30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اگر سامنے والے نے خلافِ سنت لباس پہنا ہوا ہو یا وہ کسی اعلانیہ فسق (مثلاً داڑھی منڈانے کے گناہ )میں مبتلاء ہو تو اس پرتنقید نہ کریں کہ فائدہ کی بجائے نقصان ہو سکتا ہے ۔
(13) اختلافی وسیاسی بحث میں نہ الجھیں :
اگر دورانِ گفتگو سامنے والاکسی قسم کی اختلافی بحث چھیڑنے کی کوشش کرے تو اپنے’’ محققِ اعظم ‘‘ہونے کا ثبوت دینے کی بجائے اس سے گزارش کریں کہ ’’آپ کے ان سوالات کا جواب تو ہمارے علمائے کرام ہی بہتر طور پر دے سکتے ہیں ، لہذا!اگر آپ چاہیں تو کسی وقت فلاں عالمِ دین کی خدمت میں حاضری دیتے ہیں ۔‘‘یا پھر اسے اس موضوع پر لکھی گئی مستند کتاب پڑھنے کا مشورہ دیتے ہوئے بات آگے بڑھا دیں ۔اور اگر آپ کی ملاقات سیاسی بحث کا شوق رکھنے والے سے ہوجائے تو اس بحث میں مبتلاء ہونے کی بجائے اپنی گفتگو کا رخ اپنے مقصد کی جانب اس طرح پھیریں کہ اسے محسوس نہ ہونے پائے ، کیونکہ ایسی بحث کی صورت میں غیبت ہوجانے کا اغلب امکان ہوتا ہے جو کہ حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے ۔
(14) محاسب نہیں خیرہ خواہ بنیں :
دورانِ گفتگو اگر سامنے والا کوئی غلط بات کہہ دے تو نہایت شفقت کے ساتھ اس کی خیرخواہی کرتے ہوئے نرمی سے سمجھائیے نہ کہ محاسب کے انداز میں پوچھ گچھ اور ڈانٹ ڈپٹ شروع کر دیں ۔جیساکہ …
حضرت سیدناانس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ حضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا، ’’ نرمی جس چیز میں ہوتی ہے اُسے زینت عطا کرتی ہے ۔‘‘
(مسند احمد بن حنبل ، ج۱۰، رقم ۲۵۷۶۷، ص۴۰۷)
حضرت سیدناابو مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ارشاد فرماتے ہیں ، ’’ جب تم اپنے کسی بھائی کو گناہوں میں مبتلا دیکھو تو اُس کے خلاف شیطان کے مددگار نہ بن جاؤ کہ تم کہتے ہو اللہ اسے رسوا کرے ، اللہ اِس کا برا کرے بلکہ یوں کہو اللہ اِسکی توبہ قبول فرمائے اِسکی مغفرت فرمائے۔‘‘ (کنزا لعمال ، کتاب الاخلاق ، باب فضیلۃ الصبر ، رقم ۶۵۲۱، ج۳، ص۱۱۲بتغیر قلیل)
(15) سب کے سامنے نہ سمجھائیں :
اگر وہ کوئی غلطی کردے تو اسے سب کے سامنے ہرگز نہ ٹوکیں کہ اس کی دل آزاری ہوجانے کا قوی امکان ہے جس کی وجہ سے آپ کی بات بے اثر ہوجائے گی ، لہٰذا موقع پاکر تنہائی میں سمجھائیں ۔
حضرت سیدناابودردا رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ’’ جس نے اپنے بھائی کو سب کے سامنے نصیحت کی اس نے اس کو ذلیل کر دیا اور جس نے تنہائی میں نصیحت کی اس نے اس کو مزین (آراستہ) کردیا۔‘‘(تنبیہ الغافلین ص۹۴ )
(16) اعتراض یا تنقید کا جواب :
اگرملاقات کے دوران سامنے والا آپ کی ذات یا تنظیم پر خوامخواہ کا اعتراض یا بے جا تنقید کرے توبھڑک اٹھنے کی بجائے زبان کا قفل مدینہ لگاتے ہوئے اسے نرمی کے ساتھ نیکی کی دعوت دینے کا سلسلہ جاری رکھئے ۔اور اگر ایسی صورت حال ہو کہ اس کا جواب دینا ضروری ہوجائے توانتہائی حکمت ِ عملی سے جواب دیجئے کہ سننے والا کوئی بھی شخص بدظن نہ ہو ۔
(17) اس کی کوئی بات بری لگے تو ؟
اگرآپ کو اس کی کوئی بات بری لگے تو اس پر ظاہر نہ ہونے دیں بلکہ برداشت کرکے صبر کرنے کاثواب لُوٹیں ، مثلاً اس کے منہ سے بدبو آرہی ہو یا اس کے جسم سے پسینے کی بو آرہی ہو جس کی وجہ سے اس کے پاس کھڑا ہونا دشوار محسوس ہورہا ہو تو اسے ہرگز اس بات کا احساس نہ ہونے دیں کہ آپ اس کی وجہ سے کسی آزمائش میں مبتلاء ہیں ۔
دوران گفتگو فضول گوئی (یعنی بے کار باتوں )سے بالعموم اورحرام کلام مثلاً غیبت ، چغلی وغیرہ سے بالخصوص مکمل طور پر بچئے۔صرف اور صرف اپنے مدنی مقصد پر نگاہ رکھئے۔
لہجے کا اثر الفاظ سے زیادہ ہوتا ہے ، لہذا ! ہمارا لہجہ خصوصاً ملاقات کے وقت ایک شفیق اور مہربان باپ کے لہجے کی طرح ہونا چاہیے ۔ اگر ہم ایسا کرنے میں کامیاب ہوگئے تو ہمارے لہجے کی مٹھاس اس کے کانوں میں رس گھولتی ہوئی دل میں اتر جائے گی۔ اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ
(20) سنجیدگی کا دامن تھامے رکھیں :
ملاقات کے دوران سنجیدگی کا دامن مضبوطی سے تھامے رہئے اور مذاق مسخری کی محفل گرم کرنے سے پرہیز کریں ۔لیکن یاد رکھئے کہ سنجیدگی’’ منہ پر بارہ بجانے‘‘ کا نام نہیں اور نہ ہی بقدرِ ضرورت گفتگو کرنا اور مسکرانا سنجیدگی کے منافی ہے۔ اس لئے سنجیدہ بننے کے لئے ان چیزوں کو ترک نہ کریں بلکہ حسب ِ ضرورت مزاح بھی کر لیں ، اور مزاح ایسا ہونا چاہیے جس میں نہ تو کسی کی دل آزاری وتذلیل ہو اور نہ ہی کوئی اس کی وجہ سے تشویش میں مبتلاء ہو۔
گفتگوکے دوران اگر سامنے والا (معاذ اللہ عَزَّ وَجَلَّ )کوئی ایسا کلمہ کہہ ڈالے جسے علمائے کرام نے کفرقرار دیا ہو(کلمات کفر کی پہچان کے لئے امیرِ اہل ِ سنت مدظلہ العالی کے رسالے ’’اٹھائیس کلمات کفر‘‘کا مطالعہ کریں )تو اس کے الفاظ کی تائید نہ کریں ، لیکن اُس پر فوری طور پر ’’کفر کا فتویٰ‘‘لگانے سے بھی پرہیز کریں کہ اسی میں عافیت ہے کیونکہ ہوسکتا ہے کہ آپ کے سمجھنے میں غلطی ہوئی ہو اور وہ کلمہ کفر نہ ہو یا پھر وہ کلمہ توکفر ہو لیکن اس کے کہنے والے کو کافر نہیں کہا جاتا (اس کی تفصیلی معلومات کے لئے مکتبۃ المدینہ کی شائع کردہ کتاب’’ایمان کی حفاظت‘‘کا مطالعہ فرمائیں )بہر صورت اسے حکمت عملی سے سمجھائیں کہ’’ پیارے بھائی میری معلومات کے مطابق علمائے کرام نے اس بات کو کفر قرار دیا ہے لہذا ! آپ احتیاطاً تجدید ایمان کے لئے کلمہ پڑھ لیجئے اور کسی مستند عالم سے اس بارے میں ضرورپوچھ لیجئے گا ۔‘‘ پھرایمان کی حفاظت کے بارے میں اس کا ذہن بنا کر ’’اٹھائیس کلمات کفر ‘‘نامی رسالہ تحفے میں دے دیں اور اپنی گفتگو کا سلسلہ وہیں سے جوڑ لیں جہاں سے ٹوٹا تھا ۔
(22) مدنی انعامات پر عمل اور مدنی قافلوں میں سفر کی دعوت ضرور دیں :
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع