دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Infiradi Koshish Main 25 Hikayaat e Attaria | انفرادی کوشش مع 25 حکایاتِ عطاریَّہ

book_icon
انفرادی کوشش مع 25 حکایاتِ عطاریَّہ

        یہ سن کر وہ قابوسے باہر ہوگئے اورکہنے لگے’’ واہ صاحب! بڑے مولانا بنتے ہیں ، میرا منہ قبلہ سے پھیرتے ہیں ؟نماز میں قبلہ کی طرف منہ ہونا ضروری ہے ۔‘‘یہ سن کر اعلیٰ حضرت نے ان کی سمجھ کے مطابق کلام فرمایا اوردریافت کیا ’’تو سجدہ میں کیا کیجئے گا، پیشانی زمین پر لگانے کے بدلے تھوڑی زمین پرلگائیے ۔‘‘یہ چبھتاہوافقرہ سن کر بالکل خاموش ہوگئے اوران کی سمجھ میں یہ بات آگئی کہ ’’قبلہ رو ہونے کے یہ معنی ہیں کہ قیام کے وقت نہ کہ ازاول تا آخر ‘قبلہ کی طرف منہ کرکے دیوارِ مسجد کو دیکھا کرے ۔(حیات اعلی حضرت قدس سرہ، ۳۰۳)   

(69) صدر الشریعہ پر انفرادی کوشش

        بہار شریعت جیسی عظیم کتاب کے مؤلف صدر الشریعہ مولانا امجد علی اعظمی علیہ الرحمۃ نے علومِ دینیہ کی تکمیل کے بعد کچھ عرصہ تک تدریس فرمائی لیکن پھر تدریس چھوڑ کر مطب شروع کر دیا (کیونکہ آپ حکیم بھی تھے)۔ جب آپ کے استاذ محترم مولانا وصی احمد محدث سورتی علیہ الرحمۃ کو اس بات کا پتہ چلا تو بے حد غمگین ہوئے ۔ جب صدر الشریعہ بریلی کی طرف روانہ ہوئے تو آپ نے انہیں اعلیٰ حضرت ، مجددِ دین وملت الشاہ مولانا امام احمد رضاخان علیہ رحمۃ الرحمن کے نام ایک خط لکھ کر دیا جس میں اعلیٰ حضرت قدس سرہ سے صدر الشریعہ کو علمِ دین کی خدمت کی جانب متوجہ کرنے کی گزارش کی گئی تھی ۔

        جب آپ اعلیٰ حضرت قدس سرہ کی بارگاہ میں محدث سورتی کا خط لے کر پہنچے تو اعلیٰ حضرت قدس سرہ نے انہیں سمجھاتے ہوئے فرمایا ، ’’طبابت اچھا کام ہے کہ العلم علمان علم الادیان وعلم الابدان (یعنی علم دو ہیں ، ایک دین کا علم اور ایک اجسام کا علم ) لیکن اس میں صبح سویرے قارورہ (یعنی پیشاب کا نمونہ)دیکھنا پڑتا ہے ۔‘‘اس ارشاد میں جو روحانی تاثیر تھی ، صدر الشریعہ علیہ الرحمۃ کے دل پر اس کا گہرا اثر ہوا ، لہذا! آپ مطب چھوڑ کر بریلی شریف میں دینی کاموں میں مصروف ہوگئے ۔(سیرت ِ صدر الشریعہ، ص ۳۸)

(70) سونے کی انگوٹھی اور چھلے پہننے والے پر انفرادی کوشش

         حضرت مہدی حسن میاں علیہ الرحمۃ سجادہ نشیں سرکار کلاں مارہرہ شریف فرماتے ہیں کہ’’ میں جب بریلی آتا تو اعلی حضرت علیہ الرحمۃ خود کھانا لاتے اور ہاتھ دھلاتے ۔ حسب ِدستور ایک بار ہاتھ دھلاتے وقت فرمایا ، ’’حضرت شہزادہ صاحب انگوٹھی اور چھلے مجھے دے دیجئے ۔‘‘میں نے اتار کر دے دئیے اور وہاں سے بمبئی چلاگیا۔بمبئی سے مارہرہ واپس آیا تو میری لڑکی فاطمہ نے کہا ’’ابا بریلی کے مولانا صاحب (یعنی اعلیٰ حضرت قدس سرہ)کے یہاں سے پارسل آیا تھا ، جس میں چھلے اور انگوٹھی تھے اور والا نامہ(تحریری پیغام ) میں مذکور تھا ’’شہزادی صاحبہ یہ دونوں طلائی اشیاء آپ کی ہیں (کیونکہ مردوں کو ان کا پہننا جائز نہیں )۔‘‘(حیات اعلی حضرت قدس سرہ، ص۱۰۵)

(71) مولوی صاحب پر انفرادی کوشش

        امام اہل سنت الشاہ احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن بچپن میں ایک مولوی صاحب کے پاس پڑھا کرتے تھے ۔ایک روزمولوی موصوف حسب ِمعمول پڑھارہے تھے کہ ایک بچے نے انہیں سلام کیا ، مولوی صاحب نے جواب دیا ’’جیتے رہو۔‘‘اس پرآپ نے عرض کی ’’یہ تو سلام کاجواب نہ ہوا، وعلیکم السلام کہنا چاہئے تھا ۔‘‘مولوی صاحب سن کر بہت خوش ہوئے اور بہت دعائیں دیں ۔‘‘

(حیات اعلیٰ حضرت ، ج۱، ص۶۳)

(72) طالب علم پر انفرادی کوشش

        مولوی نور محمد صاحب جو بسلسلہ تعلیم، مجدد ِ دین وملت الشاہ مولانا احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن کے آستانہ میں مقیم تھے ، آپ نے ایک مرتبہ اپنے طالب علم ساتھی جو کہ سیِّد صاحب تھے اس طرح پکارا، ’’قناعت علی ، قناعت علی ۔‘‘ یہ آواز جب اعلیٰ حضرت قدس سرہ کی سماعت ِ مبارکہ سے ٹکرائی تو آپ نے اِنہیں فوراً اپنے پاس بلایا اورسمجھایا ، ’’کیا سیِّد صاحب کو اس طرح پکارتے ہیں ؟ کبھی مجھے بھی (باوجود استاذ ہونے کے)اس طرح پکارتے ہوئے سنا؟‘‘ مولوی نورمحمد صاحب یہ سن کر بہت شرمندہ ہوئے اور ندامت سے نگاہیں جھکا لیں ۔ اعلیٰ حضرت قدس سرہ نے فرمایا ، ’’جائیے ! آئندہ خیال رکھئے گا ۔‘‘(حیات ِ اعلیٰ حضرت، ج۱، ص۱۸۳ )

(73) ایک آریہ پر انفرادی کوشش

        مولاناسید ایوب علی علیہ الرحمۃ کا بیان ہے کہ قبلِ ظہر حضرت استاذالعلماء مولانا مولوی حکیم نعیم الدین مرادآبادی وحضرت مولانا مولوی رحم الہی ( مدرس مدرسہ منظر الاسلام بریلی)رحمھما اللہ  اعلیٰ حضرت مجدد دین وملت الشاہ مولانا احمد رضاخان علیہ رحمۃ الرحمن کی خدمتِ اقدس میں حاضرتھے کہ ایک آریہ (یعنی ہندو)آیا اورکہنے لگا’’ میرے چند سوالات ہیں ، اگران کے جوابات دے دئیے گئے تو میں اور میری بیوی بچے سب مسلمان ہوجائیں گے ۔‘‘چونکہ اذان ہوچکی تھی، نہ معلوم اس کے جوابات میں کتنا وقت صرف ہوگا ؟یہ سوچ کر اعلیٰ حضرت قدس سرہ نے فرمایا’’ ہماری نماز کاوقت ہے، ٹھہر جاؤ ، اس کے بعد جوسوال کروگے اِنْ شَآءَاللہ  جواب دیا جائے گا ۔‘‘وہ کہنے لگا’’ ایک سوال تویہی ہے کہ آپ کے یہاں عبادت کے پانچ وقت کیوں مقرر ہیں ؟ پرمیشر کی عبادت جتنی بھی کی جائے اچھا ہے۔‘‘مولانا نعیم الدین علیہ الرحمۃ نے فرمایا’’ یہ اعتراض تو خود تمہارے اوپر بھی واردہوتاہے ۔‘‘مولانا رحم الہی علیہ الرحمۃ نے فرمایا ’’میرے پاس (تمہارے مذہب کی کتاب)ستیارتھ پرکاش مکان پر موجود ہے ، ابھی منگوا کر دکھا سکتاہوں ۔‘‘الغرض طے پایا کہ جب تک کتاب آئے ‘نماز پڑھ لی جائے، وہ آریہ اتنی دیر پھاٹک پر بیٹھا رہا۔ نماز کے بعد اس نے مندرجہ ذیل سوالات پیش کئے ،

 (1)قرآن تھوڑا تھوڑا کیوں نازل ہوا ؟ایک دم کیوں نہ آیا جبکہ وہ خداکا کلام ہے ، خدا تو قادر تھا کہ ایک ساتھ اتاردیتا ۔   

 (2)آپ کے نبی کو معراج کی رات خدا نے بلایا توپھر انہیں دنیا میں واپس کیوں کیا؟ وہ تواسے محبوب تھے ؟

 (3)عبادت پانچ وقت کے متعلق ستیارتھ پرکاش کی عبارت دیکھنا مشروط ہوئی ۔

        مذکورہ بالا سوالات سن کر اعلیٰ حضرت الشاہ مولانا احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن نے فرمایا ’’میں تمھارے سوالوں کے جواب ابھی دیتا ہوں ، مگر تم نے جووعدہ کیا ہے اس پر قائم رہو ۔‘‘ اس نے کہا ’’ہاں ! میں پھر کہتاہوں کہ اگرمیرے سوالات کے جوابات آپ نے معقول دے دئیے تو میں مسلمان ہو جاؤں گا اوربیوی بچوں کو بھی لا کر مسلمان کرادوں گا ۔‘‘جب خوب قول وقرار

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن