دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Infiradi Koshish Main 25 Hikayaat e Attaria | انفرادی کوشش مع 25 حکایاتِ عطاریَّہ

book_icon
انفرادی کوشش مع 25 حکایاتِ عطاریَّہ

محمد قاسم :

       واقعی ! آپ کی بات سمجھ میں تو آتی ہے ، میں جمعرات کو ضرور آپ کے ساتھ اجتماع میں جاؤں گا چاہے مجھے دکان جلدی بند کرنی پڑے ۔…

محمد عمران عطاری :

       سبحان اللہ   عَزَّ وَجَلَّ  !مجھے آپ سے یہی امید تھی ، اللہ  تَعَالٰی آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے ۔  اِنْ شَآءَاللہ  عَزَّ وَجَلَّ  دوبارہ پھر یہیں ملاقات ہوگی ۔ السلام علیکم !(کہنے کے بعد الوداعی مصافحہ کرے اور معانقہ بھی کرے پھر کوئی مدنی تحفہ بھی دے دے )…

محمد قاسم :     وعلیکم السلام ۔ …

                                                                        ٭٭٭٭٭٭   

(ہفتہ وارسنتوں بھرے اجتماع کے بعد ملاقات )

مبلغ دعوتِ اسلامی :   (اجتماع میں شریک ہونے والے نئے اسلامی بھائی کی طرف بڑھتے ہوئے ) السلام علیکم ! (پھر گرم جوشی سے مصافحہ کرے اور یہ کہے )پیارے بھائی آپ کا نام کیا ہے ؟

اسلامی بھائی :   میرا نام فیاض ہے ۔

مبلغ دعوتِ اسلامی :   مَا شَآءَاللہ  عَزَّ وَجَلَّ  بہت اچھا نام ہے ، اس کا معنی ہے بہت زیادہ سخاوت کرنے والا ۔ میرا نام بلال عطاری ہے ۔ آپ کس علاقے سے تشریف لائے ہیں ؟

فیاض بھائی :   میں لسبیلہ چوک (کراچی)سے آیا ہوں ۔

بلال عطاری  :   آپ پہلی مرتبہ تشریف لائے ہیں یا اس سے پہلے بھی تشریف لاتے رہتے ہیں ؟

فیاض بھائی :   جی میں پہلی مرتبہ آیا ہوں ۔

بلال عطاری :   آپ کو ہمارا اجتماع کیسا لگا ؟

فیاض بھائی :   بہت اچھا لگا ۔

بلال عطاری :   انسانی فطرت کا تقاضا ہے کہ جو کام اچھا لگے اسے بار بار کرتا ہے ، تو کیا میں امید رکھوں کہ آپ آئندہ بھی اسی طرح ذوق وشوق کے ساتھ سنتوں بھرے اجتماع میں شرکت فرماتے رہیں گے ؟

فیاض بھائی :   کیوں نہیں ؟ بالکل شرکت کروں گا ۔     

بلال عطاری :   فیاض بھائی ! آپ کس شعبے سے وابستہ ہیں ؟

فیاض بھائی :   میں کپڑے کا کاروبار کرتا ہوں ۔

بلال عطاری :   اللہ  تَعَالٰی آپ کے کاروبار میں برکت عطا فرمائے ۔(پھرچندمختصر اور محتاط سوالات اس کے کاروبار میں کرے، پھریوں گویا ہو ) پیارے بھائی دیکھئے! ہم کاروبار اس لئے کرتے ہیں کہ ہماری ضروریاتِ زندگی پوری ہوجائیں اورہم آسائشیں حاصل کر سکیں ، … ہمارا یہ مقصد اسی وقت پورا ہوسکتا ہے جب ہم اپنے کاروبار سے خاطر خواہ نفع کمانے میں کامیاب ہوجائیں ، …اور آپ تو جانتے ہی ہیں کہ اس کے لئے اپنے کاروبار کا ہر پہلو سے خیال رکھنا پڑتا ہے ، اس کا حساب کتاب رکھنا، لاگت اور آمدنی کا حساب کر کے نفع کی رقم الگ کر نا اور اس میں سے اپنی ضرورت کے بقدر رقم رکھنے کے بعد بقیہ دوبارہ کاروبار میں لگا دینا ، … کسی گاہگ کو بد ظن نہ ہونے دینا، وقت پر دکان کھولنا اور بند کرنا ، مارکیٹ کے حالات کا جائزہ لیتے رہنا ، تجربہ کار لوگوں سے مشاورت کرتے رہنا وغیرہ …

        لیکن ذراغور کیجئے کہ یہ دنیوی کاروبار تو یہیں رہ جائے گا کیونکہ اس کی منزل تومحض دنیاوی ضروریات کو پوراکرنا اور سہولیات ِ زندگی حاصل کرلینا ہے ، … اس لئے بطورِ مسلمان ہمیں اپنی دنیا کی ہی نہیں بلکہ بہتر آخرت کی بھی فکر ہونی چاہئے ، … اور بہتر آخرت کے لئے ضروری ہے کہ ہمیں اپنے کاروبار ِ آخرت پر اس سے کہیں زیادہ توجہ دینی چاہئے جتنی توجہ ہم اس دنیاوی کاروبار پر دیتے ہیں ، …لہذا! ہمیں چاہیے کہ اپنا محاسبہ کریں ، جو عمل نقصان ِ آخرت کا سبب بنے اسے چھوڑ دیں اور جو عمل آخرت کے لئے نفع بخش ثابت ہو اسے اپنائے رکھیں …اس مقصد میں کامیابی کے لئے راہِ خدا

  عَزَّ وَجَلَّ  میں سفر کرنے والے عاشقان ِ رسول صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے مدنی قافلوں میں سفر کر نا بے حد ضروری ہے کیونکہ ان مدنی قافلوں کی برکت سے پنج وقتہ نماز کی پابندی کے ساتھ ساتھ پیارے آقا صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی سنتیں بھی سیکھنے کو ملتی ہیں اور علمِ دین کے لئے سفر کا ثواب الگ سے حاصل ہوتا ہے جیسا کہ حضرتِ ابودَرْدَاء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ   سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ  صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   کو فرماتے ہو ئے سناکہ، ’’جو علم کی تلاش میں کسی راستے پر چلتاہے تواللہ   تَعَالٰی اس کے لئے جنت کا راستہ آسان فرمادیتاہے اور بے شک فرشتے طالبُ العلم کے عمل سے خوش ہوکر اس کے لئے اپنے پر بچھا دیتے ہیں اور بے شک زمین وآسمان میں رہنے والے یہاں تک کہ پانی میں مچھلیاں عالم دین کے لئے استغفار کرتی ہیں اور عالم کی عابد پر فضیلت ایسی ہے جیسی چودھویں رات کے چاند کی دیگر ستاروں پر اور بے شک علماء وارث ِانبیا ء علیہم السلام ہیں بیشک انبیاء علیہم السلام درہم ودینار کا وارث نہیں بناتے بلکہ یہ نفوس ِ قدسیہ علیہم السلام تو صرف علم کا وارث بناتے ہیں تو جس نے اسے حاصل کرلیا اس نے بڑا حصہ پالیا ۔ ‘‘ (سنن ابن ماجہ ، کتاب السنۃ ، ج۱، ص۱۴۵، رقم الحدیث : ۲۲۳ )

        اَلْحَمْدُلِلّٰہِ    عَزَّ وَجَلَّ  !دعوت ِ اسلامی کے سنتوں کی تربیت کے مدنی قافلے تین دن بارہ دن تیس دن اور بارہ ماہ کے لئے راہِ خدا  عَزَّ وَجَلَّ  میں سفر کی سعادت حاصل کرتے رہتے ہیں ، آپ سے گزارش ہے کہ آپ بھی راہِ خدا   عَزَّ وَجَلَّ  میں سفر کرنے کی نیت فرما لیں ۔ اِنْ شَآءَاللہ   عَزَّ وَجَلَّ  اگر آپ ابھی سے نیت کر لیں گے تو ثواب بھی ابھی سے ملنا شروع ہوجائے گا ۔

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن