30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
والے اسلامی بھائی حقیقتاًگونگے نہیں ہوتے لیکن وہ اشاروں کی زبان میں گفتگو کرنا جانتے ہیں ۔ ایک مرتبہ بہت سے گونگے اسلامی بھائی امیرِ اہلِ سنت مدظلہ العالی کی بارگاہ میں حاضر ہوئے ۔ان میں ایک گونگا ایسا تھا جوبدمذہبوں کے عقائد کی طرف مائل تھا ۔ کسی نے امیرِ اہلِ سنت مدظلہ العالی کو اس کے بارے میں بتایا تو آپ نے ان کی تربیت کرنے والے اسلامی بھائی کے ذریعے اس سے گفتگو کی ۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ ! آپ کی انفرادی کوشش کی برکت سے وہ گونگا اپنے برے عقائد سے تائب ہوگیا ۔
(10) کلمۂ کفر بولنے والے پر انفرادی کوشش
بہت عرصہ قبل یعقوب ٹیرس سولجر بازار کے رہائشی اسلامی بھائی امیرِ اہل ِ سنت مدظلہ العالی سے ملاقات کی غرض سے حاضر ہوئے تو کسی وجہ سے ملاقات نہ ہوسکی ۔ انتہائی مایوسی کے عالم میں ان کے منہ سے کلمۂ کفر نکل گیا ۔ جب آپ کو ان کی زبان سے نکلنے والے کلمات کے بارے میں بتایا گیا تو آپ نے (کچھ اس طرح) فرمایا’’ یہ تو کلمۂ کفر ہے ۔‘‘اس کے بعد اس اسلامی بھائی کی شدومد سے تلاش شروع کردی گئی ۔ تقریباً دو گھنٹے کی تلاش کے بعد بالآخر امیرِ اہل ِ سنت مدظلہ العالی اس اسلامی بھائی کے گھر جا پہنچے اور انفرادی کوشش کرتے ہوئے اسے کلمۂ کفر کے بارے میں بتایا اور توبہ کی ترغیب دلائی ۔اَلْحَمْدُلِلّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ ! اس اسلامی بھائی نے آپ کی انفرادی کوشش کی برکت سے توبہ کرکے تجدید ایمان کرلیا ۔
( 11) عذاب ِ جہنم سے ڈرانے کے لئے انفرادی کوشش
شہزادۂ امیرِ اہلِ سنت حاجی محمد بلال رضا عطاری سلَّمہ الباری فرماتے ہیں کہ
’’بچپن میں ایک مرتبہ میں نے کسی کنوئیں میں جھانک کر دیکھا تو اس کی گہرائی دیکھ کر میرے دل پر خوف طاری ہوگیا ۔جب میں نے اپنے باپاجان امیرِ اہل سنت مدظلہ العالی کی خدمت میں یہ ماجرا عرض کیا تو آپ نے انفرادی کوشش کرتے ہوئے کچھ اس طرح فرمایا ، ’’دنیاوی کنوئیں کی گہرائی دیکھ کر ہی آپ کا دل خوف زدہ ہوگیا تو غور کیجئے کہ جہنم کی گہرائی کس قدر ہولناک ہوگی ۔‘‘
(2 1) سنت سکھانے کے لئے انفرادی کوشش
شہزادۂ امیرِ اہلِ سنت حاجی محمد بلال رضا عطاری مدظلہ العالی کا ہی بیان ہے کہ
’’بچپن میں ایک مرتبہ امیرِ اہل ِ سنت مدظلہ العالی کے ساتھ ساتھ چلتے ہوئے اپنے گھر (واقع پیرکالونی باب المدینہ کراچی )سے فیضان مدینہ(واقع محلہ سوداگران)کی طرف آرہا تھا ۔ اسی دوران راستے میں ایک پُول(کھمبا)ہمارے درمیان حائل ہوگیا ۔ جب وہاں سے گزرنے کے بعد میں دوبارہ امیرِ اہل ِ سنت مدظلہ العالی کے قریب ہوا تو آپ نے سلام ارشاد فرمایا ۔ میں جواب دے چکا تو فرمایا ، ’’راستے میں چلتے ہوئے دو آدمیوں کے بیچ میں کوئی چیز حائل ہوجائے تو دوبارہ ملاقات پر سلام کرنا سنت ہے ۔‘‘ اَلْحَمْدُلِلّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ ! اس کے بعد سے ہمیشہ میری یہ کوشش رہی کہ جب بھی ایسا موقع آئے تو میں ہی سلام میں پہل کروں ۔
(3 1) ائیر پورٹ پر انفرادی کوشش
قومی ائیرلائن میں ملازمت کرنے والے ایک اسلامی بھائی کا بیان ہے کہ
۱۹۹۵ ء میں جب امیرِ اہل ِ سنت مدظلہ العالی سفرِ حج کے لئے ائیر پورٹ پہنچے اورمیرے کاؤنٹر سے بورڈنگ پاس (Boarding PASS)لیا پھر امیگریشن کاؤنٹر کی طرف بڑھ گئے ۔ میں نے آپ کے بعد بورڈنگ پاس لینے والے اسلامی بھائی سے دریافت کیاکہ ’’کیا بات ہے، آج آپ لوگوں (یعنی سبز عمامے والوں )کا بہت رش ہے ؟ کیا کوئی جارہا ہے ؟‘‘ اس اسلامی بھائی نے بتایا کہ ’’آج امیرِ اہلِ سنت علامہ ابوبلال محمد الیاس عطار قادری مدظلہ العالی حج کے لئے جارہے ہیں ۔‘‘میں نے کہا ، ’’مجھے بھی بتائیے امیرِ اہلِ سنت کون سے ہیں ؟(کیونکہ میں امیرِ اہل سنت مدظلہ کوپہچانتا نہ تھا)۔‘‘ اس اسلامی بھائی نے بتایا کہ’’جو ابھی ابھی کاؤنٹر سے بورڈنگ پاس لے کر گئے ہیں وہ ہی توامیرِ اہلِ سنت ہیں ۔‘‘ یہ سنتے ہی میں فوراً امیرِ اہلِ سنت مدظلہ العالی سے ملاقات کے لئے بڑھا، آگے جاکر دیکھا تو امیرِ اہلِ سنت مدظلہ العالی کو امیگریشن کاونٹر کے قریب قطار میں کھڑے پایا ۔ قریب جاکر سلام عرض کیا اور درخواست کی ، ’’حضور ! بہت لمبی لائن ہے ، لائیے میں آپ کی امیگریشن کروا دیتا ہوں ۔‘‘ لیکن امیرِ اہلِ سنت مدظلہ العالی نے حقوق العباد تلف ہونے کے خوف سے منع فرمادیا ۔ یہ دیکھ کرمیں بہت متأثر ہوا کہ’’ میں نے بڑی بڑی شخصیات کو دیکھا لیکن کوئی اس طرح قطار میں کھڑا نہیں ہوتا ۔‘‘چنانچہ میں امیرِ اہلِ سنت مدظلہ العالی کے انتظار میں وہیں رُکا رہا ۔ جب امیر اہل سنت امیگریشن Clearکروا کر آگے بڑھے تو میں بھی آپ کے ساتھ ساتھ چلنے لگا ۔
امیراہل سنت مدظلہ العالی نے چند قدم ساتھ چلنے کے دوران اتنی محبت دی کہ میں آپ کے حسن ِاخلاق کا گرویدہ ہوگیا اور عرض کی ، ’’میں آپ کے ساتھ کچھ دیر بیٹھنا چاہتا ہوں ۔‘‘ امیرِ اہلِ سنت مدظلہ العالی نے کرم فرماتے ہوئے مجھے وقت عطا کیا اور انفرادی کوشش کرتے ہوئے اجتماع کی دعوت بھی پیش کی ۔ میں نے اجتماع میں شرکت کی حامی بھر لی اور آپ کی خدمت میں درخواست کی ، ’’مجھے اپنا مرید بنا لیجئے ۔‘‘ جسے آپ نے قبول فرما لیا ۔اس طرح میں امیرِ اہلِ سنت مدظلہ العالی کی انفرادی کوشش کی برکت سے مدنی ماحول سے بھی وابستہ ہوگیا اورآپ کے ذریعے مجھے حضور سیدنا غوث پاک رضی اللہ عنہ کا دامن تھامنا بھی نصیب ہوگیا۔
(14) قادیانی پروفیسر پر انفرادی کوشش
ایک مرتبہ امیرِ اہل سنت مدظلہ العالی کی بارگاہ میں ایک مکتوب پہنچا جس میں کسی پروفیسرنے کچھ اس طرح سے لکھا تھا کہ میں قادیانی مذہب سے تعلق رکھتا ہوں اور ایک بڑے عہدے پر فائز ہوں ، میں اب تک 70مسلمانوں کو گمراہ کر کے قادیانی بناچکا ہوں ۔ سردار آباد (فیصل آباد )میں ہونے والے دعوتِ اسلامی کے اجتماع میں تنقیدی ذہن لے کر شریک ہوا لیکن آپ کا بیان سن کر دل کی دنیا زیر وزبر ہو گئی پھر کسی مبلغ نے آپ کے بیانات کی کیسیٹیں تحفے میں دیں ۔ دل کی کیفیات تو ایک بیان سن کر ہی بدل چکی تھیں مگر جب دیگر کیسٹیں سنیں تو لرز اٹھا اور ساری رات روتا رہا ، اب مجھے کیا کرنا چاہئے؟‘‘
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع