30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مبلغ دعوتِ اسلامی : آپ کہاں تشریف لے جائیں گے ؟
اسلامی بھائی : جناب ! میں ملتان تک جاؤں گا۔
مبلغ دعوتِ اسلامی : پیارے بھائی !آپ کا نام کیا ہے ؟
اسلامی بھائی : میرا نام محمد فاروق ہے ۔
مبلغ دعوتِ اسلامی : مَا شَآءَاللہ ! بڑا پیارا نام ہے ، ایک مشہور صحابی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا نام بھی فاروق(رضی اللہ عنہ ) تھا ۔میرا نام محمدحسّان رضاعطاری ہے ۔
فاروق بھائی : آپ کہاں جارہے ہیں ؟
حسّان رضا عطاری : فاروق بھائی ! مجھے بہاولپور تک جانا ہے ۔کیا آپ ملتان میں کوئی کام کرتے ہیں ؟
فاروق بھائی : نہیں !میں لاہور کی ایک فیکٹری میں ملازمت کرتا ہوں ۔
حسّان عطاری : اللہ تَعَالٰی آپ کے رزقِ حلال میں برکت عطا فرمائے ، میں بھی لاہور ہی میں ملازمت کرتا ہوں ۔ (پھر ملازمت سے متعلق چند محتاط سوالات کرنے کے بعد یوں گویا ہو) فاروق بھائی! دیکھئے ہم نے اپنی ضروریات ِ زندگی کو پورا کرنے کے لئے کسی کی نوکری اختیار کی ہے اور ہم اپنے سیٹھ یا افسر کی ہدایات پر عمل کرنے میں کس قدر مستعد رہتے ہیں اور غلطیوں کے ارتکاب ، جائے ملازمت پر پہنچنے میں تاخیراور غیرحاضری سے محفوظ رہنے کے لئے حتی المقدور کوشش کرتے ہیں کہ کہیں میرا سیٹھ مجھ سے ناراض ہوکر ڈانٹ نہ پِلادے ، کہیں مجھے نوکری سے نہ نکال دے ، کہیں میری تنخواہ میں سے کٹوتی نہ کرلے؟… ڈیوٹی کے دوران بھی ہمیں اس کے موڈ کی فکر رہتی ہے کہ کسی وجہ سے بگڑ نہ جائے ، …اگرباوجود احتیاط کے کوئی غلطی ہو بھی جائے تو اپنے بچاؤ کے لئے پوری کوشش کرتے ہیں لیکن جب اُس کی گرفت سے بچ نکلنے کی کوئی راہ نظر نہ آئے تو ہتھیار ڈال کر معافی مانگ لیتے ہیں ، …
فاروق بھائی !سوچنے کی بات ہے کہ آج کسی کی ملازمت کرنے والا چند روپے ہتھیلی پر رکھ دینے والے سیٹھ سے وفاداری کا دم تو بھرتا ہے اور اس کا عملی ثبوت فراہم کرنے کے لئے بھی تیار رہتا ہے ، لیکن اپنے مالک ِ حقیقی( عَزَّ وَجَلَّ )سے اس کی وفاداری کیا ہوئی؟… جس نے اسے کروڑہا نعمتوں سے نوازا مثلاً اسے پیدا کیا ، … زندگی باقی رکھنے کے لئے سانسیں عطا فرمائیں ، … چلنے کے لئے پاؤں دئیے…، چھونے کے لئے ہاتھ دئیے…، دیکھنے کے لئے آنکھیں عطا فرمائیں … ، سننے کے لئے کان دئیے…، سونگھنے کے لئے ناک دی…، بولنے کے لئے زبان عطا کی اور کروڑ ہا ایسی نعمتیں جن پر ہم نے آج تک غور نہیں کیا ہوگا ، …لیکن اس کے باوجود ہمارے پروردگار عَزَّ وَجَلَّ نے ہم سے کچھ طلب نہیں کیاکیونکہ وہ بے نیاز ہے ، … لیکن اس نے ہماری ہی بھلائی کے لئے، ہمیں جنت کی ابدی وسرمدی نعمتوں کے درمیان پہنچانے کے لئے ہمارے ذمے کچھ کام لگائے کہ’’ اے میرے بندے !چاہے تُوسارا دن اپنے کام میں مشغول رہ لیکن پانچ وقت میری بارگاہ میں مجھ سے ملاقات کے لئے حاضر ہوجا اورنماز پڑھ، …چاہے تُو سارا سال ہر وقت میری نعمتیں کھا لیکن رمضان کے تیس دن سحری تا افطاری میری رضاء کے لئے ان سے ہاتھ روک لے اور روزہ رکھ ، …چاہے تُو جتنا چاہے مال کمااور خرچ کر لیکن مخصوص مقدار ِ مال پر سال گزرنے پر میرے غریب بندوں کو بھی ان کا حصہ دے اور زکوۃ ادا کر ، … چاہے تُودنیا میں جہاں چاہے بسیرا کر لیکن جب تیرے پاس میرے گھرکعبۂ مشرفہ کی زیارت کے لئے سفر کرنے کے اسباب مہیاہوجائیں تو پوری زندگی میں صرف ایک بارعظمت ِ کعبہ کو سلام کرنے کے لئے حاضر ہوجااور حج کر، …اے میرے بندے! میری دی ہوئی نعمتوں کا جوچاہے استعمال کر لیکن انہیں میری نافرمانی میں استعمال نہ کرنا کہ میں نے نافرمانوں کے لئے جہنم کا عذاب تیار کر رکھا ہے ، …‘‘
پیارے بھائی !یقینا ہمیں سب سے زیادہ اپنے رب عَزَّ وَجَلَّ سے ڈرنا چاہیے، اس کی دی ہوئی ذمہ داریوں کو پورا کرنا چاہیے ، قصور ہوجائے تو اعتراف کرنے اور معافی مانگنے میں دیر نہیں کرنی چاہیے کہ’’ وہ سب کچھ دیکھ رہا ہے ‘‘، نیکی ہوجانے پر اسی کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ اس نے ہمیں اس کی توفیق دی ، …لیکن افسوس ! آج کے مسلمان کا اپنے رب عَزَّ وَجَلَّ کو راضی کرنے کا ذہن ہی نہیں ، اگر ایسا ہوتا تو کیا مسلمانوں کی نمازیں قضاء ہوتیں یا روزے قضاء ہوتے ؟ آج اگر دُھن ہے تو اپنا کاروبار چمکانے کی ، مستقبل کو روشن کرنے کی ، اولاد کو ترقی دلانے کی ۔ افسوس! آج قبروآخرت کی بھلائی کی پڑی کس کو ہے ؟ کاش ! ہم آخرت کی اہمیت کو سمجھ پاتے اوراس کی بہتری کے لئے کوشش کرتے جیسا کہ ایک بزرگ فرماتے ہیں ، ’’انسان جتنا دنیا کے لئے کڑھتا ہے اگر اتنا آخرت کے لئے کڑھتا تو دونوں جہاں میں سعادت پاجاتا ۔‘‘اے کاش ! ہمیں اپنی قبر روشن کرنے کی فکر لاحق ہوجائے ۔
فاروق بھائی : آپ نے یقینا بہت پاکیزہ خیالات کا اظہار فرمایا ۔ لیکن کیا کریں یہاں تو آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے ۔ انسان نیک بننا بھی چاہے تو کیا کرے؟
حسّان عطاری : فاروق بھائی!ابھی دنیا نیک لوگوں سے خالی نہیں ہوئی ہے ۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ ! اس پرفتن دور میں امید کی ایک روشن کرن تبلیغ ِ قرآن وسنت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک’’ دعوت ِ اسلامی ‘‘ہے ۔جو اس وقت دنیا کے تقریباً 56ممالک میں نیکی کی دعوت کو عام کر رہی ہے ۔اَلْحَمْدُلِلّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ ! اس مدنی ماحول کی برکت سے لاکھوں مسلمانوں کو گناہوں سے توبہ کی توفیق ملی اور وہ تائب ہوکر صلوٰۃ وسنت کی راہ پر گامزن ہوگئے ۔ جو بے نمازی تھے نمازی بن گئے، بدنگاہی کے عادی نگاہیں نیچی رکھنے کی سنت پر عمل کرنے والے بن گئے، زرق برق لباس پہن کر گلے میں دوپٹالٹکا کرتفریح گاہوں کی زینت بننے والیاں بے پردگی سے ایسی تائب ہوئیں کہ مدنی برقع ان کے لباس کا حصہ بن گیا ، ماں باپ سے گستاخانہ انداز اختیار کرنے والے اُن کا ادب کرنے والے بن گئے ، جن کی حرکتوں کی وجہ سے کبھی پورامحلہ تنگ تھا وہ سارے علاقے کی آنکھ کا تارا بن گئے ، چوری و ڈاکے کے عادی دوسروں کی عزت وآبرو کی حفاظت کرنے والے بن گئے ، کسی غریب کو دیکھ کر تکبر سے ناک بھوں چڑھانے والے عاجزی کے پیکر بن گئے ، ہر وقت حسد کی آگ میں جلنے والے دوسروں کے علم وعمل میں ترقی کی دعائیں دینے والے بن گئے ، گانے سننے کے شوقین ‘سنتوں بھرے بیانات اور مدنی مذاکرات کے کیسیٹ سننے والے بن گئے ، فحش کلامی کرنے والے نعت ِ مصطفی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پڑھنے والے بن گئے ، یورپی ممالک کی رنگینیوں کو دیکھنے کے خواب اپنی آنکھوں میں سجانے والے گنبدخضریٰ کی زیارت کے لئے تڑپنے والے بن گئے ، مال کی محبت میں مرنے والے فکرِ آخرت میں مبتلاء رہنے والے بن گئے ، شراب پینے کی عادت پالنے والے عشق ِ مصطفیصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے جام پینے والے بن گئے ، اپنا وقت فضولیات میں برباد کرنے والے اپنا اکثر وقت عبادت میں گزارنے کے لئے ’’مدنی انعامات‘‘ کے عامل بن گئے ، فحش رسائل وڈائجسٹ کے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع