30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
پینٹ اور شر ٹ میں کَسا کسَایا اَپ ٹُو ڈیٹ نوجوان پٹا خ پٹا خ بوٹ پچھا ڑتا گزرے تو سب کو بھلالگے مگر مصطفٰے صلی اللہ علیہ وسلم کا دیوانہ سنتو ں بھر ے سفید لباس میں ملبو س ، با رِیش و با عِمامہ سنت کے مطا بق زلفیں لہراتا ، نگاہیں نیچی کئے خوشبوئیں مہکاتا گزرے تو ایک آنکھ نہ بھائے ۔ آہ !
وہ دو ر آیا کہ دیوانۂ نبی کیلئے ہرایک ہاتھ میں پتھردکھائی دیتا ہے
نہ جانے مسلمان کب غفلت کی نیند سے بیدا ر ہوگا ! یہ سینما گھرو ں اور بر ی صحبتوں سے نکل کر مسجد کی طر ف کب پلٹے گا ؟ خود برائی سے با ز رہ کر دو سرو ں کو برائیوں سے باز رکھنا کب سیکھے گا ؟ وہ مسلمان کس قد ر بد نصیب ہے جو دنیا کی ذلیل دولت کی خاطر تو اپنا گھر با ر ، ماں باپ ، وطنِ عزیز سب کچھ چھوڑ کر دُور دراز کے ملکوں کا سفر اختیار کرسکتا ہے مگر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے دین کی سر بلندی کی خاطر وہ اپنے گھرسے چند رو ز کیلئے بھی نکلنے کے لئے تیار نہیں ۔ وہ ماں باپ بھی کتنے عجیب ہیں کہ اپنی اولاد کو علمِ دنیا کی خاطر دُور درا ز کے ممالک میں کفّار تک کے سِپر د کرتے ہو ئے نہیں ہچکچاتے مگر سنتوں کی تر بیت کے مَدَنی قافلے میں چند رو ز بھی سفر کرنے کی اجازت نہیں دیتے ۔ پہلے کے مسلمان ماں باپ اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور اس کے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے کس قدر محبت کرتے تھے اور اپنے جگر پارو ں کو دین سیکھنے کیلئے کس فرا خ دلی کے ساتھ راہ ِخدا عَزَّ وَجَلَّ میں وقف کرتے تھے، اس کا اندا زہ اس واقعہ سے لگا ئیے ۔
’’ ایک بزرگ سے ان کے اکلوتے صاحبزادے نے علمِ دین سیکھنے کیلئے سفر کی اجا زت چاہی ۔ پہلے کے دور میں سفر بے حد دشوار گزار ہوتے تھے انہو ں نے بخو شی اپنے بیٹے کو راہ خدا عَزَّ وَجَلَّ میں وقف کردیا ۔ تقریباً دس سال کے بعد بیٹا اپنے والدین کی زیارت کی غر ض سے سفر کر کے ایک تا ریک رات موسلادھار بار ش میں بھیگتا ہوا گھر تک پہنچتا ہے اور دروازے پر دستک دیتا ہے ۔ اندر سے بو ڑھے باپ کی آواز آتی ہے کون؟ جواب دیتا ہے ، آپ کا بیٹا ’’احمد ‘‘۔ اندر سے آواز آتی ہے، ’’ ہمارا ایک ہی بیٹا تھا جسے ہم نے راہ خدا عَزَّ وَجَلَّ میں وقف کردیا ہے، ہم راہ خدا عَزَّ وَجَلَّ میں دے کر واپس نہیں لیتے ۔ جواب سن کر بیٹا ایک بار پھر علمِ دین کا جذبہ لیکر وہیں سے پلٹ جاتاہے ۔ (رسالہ قشیریہ )
کا ش! مسلمان اپنی ذمّہ داری سمجھیں اور ایک بار پھر نیکی کی دعوت کی دُھومیں مچانے کیلئے گلی گلی ، قریہ قریہ ، شہر شہر، ملک ملک پھیل جائیں ۔ تما م افرادِ خانہ کو سلام ۔ مجھ … کو دعائے مدینہ سے نوازتے رہیں ، دعوت اسلامی کے مدنی قافلے میں ہر ماہ کم از کم تین دن سفر کی مدنی التجا ہے ۔ دعوت اسلامی کے ہفتہ وار اجتماع میں پابندی وقت کے ساتھ شرکت فرمایا کریں ۔
والسلام مع الاکرام
![]()
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!
ہمیں بھی چاہئیے کہ اپنے اکابرین کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے نیکی کی دعوت کو ساری دنیا میں عام کرنے کے لئے انفرادی کوشش کی مقدس عادت کو اپنا لیں اور اپنی آخرت کی بہتری کے لئے نیکیوں کا خزانہ جمع کرنے کی کوشش میں لگ جائیں ۔
٭…٭…٭…٭…٭…٭
انفرادی کوشش کی راہ میں حائل ہونے والی رکاوٹیں اور انہیں د ور کرنے کا طریقہ
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!
انفرادی کوشش کی تمام تر اہمیت اور فوائد کے باوجود اسلامی بھائیوں کی بہت بڑی تعداد اس اہم مدنی کام کو اپنے لئے بہت مشکل تصور کرتی ہے ۔چنانچہ! ایسے اسلامی بھائی بار بار کی ترغیب کے باوجود اس مدنی کام کے لئے کما حقہ فعال نہیں ہوپاتے ۔ ایسے اسلامی بھائیوں کی طرف سے عموماً جن رکاوٹوں کا اظہار کیا جاتا ہے ، وہ رکاوٹیں اور ان کو دور کرنے کا طریقہ پیش ِ خدمت ہے۔
ہم بھر پور انفرادی کوشش کرنا چاہتے ہیں لیکن ہمیں شرم آتی ہے اورجھجھک محسوس ہوتی ہے ۔
اس رکاوٹ کو دور کرنے کا طریقہ :
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!ایسی صورت میں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں کیونکہ جو بھی کام پہلی مرتبہ کیا جائے اس میں جھجھک محسوس ہوتی ہی ہے ۔ اس جھجک کو دور کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ جیسے بھی بن پڑے ہمت کر کے انفرادی کوشش کا آغاز کردیا جائے ۔ پہلے پہل جھجھک محسوس ہوگی لیکن بعد میں اس کا نام ونشان بھی باقی نہ رہے گا ۔جس طرح تیراکی سیکھنے کی خواہش رکھنے والے کو پانی سے کتنا ہی خوف محسوس کیوں نہ ہو اسے دریا میں اترنا ہی پڑتا ہے ، اسی طرح انفرادی کوشش سیکھنے کے لئے اسلامی بھائیوں سے ملاقات کرنا ہی پڑے گی ۔اس سلسلے میں اس حکایت پر غور کیجئے ،
’’ ایک چھوٹا سا بگلہ جو اونچی چٹان پر ہی پیدا ہواتھا ۔ پہلے پہل اس کے بہن بھائی اور ماں اسے مچھلیاں لا کر کھلاتے رہے ۔جب وہ تھوڑا سے بڑا ہو گیا تو انہوں نے اس سے خود شکار کر کے کھانے کا مطالبہ کیا لیکن وہ اڑنے سے ڈرتا رہا ۔آخر ایک دن ایسا آیا کہ کوئی بھی اس کے پاس مچھلی وغیرہ نہ لایا ۔ جب وہ بھوک سے نڈھال ہوگیا اور اس نے چٹان سے نیچے جھانکا تو اسے نیچے بہت بڑا سمندر دکھائی دیا جہاں سے اسے خوراک مل سکتی تھی ۔ اسے اڑنے سے بے حد ڈر لگا لیکن اس کے سوا کوئی چارہ بھی نہ تھا چنانچہ اس نے ہمت کر کے چٹان سے چھلانگ لگا دی۔وہ نیچے گرنا شروع ہوگیا لیکن اچانک اس نے محسوس کیا کہ اس کے پر پھڑپھڑا رہے ہیں اور وہ اڑرہا ہے ۔ وہ آرام سے ساحل ِ سمندر پر اتر آیا۔اب وہ خود اپنی خوراک کا انتظام کرنے کے لائق ہوچکا تھا ۔ ‘‘
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع