30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مدنی انعامات اورمدنی قافلوں کے بارے میں اس کا ذہن بنانے کے بعد(جس کا موادمکتبۃ المدینہ کی شائع کردہ کتاب’’ نصاب مدنی قافلہ ‘‘، اس کتاب کے آخر میں دی گئی ملاقات کی مثالوں اور رسالہ ’’مدنی تحفہ ‘‘سے لیا جاسکتا ہے ۔) اس کے ہاتھ میں مدنی انعامات کا کارڈ تھماتے ہوئے اسے پر کرکے ہر مدنی ماہ کی دس تاریخ سے پہلے پہلے مدنی انعامات کے ذمہ دار کو جمع کروانے اور ہرماہ میں تین دن کے لئے مدنی قافلے میں سفر کی بھر پور ترغیب دلائیے اور نیت کرنے کے فوائد بتا نے کے بعد نیت کروا کے نام بھی لکھ لیجئے۔یاد رہے یہ ترغیب صرف پہلی ملاقات تک محدود نہ رہے بلکہ وقتاً فوقتاً ترغیب دلاتے رہیں ۔
(23) آئندہ رابطہ کے لئے ایڈریس ضرور لے لیں :
ملاقات کے اختتام سے پہلے اس سے آئندہ رابطے کا ذریعہ ضرور معلوم کر یں اور اسے تحریرا محفوظ کر لیں تاکہ اس پر مسلسل انفرادی کوشش کرنا ممکن ہو۔
(24) ملاقات کے اختتام پر تحفہ دیں :
اس کی حیثیت کے مطابق اسے کوئی مدنی تحفہ مثلاً کوئی رسالہ یاکیسیٹ وغیرہ ضرور دیں کہ اس سے محبت میں اضافہ ہوتا ہے جیساکہ مشہور حدیث ہے ، ’’تھادوا تحابوا۔ایک دوسرے کو تحفہ دو آپس میں محبت بڑھے گی ۔‘‘(مؤطا امام مالک ، ج۲، ص۴۰۷، رقم : ۱۷۳۱)
(25) ملاقات کے دورانئے کا خیال رکھیں :
ملاقات کے دورانئے کا ضرور خیال رکھئے ۔ایسا نہ ہو کہ سامنے والے کی کیفیات کا اندازہ کئے بغیر ملاقات کو اتنا طول دے دیا جائے کہ آئندہ وہ آپ کو دیکھتے ہی راستہ بدل لے ۔چنانچہ اگر وہ آپ سے ملاقات میں بوریت محسوس کر رہا ہومثلاً بار بار گھڑی دیکھے یا آپ کی بات توجہ سے سننے کی بجائے اِدھر ُادھردیکھنے میں مصروف ہو تو اس کے سر پرزبردستی سوار رہنے کی بجائے آئندہ ملاقات کرنے کا عزم ظاہر کر کے الوداعی مصافحہ کر لیجئے ۔
کسی اسلامی بھائی سے پہلی مرتبہ ملاقات ہونے کے بعد اس سے دوبارہ رابطہ کرنا بے حد ضروری ہے تاکہ اس پر مسلسل انفرادی کوشش کر کے اسے بھی سنّتوں کا مبلغ بنایا جاسکے ۔عدمِ رابطہ کی صورت میں کہیں ایسا نہ ہو کہ ہماری ملاقات کے نتیجے میں ملنے والے دینی جذبے کی تسکین کے لئے وہ ایسے لوگوں کے ہتھے چڑھ جائے جو دین کی تبلیغ کے نام پر لوگوں کا ایمان لُوٹنے کے لئے مارے مارے پھرتے ہیں ۔ چنانچہ ملاقات کے بعد مناسب وقفے سے اس کے دئیے ہوئے پتے پر بالمشافہ رابطہ ضرور کریں ۔ ان کی رہائش کسی دوسرے شہر میں واقع ہونے کی صورت میں یہ رابطہ بذریعہ خط اورفون بھی ہو سکتا ہے ۔
اس سے کسی قسم کا احسان بالخصوص مسلسل رابطے کی صورت میں نہ لیں کیونکہ احسان لینے کی صورت میں آپ اپنے مدنی مقصد کو پورا کرنے میں ناکام ہوسکتے ہیں ۔مشہور عربی مقولہ ہے ، ’’الاحسان یقطع اللسان ، احسان زبان کو روک دیتا ہے ۔‘‘ لہذا!جب آپ اس سے احسان لے چکے ہوں گے تو کسی غلطی پر اس کی اصلاح کرنے میں جھجھک کا سامنا ہوگا ۔
(3) ذاتی معاملات میں دخل نہ دیں :
سامنے والے کے ذاتی یا گھریلو معاملات میں بالکل دخل نہ دیں ۔کیونکہ ایسی صورت میں ہوسکتا ہے کہ وہ مروتاً خاموش رہے لیکن اسے آپ کی دخل اندازی شدید ناگوار گزرے جس کے نتیجے میں وہ آپ سے دور ہونا شروع ہو جائے ۔ ہاں اگر وہ خود آپ سے کوئی مشورہ طلب کرے تو محتاط مشورہ دینے میں حرج نہیں ۔
اگر وہ آپ کے اندازِملاقات سے متاثر ہو کر آپ کی دعوت کرنا چاہے اور آپ کو اس میں دینی فائدہ نظر آئے تو مدنی فیس کے ساتھ قبول فرمالیں ۔ لیکن ایسا نہ ہو کہ روابط بڑھ جانے پر آپ خود اس سے مطالبہ کرکے دعوتیں اڑانا شروع کردیں اور اپنے مدنی مقصد کو فراموش کر بیٹھیں ۔
(5) غم خواری کا سلسلہ جاری رکھیں :
اگر وہ خود یا ان کے والد صاحب وغیرہ بیمار پڑ جائیں تو عیادت کرنے ضرور جائیں کہ اس سے محبت میں اضافہ ہوگا اور ہمیں اپنا مدنی مقصد پورا کرنے میں مدد ملے گی ۔اسی طرح اگر اس کے گھر والوں میں سے کوئی فوت ہوجائے تو جنازے میں ضرور شرکت کریں اور اس سے بطورِخاص تعزیت بھی کریں ۔یاد رکھئے کہ اس موقع پر سستی ہونے کی صورت میں ناقابلِ تلافی نقصان ہونے کا اندیشہ ہے کیونکہ اس قسم کے مواقع پر مذہبی لوگوں کی زیادہ ضرورت محسوس ہوتی ہے اگر وہ آپ کو اپنے اردگرد نہ پائے گا تو ہوسکتا ہے کہ یہ سوچ کر اس کا د ل ٹوٹ جائے کہ ویسے تو حضرت میرے آس پاس منڈلاتے رہتے تھے لیکن میرے اس عزیز کے انتقال پر ان کی صورت بھی دکھائی نہیں دی اوروہ آپ سے ، اس مدنی ماحول سے دور ہوجائے ۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!
کسی کی غم خواری کرنے سے جہاں ہمیں تنظیمی طور پر فائدہ حاصل ہوگا وہیں اُخروی فضائل بھی ملیں گے ۔
(i) حضرتِ جابررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا ’’جو کسی غمزدہ شخص سے تعزیت (یعنی اس کی غم خواری)کر ے گا اللہ عَزَّ وَجَلَّ اسے تقوی کا لباس پہنائے گا اور روحو ں کے درمیان اس کی روح پر رحمت فرمائے گا اور جو کسی مصیبت زدہ سے تعزیت کرے گا اللہ عَزَّ وَجَلَّ اسے جنت کے جوڑوں میں سے دوایسے جوڑے عطا کرے گا جن کی قیمت دنیا بھی نہیں ہوسکتی۔‘‘(المعجم الاوسط طبرانی ج۶ ص ۴۲۹ رقم ۹۲۹۲)
حضرت ثوبان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ حضور اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا ’’مسلمان جب اپنے مسلمان بھائی کی عیادت کو گیا تو واپس ہونے تک جنت کے پھل چننے میں
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع