے عرض کی ، ’’اگر کوئی ایسا شخص ہو جس کے پاس نعمتوں کی فراوانی نہ ہو تو؟‘‘ ارشاد فرمایا ، ’’وہ بھلائی کی دعوت دے اور برائی سے منع کرے ۔‘‘ میں نے عرض کی، ’’یارسول اللہ ! اگر کوئی یہ کام کرنے سے بھی عاجز ہو تو؟‘‘ ارشاد فرمایا، ’’کسی کو تن ڈھانپنے کے لئے کپڑے دے دے ۔‘‘میں نے عرض کی ، ’’ یارسول اللہ ! اگر کوئی ایسا ہوکہ کچھ بھی کرنے کی صلاحیت نہ رکھتا ہو ؟‘‘ ارشاد فرمایا ، ’’وہ مغلوب کی مدد کرے ۔‘‘ پھر فرمایا، ’’اگر تم اس بات کی خواہش رکھتے ہو کہ تمہارے بھائی میں کوئی بھلائی ہوتووہ لوگوں کو تکلیف نہ دے۔‘‘ میں نے عرض کی ، ’’یارسول اللہ ! کیا ایسا کرنے والا جنت میں داخل ہوجائے گا ؟‘‘ ارشاد فرمایا ، ، ’’جو مسلمان ان اعمال میں سے ایک بھی عمل کرے گا توقیامت کے دن وہ عمل خود اس کا ہاتھ پکڑ کر جنت میں داخل کرے گا۔‘‘
(مکارم الاخلاق، ص۳۴۶، رقم الحدیث : ۹۸)
٭…٭…٭…٭…٭…٭
نیکی کی دعوت د ینے کے د و طریقے
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!
مسلمانوں تک نیکی کی دعوت پہنچانے کی کوشش عموماًدو طرح سے کی جاسکتی ہے ، …
(1)اجتماعی کوشش، (2) انفرادی کوشش
(1) اجتماعی کوشش :
سنتوں بھرے اجتماع میں بیان کے ذریعے، علاقائی دورہ برائے نیکی کی دعوت کی صورت میں اور کتابیں تحریر کرکے مسلمانوں تک نیکی کی دعوت پہنچانے (یعنی انہیں سمجھانے) کو اجتماعی کوشش کہتے ہیں ۔
(2) انفرادی کوشش :
چند (مثلاً ایک ، دو یا تین )اسلامی بھائیوں کوالگ سے نیکی کی دعوت دینے (یعنی انہیں سمجھانے) کو انفرادی کوشش کہتے ہیں ۔
٭…٭…٭…٭…٭…٭
انفرادی کوشش کی اہمیت
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!
بانی ٔ دعوت ِ اسلامی امیر اہلِ سنت حضرت علامہ مولانا محمد الیاس عطار مدظلہ العالی فرماتے ہیں کہ ، ’’دعوت ِ اسلامی کا 99,90فی صد کام انفرادی کوشش کے ذریعے ہی ممکن ہے ۔‘‘
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!واقعی انفرادی کوشش ، اجتماعی کوشش سے کہیں زیادہ مؤثر ثابت ہوتی ہے کیونکہ بارہا دیکھا گیا کہ وہ اسلامی بھائی جو برسہا برس سے اجتماع میں شریک ہونے کی سعادت حاصل کر رہا تھا ، اس نے دورانِ بیان دی جانے والی مختلف ترغیبات مثلاًپنج وقتہ نماز باجماعت پڑھنے، رمضان کے روزے رکھنے، سر پر عمامہ سجانے ، چہرے پر داڑھی رکھنے ، سنت کے مطابق سفید لباس پہننے ، مدنی انعامات پر عمل کرنے اور مدنی قافلے میں سفروغیرہ پر لبیک کہتے ہوئے ان کی نیت بھی کی مگر اس کے باوجود عملی قدم اٹھانے میں ناکام رہا۔ لیکن جب کسی نے اس سے ملاقات کر کے انفرادی کوشش کرتے ہوئے بالتدریج مذکورہ بالا امور کی ترغیب دی ، تو وہ ان کا عامل بنتا چلا گیا ۔ گویا اجتماعی کوشش کے ذریعہ لوہا گرم ہوا اور انفرادی کوشش کے ذریعے اس گرم لوہے پر چوٹ لگائی گئی ۔
اسی طرح اجتماعی کوشش کے مقابلے میں ایک یا دو اسلامی بھائیوں پرانفرادی کوشش کرنا بے حد آسان ہے کیونکہ کثیر اسلامی بھائیوں کے سامنے بیان کرنا ہر ایک کے بس کی بات نہیں ، جبکہ انفرادی کوشش ہر ایک کر سکتا ہے خواہ اسے بیان کرنا آتا ہو یا نہ آتا ہو ۔اس انفرادی کوشش کے نتیجے میں تنظیمی فوائد کے علاوہ ہمیں درج ِ ذیل فضائل بھی حاصل ہوں گے ۔ اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ
انفرادی کوشش کے فضائل
(1) سورۂ حم السجدۃ میں ہے ،
وَ مَنْ اَحْسَنُ قَوْلًا مِّمَّنْ دَعَاۤ اِلَى اللّٰهِ وَ عَمِلَ صَالِحًا وَّ قَالَ اِنَّنِیْ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ(پ۲۴۔حم السجدہ : ۳۳)
ترجمۂ کنزالایمان : اور اس سے زیادہ کس کی بات اچھی جو اللہ کی طرف بلائے اور نیکی کرے اور کہے میں مسلمان ہوں ۔ ‘‘
(2) سرکارِ دو عالم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ، ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم !اگر اللہ تَعَالٰی تمہارے ذریعے کسی ایک کو بھی ہدایت دے دے تو یہ تمہارے لئے سرخ اونٹوں سے بہتر ہے ۔‘‘(سنن ابو داؤد ، ج۲، ص ۱۵۹)
(3) حضرت انس بن مالک سے روایت ہے کہ رحمت ِ کونین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا ’’نیکی کی طرف راہنمائی کرنے والا بھی نیکی کرنے والے کی طرح ہے ۔‘‘
(جامع ترمذی ، کتاب العلم ، باب ماجاء الدال علی الخیر الخ ، ج۴، ص۳۰۵، رقم : ۲۶۷۹)
(4) حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ رسولِ اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا ، ’’جس نے ہدایت وبھلائی کی دعوت دی تواسے اِس بھلائی کی پیروی کرنے والوں کے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع