30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اورپختہ وعدہ کرا لیا توآپ نے فرمایا ’’پہلے سوال کاتوجواب یہ ہے کہ جو شے عین ضرورت کے وقت دستیاب ہوتی ہے ، اسکی وقعت دل میں زیادہ ہوتی ہے اس لئے اللہ تَعَالٰی نے اپنے کلام کوبتدریج(یعنی درجہ بدرجہ ) نازل فرمایا ۔‘‘پھر فرمایا’’ انسان بچہ کی صورت میں آتا ہے پھرجوان ہوتا ہے پھر بوڑھا ، اللہ تَعَالٰی توقادرتھا بوڑھا ہی کیوں نہ پیدافرمایا؟پھر فرمایا ’’انسان کھیتی کرتاہے ، پہلے پودانکلتاہے پھرکچھ عرصہ بعد اس میں بالی آتی ہے اس کے بعد دانہ برآمد ہوتاہے ، وہ توقادرتھا کہ ایک دم غلہ کیوں نہ پیدافرمایا۔‘‘اس کے بعد ستیارتھ پرکاش آگئی جس میں حسبِ ذیل عبارتیں موجودتھیں ۔
باب تیسرا (تعلیم)پندرہواں ہیڈنگ ’’اگنی ہوتر(یعنی پوجا)صبح شام دوہی وقت کرے ‘‘
باب چوتھا(خانہ داری )۶۳ہیڈنگ ’’سندھیا (ہندوؤں کی صبح وشام کی عبادت) دوہی وقت کرنا چاہئے ‘‘
ان عبارات کوسن کر اس آریہ کے لئے قائل ہونے کے سوا چارہ ہی کیا تھا؟ لہذا!اعتراف کرتے ہوئے معراج شریف والے سوال کا جواب چاہا۔اس کی نسبت اعلیٰ حضرت علیہ الرحمۃ نے ارشاد فرمایا ’’اسے یوں سمجھو کہ ایک بادشاہ اپنے مملکت کے انتظام کے لئے ایک نائب مقررکرتاہے، وہ صوبہ دار یانائب ‘بادشاہ کے حسبِ منشاء خدمات انجام دیتاہے ، بادشاہ اس کی کارگزاریوں سے خوش ہو کر اپنے پاس بلاتاہے اورانعام وخلعتِ فاخرہ عطافرماتا ہے نہ یہ کہ اسے بلا کر معطل کردیتاہے اوراپنے پاس روک لیتا ہے۔‘‘یہ سن کر اس نے کہا کہ ’’آپ نے میری پوری تشفی فرمادی اورمیری سمجھ میں خوب آ گیا، میں ابھی جاکر بیوی اوربچوں کو لاتا ہوں اورخود مسلمان ہوتا ہوں ، ان کو بھی مسلمان کراتاہوں ۔‘‘(حیات اعلیٰ حضرت ، ص۲۸۷)
(74) غربت وافلاس کے شاکی پر انفرادی کوشش
امام اہل ِ سنت مجددِ دین وملت الشاہ احمد رضاخان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ’’سادات کرام میں سے ایک صاحب میرے پاس تشریف لایا کرتے تھے اور اپنی غربت وافلاس کارونا روتے رہتے ۔ ایک مرتبہ بڑی پریشانی کی حالت میں آئے تو میں نے ان سے پوچھا ، ’’جس عورت کو باپ نے طلاق دے دی ہو کیا وہ بیٹے کے لئے حلال ہوسکتی ہے؟‘‘ انہوں نے فرمایا ’’نہیں ۔‘‘ میں نے کہا، ’’امیر المؤمنین حضرت سیدنا علی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے ، جن کی آپ اولاد ہیں ، تنہائی میں اپنے چہرۂ مبارکہ پر ہاتھ پھیر کر ارشاد فرمایا ، ’’ اے دنیا! کسی اور کو دھوکا دے ، میں نے تجھے طلاق دی جس میں کبھی رجعت نہیں ۔‘‘ کیا اس قول کے ہوتے ہوئے سادات کرام کا افلاس میں مبتلاء ہونا تعجب کی بات ہے ؟‘‘وہ کہنے لگے ، ’’واللہ عَزَّ وَجَلَّ !میری تسکین ہوگئی ۔‘‘ اس کے بعد کبھی اپنی غربت کا شکوہ نہ کیا ۔ (ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت، ، ص۹۳)
٭…٭…٭…٭…٭…٭
بانیٔ دعوت ِ اسلامی امیر اہلِ سنت علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطار قادری مد ظلہ العالی کی انفرادی کوشش کے واقعات
۱۴۰۶ھ میں امیر اہل ِ سنت ، حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس قادری مدظلہ العالی پنجاب کے مدنی دورے پر تھے کہ ساہیوال میں آپ کی مڈبھیڑ ایک دہریہ سے ہو گئی ۔ وہ اپنے عقائد ونظریات میں بہت پختہ دکھائی دیتا تھا لہذا! بحث مباحثہ کی بجائے آپ نے اس امید پر اسے کافی محبت وشفقت سے نوازا کہ ہوسکتا ہے کہ حسن ِ اخلاق سے متاثر ہوکر وہ عقائد باطلہ سے تائب ہوجائے ۔آپ کو پاکپتن شریف میں منعقد ہونے والے اجتماعِ ذکر ونعت میں بیان کرنا تھا، لہذا وہ بھی آپ کے ہمراہ چلنے پر تیار ہوگیا ۔ بذریعہ بس پاکپتن شریف پہنچنے کے بعد آپ نے حضرت سیدنا بابا فرید الدین مسعود گنج ِ شکر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے مزارِ پُرانوار پر حاضری دی ۔وہ دہریہ بھی آپ کے ساتھ ساتھ تھا ۔ رات کے وقت اجتماع ِ ذکر ونعت میں آپ نے اپنے مخصوص انداز میں رقت انگیز دعا کروائی ۔ حاضرین پھوٹ پھوٹ کر رو رہے تھے ۔ دوران ِ دعا آپ نے رو رو کر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں عرض کی، ’’یااللہ عَزَّ وَجَلَّ !راہ ِ حق کا ایک متلاشی ہمارے ساتھ چل پڑا ہے اور اس نے تیری بارگاہ میں ہاتھ بھی اٹھا دیئے ہیں ، اب تُو اس کا دل پھیر دے اور اس کو نور ِ ہدایت نصیب کر کے روشنی کا مینار بنا دے ۔‘‘
جب دعا ختم ہوئی تو اس دہریہ نے آپ سے بڑی عقیدت کا مظاہرہ کرتے ہوئے عرض کی ، ’’دورانِ دعا ایک انجانے خوف کے سبب میرے تورونگٹے کھڑے ہو گئے ، اب میں نے توبہ کر لی ہے ۔‘‘پھر اس نے آپ کے دست مبارک پر دہریت سے باقاعدہ توبہ کی اور کلمہ پڑھ کر مسلمان ہوگیا اور آپ کے ذریعے حضور سیدنا غوث الاعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی غلامی کا پٹا بھی اپنے گلے میں ڈال لیا ۔
(2) بُرا بھلا کہنے والے پر انفرادی کوشش
دعوت ِ اسلامی کے اوائل میں امیرِ اہل سنت مدظلہ العالی کو ایک اسلامی بھائی کے بارے میں پتا چلا کہ وہ آپ کو برابھلا کہتا ہے اوراس نے آپ کی امامت میں نماز پڑھنا بھی چھوڑ دی ہے ۔ایک دن وہ آپ کو اپنے دوست کے ساتھ سرِراہ مل گیا۔آپ نے اسے سلام کیا تو اس نے منہ دوسری طرف پھیر لیا۔ لیکن آپ نے اس کی بے رخی کا کوئی اثر نہ لیا اور اس کے سامنے ہوکر مسکراتے ہوئے کہا’’ بہت ناراض ہو بھائی؟ …‘‘ اور اسے اپنے سینے سے لگا لیا اور گرم جوشی سے معانقہ کیا ۔ اس کے دوست کا کہنا ہے کہ وہ آپ کے جانے کے بعد کہنے لگا ، ’’عجیب آدمی ہے ، میرے منہ پھیر لینے کے باوجود اس نے مجھے گلے لگا لیا ، جب اس نے مجھے گلے لگایا تو یوں محسوس ہوا کہ دل کی ساری نفرت محبت میں بدل گئی ، لہذا! میں مرید بنوں گا تو انہی کا بنوں گا۔‘‘پھر وہ اسلامی بھائی اپنے کہنے کے مطابق آپ کے مرید بھی بنے اور داڑھی شریف بھی چہرے پر سجا لی ۔
(3) مدنی ماحول سے دور ہوجانے والے پر انفرادی کوشش
باب المدینہ کراچی کے علاقہ لائنز ایریا میں رہنے والے ایک اسلامی بھائی مدنی ماحول سے وابستہ تھے لیکن چندنادان عناصر کے پروپیگنڈہ سے متاثر ہوکر دعوتِ اسلامی سے بدظن ہو کر مدنی ماحول سے دور ہوگئے اور اپنے دن رات محض دنیا کمانے میں بسر کرنے لگے ۔ ایک اسلامی بھائی انہیں امیرِ اہلِ سنت مدظلہ العالی کی بارگاہ میں لے گئے۔ جب امیر اہلِ سنت مدظلہ العالی کو
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع