30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اسی طرح شدید سردی میں ٹھنڈے پانی کے تصور سے ہی رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں لیکن اگر کبھی فجر کے وقت اس سے وضو کرنا پڑ جائے تو پہلی مرتبہ ہاتھ میں لینے پر اس کی ٹھنڈک برداشت کرنا بے حد مشکل لیکن بعد میں بے حد آسان ہوجاتا ہے۔ بالکل اسی طرح انفرادی کوشش کرنے میں جھجھک کا شکار ہونے والے کو چاہیے کہ وہ احساس ِ کمتری میں مبتلاء ہونے کی بجائے موقع ملتے ہی ہمت کر کے انفرادی کوشش کا آغاز کر دیا کرے اور اپنی نظر اسباب پر نہیں خالق ِ اسباب عَزَّ وَجَلَّ پررکھے ۔ مسلسل انفرادی کوشش جاری رکھنے کی برکت سے ایک وقت ایسا آئے گا کہ اسے بلا کی خوداعتمادی حاصل ہوجائے گی اور وہ اپنی ابتدائی کیفیات کو یاد کر کے مسکرائے بغیر نہ رہ سکے گا ۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! حج کے بعد مسلمانوں کا سب سے بڑا اجتماع ’’دعوت اسلامی کا بین الاقوامی اجتماع ‘‘ہے جو ہر سال مدینۃ الاولیاء ملتان شریف میں ہوتا ہے ۔ ہمارے شیخ طریقت ، امیر اہلِ سنت مدظلہ العالی جب اس اجتماع میں بیان فرماتے ہیں تو سننے والوں کی توجہ کا عالم دیدنی ہوتا ہے ۔ آج لاکھوں کے اجتماع میں بیان کرنے، ذکراللہ عَزَّ وَجَلَّ اور دعا کروانے والے بانیٔ دعوت ِ اسلامی مدظلہ العالی اپنے ابتدائی بیان کے بارے میں فرماتے ہیں کہ
’’ دعوت ِ اسلامی کے بننے سے قبل میں نے اپنی زندگی میں پہلا بیان ’’فضول خرچی‘‘کے موضوع پر کیا تھا ۔مجھ سے پہلے جس مقرر نے بیان کیا ، وہ بیان کے دوران گاہے بگاہے نگاہ اٹھا کر سر گھما کر حاضرین کو بھی دیکھتے تھے ۔ جب میں بیان کے لئے کھڑا ہوا تو نگاہیں نیچی کئے بیان شروع کردیا ۔دوران ِ بیان میں نے سوچا کہ مجھ سے پہلے بیان کرنے والے نگاہ اٹھا کر حاضرین کو بھی دیکھتے تھے ، کیوں نہ میں بھی اسی طرح کروں ۔ لیکن جب میں نے نگاہ اٹھائی تو نفسیاتی طور پر شدید گھبراہٹ طاری ہوگئی اور اس وقت میرے دل کی جو حالت تھی وہ میں ہی جانتا ہوں اور مجھے کیا یاد رہا اور کیا نہیں ؟یہ میں ہی جانتا ہوں ۔‘‘
بعض اسلامی بھائی یہ سوچ کر انفرادی کوشش کرنے کی سعادت سے محروم رہتے ہیں کہ ہم کیسے انفرادی کوشش کریں ہمیں تو اس کا طریقہ ہی نہیں آتا ؟
اس رکاوٹ کو دور کرنے کا طریقہ :
اس سلسلے میں عرض ہے کہ پہلی فرصت میں ’’مدنی قافلہ کورس ‘‘کر لیجئے جس میں آپ کو انفرادی کوشش کا طریقہ عملی طور پر سکھایا جائے گا نیز اس کتاب کے مطالعہ کی برکت سے بھی یہ رکاوٹ ایک حد تک دور ہوجائے گی ۔ اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ
ہماری مصروفیات بہت زیادہ ہیں جن کی بناء پر ہمیں انفرادی کوشش کے لئے وقت نہیں مل پاتا ۔
اس رکاوٹ کو دور کرنے کا طریقہ :
ایسے اسلامی بھائیوں کی خدمت میں مدنی التجاء ہے کہ غور کریں کہ ہماری یہ مصروفیات ہمارے دیگر دنیاوی معاملات مثلاً شادی بیاہ میں شرکت کرنے ، کسی عزیزکی فوتگی پر جانے ، دور رہنے والے رشتے داروں سے ملاقات کے لئے جانے وغیرہ میں بھی رکاوٹ بنتی ہیں یا نہیں ؟ اگر جواب نہ میں ہو تو لمحۂ فکر ہے کہ ان مصروفیات کو اخروی سعادتوں کے حصول میں رکاوٹ بناکر کہیں ہم شیطان کے ہاتھوں کھلونا تو نہیں بن رہے ؟ اس لئے دنیا وآخرت کی ڈھیروں بھلائیاں حاصل کرنے کے لئے اپنی مصروفیات سے وقت نکال کر انفرادی کوشش شروع کردیجئے ۔
ہم انفرادی کوشش کرنا چاہتے ہیں لیکن سُستی ہوجاتی ہے ۔
اس رکاوٹ کو دور کرنے کا طریقہ :
ظاہر ہے یہ سستی نفس وشیطان کی طرف سے ہے ۔ غور کیجئے کہ ایسامدنی کام جو ہمارے لئے عظیم ثواب ِ جاریہ کا سبب بن سکتا ہو اوراس میں تنظیمی ترقی کا راز پوشیدہ ہو، اور سب سے بڑھ کر جس کے ذریعے رب تعالیٰ اور اس کے حبیب ‘بیمار دلوں کے طبیب صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی رضا حاصل ہو سکتی ہو تو اس کام کے کرنے میں سستی کا مظاہرہ نادانی نہیں تو اور کیا ہے؟ کیا دنیا کی دولت کمانے کے لئے سستی کو بالائے طاق نہیں رکھا جاتا تو پھر اُخروی دولت کے حصول کے وقت یہ سستی پہاڑ کی شکل کیوں اختیار کر لیتی ہے؟
ہم نے کئی بار انفرادی کوشش کی لیکن کوئی نتیجہ برآمد نہ ہو ا ، کیونکہ نہ تو ہم کسی کو اجتماع میں شرکت کروا سکے ، اور نہ ہی مدنی انعامات کا عامل اور مدنی قافلوں کا مسافر بنا پائے ۔لہذا!ہم نے تھک ہار کر انفرادی کوشش کرنا چھوڑ دیا ۔
اس رکاوٹ کو دور کرنے کا طریقہ :
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!یہ آپ سے کس نے کہہ دیا کہ آپ کا منصب کرکے دکھانا ہے؟ یاد رکھئے !ہمارا کام فقط دوسرے اسلامی بھائیوں تک احسن انداز میں انفرادی کوشش کر کے نیکی کی دعوت پہنچا دینا ہے ، ان کو عمل کی توفیق دینے والی ذات تو رب ِ کائنات کی ہے۔ لہذا !اپنی کوشش کاکوئی نتیجہ نہ نکلنے پر ہرگز دل چھوٹا نہ کریں بلکہ اسے اپنے اخلاص کی کمی تصور کرتے ہوئے رضائے الٰہی عَزَّ وَجَلَّ کے لئے انفرادی کوشش کا سلسلہ جاری رکھئے اور اللہ تَعَالٰی سے دعا کرتے رہیں کہ’’ اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ ! میری زبان میں تاثیر عطا فرما او رمیری انفرادی کوشش میں پائی جانے والی خامیاں دور فرما دے ۔‘‘ اس کے ساتھ ساتھ غور کیجئے کہ مایوسی کا شکار ہو کر کہیں ہم شیطان کے وار کو کامیاب تو نہیں بنا رہے ؟نیز کیا کبھی دنیاوی فوائد کے حصول کے لئے کی جانے والی
کوشش کے ناکام ہونے پر ہم نے اسے بھی مکمل طور پر ترک کیا ؟ اگر جواب نفی میں ہو تو خود کو سنبھالئے اور مایوسی سے دامن چھڑا کر انفرادی کوشش کا سلسلہ پھر سے شروع کر دیجئے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع