دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Infiradi Koshish Main 25 Hikayaat e Attaria | انفرادی کوشش مع 25 حکایاتِ عطاریَّہ

book_icon
انفرادی کوشش مع 25 حکایاتِ عطاریَّہ

        دورانِ ملاقات ایسے سوالات نہ کریں جن کا جواب دیتے ہوئے مسلمان کے جھوٹ میں مبتلاء ہونے کا غالب امکان ہو ، مثلاًسفر کیسا گزرا؟ آپ کو میری بات بری تو نہیں لگی؟ آپ نے اجتماع میں شرکت کیوں نہیں کی ؟ آپ بورتو نہیں ہو رہے ؟وغیرہ وغیرہ …

(4) بات نہ کاٹیں :

                 حتی الامکان سامنے والے کی بات کاٹنے سے بچیں کہ کوئی بھی اس چیز کو پسند نہیں کرتا ۔ ہاں ! اگر سامنے والا بے تکان بولتا چلاجائے یا گفتگو کا رخ ایسی جانب موڑ دے جہاں آپ کو اپنامقصد ِ ملاقات فوت ہوتا نظر آئے وہاں حکمت عملی سے رسمی الفاظ بول کر ترکیب بنا لیجئے۔

(5) سامنے والے کی نفسیات کے مطابق گفتگو کریں :

         دورانِ گفتگو سامنے والے کی نفسیات کو مد ِ نظر رکھنا بہت ضروری ہے ۔ لہذا ! وہ جس شعبۂ زندگی سے تعلق رکھتا ہو اُس سے اِس شعبے کے بارے میں مختصر طور پر چند جملوں میں معلومات ضرور پوچھیں اور اپنی انفرادی کوشش کے دوران ہوسکے تو اس کے شعبے کی مثالیں دے کر اسے سمجھائیں ۔ اس سے ملاقات میں اُس کی دل چسپی قائم رکھنے میں بہت مدد ملے گی ۔

(6) بھر پور خود اعتمادی سے ملاقات کریں :  

        انفرادی کوشش کے لئے بالخصوص شخصیات سے ملاقات کرنے والے مبلغ کو چاہئیے کہ اس کے سامنے موجود شخصیت کتنے ہی بڑے عہدے پر کیوں نہ ہو وہ قلبی طور پر ہرگز ہرگز اس کے عہدے یا منصب سے مرعوب نہ ہو اور نہ ہی کسی قسم کی احساس ِ کمتری کا شکار ہو بلکہ بھر پور خود اعتمادی کا مظاہرہ کرتے ہوئے انفرادی کوشش کرے ۔ مگر یاد رہے کہ انفرادی کوشش کرچکنے کے بعد خُود پسندی میں مبتلا ہونے کی بجائے اللہ   عَزَّ وَجَلَّ  کا شکر ادا کرے کہ اس نے مجھے انفرادی کوشش کی توفیق عطا فرمائی ۔

(7) آپ جناب سے بات کریں :

        دورانِ گفتگو توتُکار ، ابے تبے سے بچیں خواہ وہ آپ کا پرانا جاننے والا ہو ، بلکہ آپ جناب سے بات کریں ۔ اس سے آپ کو اپنا مقصد پورا کرنے میں معاونت ملے گی ۔

(8)  نگاہیں نیچی رکھیں :

         ملاقات کے دوران سامنے والے کے چہرے پر نظریں نہ گاڑیں بلکہ سنت پر عمل کرتے ہوئے اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور وقتاً فوقتاًکن انکھیوں سے اس کے چہرے کے تاثرات کا جائزہ بھی لیتے رہیں ۔

(9) اصطلاحات کا استعمال :  

        گفتگو کے دوران دعوتِ اسلامی کی اصطلاحات کا استعمال ہرگزترک نہ کریں ۔ہاں ! اگر ایسی اصطلاح ہو جس سے سامنے والا بالکل ناواقف ہواور تشویش میں مبتلاء ہوجائے تو اس کی مختصر طور پر وضاحت بھی کردیجئے مثلاً ’’مکتب‘‘کا لفظ بولیں تو اسے بتادیں کہ’’ دفتر‘‘ کو ہمارے ہاں مکتب کہا جاتا ہے ۔

(10)  درمیانی آواز سے گفتگو کریں :  

                        دورانِ گفتگو درمیانی آواز سے بات چیت کریں ، نہ تو اتنی  دھیمی آواز ہو جو سامنے والے کے پردۂ سماعت سے ٹکرانے کی ’’سعادت‘‘ سے محروم رہے اور نہ اتنی بلند کہ آس پاس کے لوگ تشویش میں مبتلاء ہوجائیں ۔

(11) اظہار مسرت اورغم خواری :

        سامنے والا اگر کوئی خوشی کی بات بتائے کہ میں امتحان میں پاس ہوگیا ہوں یا میرے ہاں بچے کی ولادت ہوئی ہے تواس کی خوشی میں اس طرح شریک ہوجائیں کہ وہ خوشی اسے نہیں آپ کو ملی ہے ۔ اسے مبارک باد دیتے ہوئے ملاقات کے اختتام پر اس کے بچے کے لئے کوئی تحفہ دے دیجئے ۔اور اگر اس کا کوئی چھوٹا بچہ ساتھ ہو(جو حد ِ شہوت کو نہ پہنچا ہو) تو اسے شفقت سے چوم لیجئے ، اس سے سامنے والے کے دل میں آپ کی محبت بڑھے گی ۔

        اور اگر وہ کوئی غم کی بات بتائے مثلاً میں امتحان میں فیل ہوگیا یا میرے پیسے کھو گئے یا مجھے کاروبار میں نقصان ہو گیا تو اظہار افسوس کرتے ہوئے اس کی غم خواری کیجئے ، اس کی ڈھارس بندھانے کے لئے موقع محل کے مطابق مصائب کے فضائل میں سے کوئی فضیلت بھی سنا دیں ۔ مصائب کے چند فضائل ملاحظہ ہوں ، …

 (۱) حضرتِ ابن عبا س رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ   فرماتے ہیں کہ رسول اللہ  صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا کہ’’ جس کے مال یا جان میں مصیبت آئی پھر اس نے اسے پوشیدہ رکھا اور لوگوں پر ظاہر نہ کیا تو اللہ   عَزَّ وَجَلَّ َّ پر حق ہے کہ اس کی مغفرت فرمادے ۔‘‘جبکہ ایک روایت میں ہے کہ ’’مسلمان کو تھکاوٹ ، مرض رنج اور غم میں سے جومصیبت پہنچتی ہے یہاں تک کہ کانٹا بھی چبھتا ہے تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ  اسے اسکے گناہوں کا کفارہ بنادیتاہے ۔‘‘(مجمع الزوائد کتاب الزھد رقم ۱۷۸۷۲ ج۱۰ ص ۲۵۶)   

 (۲) حضرتِ اَنَسْ بن مالک فرماتے ہیں کہ رسول اللہ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ایک درخت کے پاس تشریف لائے اور اسے ہلایا یہاں تک کہ اللہ   عَزَّ وَجَلَّ َّ نے اسکے جتنے پتے گرانا چاہے اتنے پتے گر گئے پھر فرمایاکہ’’ مصیبتیں اور تکلیفیں میرے اس درخت کے پتوں کو گرانے سے بھی تیزی سے آدمی کے گناہوں کو گرا دیتی ہیں ۔‘‘ (مجمع الزوائد ج۲ ص ۳۰۱ )

 (۳) رسول اکرم صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا کہ’’ قِیَامَتْ کے دن جب اہل بلا کو ثواب دیا جائے گا تودنیا میں عافیت کے ساتھ رہنے والے تمنا کریں گے کہ کاش! ان کی کھالوں کوقینچیوں سے کاٹ دیا جاتا۔‘‘( ترمذی ، کتاب الزھد ، رقم :  ۲۴۱۰ ، ج۴، ص ۱۸۰)

 (۴)  حضرتِ سیدنامعا ویہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ   سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ  صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کوفرماتے ہوئے سنا، ’’مومن کے جسم میں جو ایذاء دینے والی چیز پہنچتی ہے اللہ   عَزَّ وَجَلَّ  اس کے سبب اس بندے کے گناہ مٹادیتا ہے ۔‘‘(التر غیب والترھیب  رقم ۵۲۷۳ ج۶ ص ۱۶۶)

(12) اس کے ذاتی حلئے وغیرہ پر اعتراض نہ کریں :

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن