30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
’’عالی جاہ!یہ کیوں کرممکن ہوسکتا ہے کہ میں ایک گُناہ ہوتے ہوئے دیکھوں اور آپکے اِعزازکے خوف سے خاموش رہوں جب کہ اﷲ عَزَّ وَجَلَّ کافرمان عالیشان ہے ،
وَ الْمُؤْمِنُوْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتُ بَعْضُهُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍۘ-یَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ یَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ
ترجمۂ کنزالایمان : ’’اور مسلمان مرداورمسلمان عورتیں ایک دوسرے کے رفیق ہیں بھلا ئی کاحکم دیں اوربرائی سے منع کریں ۔‘‘(پارہ ۱۰، التوبۃ : ۷۱)
جبکہ سرورِ کونین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا ’’خالق کی نافرمانی میں کسی مخلوق کی اطاعت جائزنہیں ہے‘‘۔
احمد بن طولون اس عالمِ دین کی نیکی کی دعوت سے بے حد متأثر ہوا اور ایک دَم اسکا غصّہ ٹھنڈاہوگیا۔اوراس نے آپ کو خصوصی طور پر اجازت دی کہ آپ شہرمیں جوبات بھی خِلاف شرع دیکھیں اُسے روک دیں ۔(مستطرف، ج۱ص۱۸۱)
(58) ایک عیاش نوجوان پر انفرادی کوشش
بنو امیہ کا بانکا ، چھریرا ، حسین وجمیل نوجوان موسیٰ بن محمد بن سلیمان ہاشمی اپنے عیش و عشرت، تن پروری، خوش لباسی اور خوبصورت کنیزوں اور غلاموں کے جھرمٹ میں زندگی گزارنے کا عادی تھا ۔انواع و اقسام کے کھانوں سے اس کا دستر خوان ہمہ وقت بھرا رہتا۔زرق برق ملبوسات میں لپٹا، مجلسِ طرب سجائے، ساری ساری رات غم وآلامِ دنیا سے بے خبر پڑا رہتا۔ایک سال میں تین لاکھ تین ہزار دینار کی آمدنی تھی ، جسے مکمل طور پر اپنی عیاشیوں میں خرچ کر دیتا۔شارع عام پر نہایت بلند و بالاخوبصورت محل بنوا رکھا تھا ۔اپنے محل میں بیٹھا کبھی تو وسیع گزر گاہوں کی رونقوں سے محظوظ ہوتااور کبھی پچھلی جانب واقع شاندار باغ میں مجلسِ طرب سجاتا۔محل میں ہاتھی دانت کا بنا ہوا ایک قبہ تھا ، جس میں چاندی کی کیلیں تھیں ۔اس کے بیچ میں ایک قیمتی تخت خاص شہزادےکے بیٹھنے کے لئے بنایا گیا تھا ۔موسی اس پر شان و شوکت کے ساتھ بیٹھتا ، ارد گرد دوست احباب کی نشستیں ہوتیں ۔پشت پر خدام و غلام با ادب کھڑے ہوتے ۔ قبے کے باہر گانے والوں کے بیٹھنے کی جگہ تھی ، جہاں سے وہ نغمہ و سرور کے ذریعے اس کا اور اس کے دوستوں کا دل بہلاتے۔کبھی خوبصورت گانے والیاں بھی رونقِ مجلس بڑھاتیں ۔رات ڈھلے عیش و عشرت سے تھک کر کنیزوں میں سے جس کے ہمراہ چاہتا شب باشی کرتا ۔ دن کو شطرنج کی بساطیں جمتیں ۔کبھی بھولے سے بھی اس کی مجلس میں موت یا غم و آلام کا تذکرہ نہ چھڑتا۔اسی عالمِ سر مستی و شباب میں ستائیس سال گزر گئے۔
ایک رات وہ اسی طرح عیش و عشرت میں محو تھا کہ یکایک ایک درد ناک چیخ کی آواز ابھری ، جو گانے والوں کی آواز کے مشابہ تھی ۔اس آواز کا کانوں سے ٹکرانا تھا کہ محفل پر سناٹا چھا گیا ۔موسیٰ نے قبے سے سر نکالا اور آواز کا تعاقب کرنے لگا۔شراب و شباب کا یہ رسیا ، اس کرب ناک آواز کی تلخی کو برداشت نہ کر سکا ۔غلاموں کو حکم دیا کہ اس شخص کو تلاش کرو اور میرے پاس لاؤ۔غلام و خدام محل سے باہر نکلے ، انھیں قریبی مسجد میں ایک کمزور، لاغراورنحیف و نزار نوجوان ملا، جس کا بدن ہڈیوں کا پنجر بن چکا تھا، رنگ زرد، لب خشک ، بال پریشاں ، دو پھٹی چادروں میں لپٹا ربِ کائنات کے حضور مناجات کر رہا تھا۔خادموں نے اسے ہاتھ پاؤں سے پکڑا اور موسیٰ کے سامنے حاضر کر دیا ۔موسیٰ نے اس سے تکلیف کا سبب پوچھا۔نوجوان نے کہا دراصل میں قرآنِ پاک کی تلاوت کر رہا تھا، دورانِ تلاوت ایک مقام ایسا آیا کہ اس نے مجھے بے حال کر دیا۔موسیٰ نے کہا ’’وہ کون سی آیات تھیں میں بھی تو سنوں ۔‘‘نوجوان نے تعوذ و تسمیہ کے بعد یہ آیات تلاوت کیں ،
اِنَّ الْاَبْرَارَ لَفِیْ نَعِیْمٍۙ(۲۲) عَلَى الْاَرَآىٕكِ یَنْظُرُوْنَۙ(۲۳) تَعْرِفُ فِیْ وُجُوْهِهِمْ نَضْرَةَ النَّعِیْمِۚ(۲۴) یُسْقَوْنَ مِنْ رَّحِیْقٍ مَّخْتُوْمٍۙ(۲۵) خِتٰمُهٗ مِسْكٌؕ-وَ فِیْ ذٰلِكَ فَلْیَتَنَافَسِ الْمُتَنَافِسُوْنَؕ(۲۶) وَ مِزَاجُهٗ مِنْ تَسْنِیْمٍۙ(۲۷) عَیْنًا یَّشْرَبُ بِهَا الْمُقَرَّبُوْنَؕ(۲۸)
ترجمہ : بے شک نیکوکار ضرور چین میں ہیں تختوں پر دیکھتے ہیں تو ان کے چہروں میں چین کی تازگی پہچانے ، نتھری شراب پلائے جائیں گے جو مہر کی ہوئی رکھی ہے اس کی مہر مشک پر ہے اور اسی پر چاہئے کہ للچائیں للچانے والے اور اس کی ملونی تسنیم سے ہے وہ چشمہ جس سے مقربانِ بارگاہ پیتے ہیں ۔(پ۳۰، سورہ مطففین : ۲۳تا۲۸)
تلاوت کرنے کے بعد نوجوان نے نیکی کی دعوت پیش کرتے ہوئے کہا ’’اے فریب خوردہ!بھلا وہ نعمتیں کہاں اور تیری یہ مجلس کہاں ؟جنتی تخت کچھ اور ہی ہو گا ، اس پر نرم و نازک بستر ہوں گے ، جن کے استر استبرق کے ہوں گے ۔سبز قالینوں اور بستروں پر ٹیک لگائے لوگ آرام کرتے ہوں گے ۔وہاں دو نہریں ساتھ ساتھ بہتی ہیں ، وہاں ہر پھل کی دو قسمیں ہیں ۔وہاں کے میوے کبھی ختم نہ ہوں گے اور نہ ان سے جنتیوں کو کوئی روکنے والا ہو گا۔اہلِ جنت ، جنت کے پسندیدہ عیش میں ہمیشہ رہیں گے ، وہاں انھیں کوئی ناگوار بات سنائی نہ دے گی ۔وہاں اونچے اونچے تختوں کے ارد گرد چمک دار آب خورے قطار سے رکھے ہوں گے ۔یہ تمام نعمتیں اللہ تَعَالٰی کے فرمانبردار بندوں کے لئے ہوں گی ۔ اور کافروں کے لئے کیا ہو گا ؟ان کے لئے آگ ہی آگ ہو گی ، آگ بھی ایسی کہ کبھی سرد نہ ہونے والی ، کافر اس میں ہمیشہ رہیں گے ان کا عذاب کبھی موقوف نہ ہو گا ، وہ اس میں اوندھے منہ پڑے ہوں گے اور جب انھیں سر کے بل گھسیٹا جائے گا تو کہا جائے گا ’’لو یہ عذاب چکھو۔‘‘
ان پُر اثر کلمات کے باعث موسیٰ کے دل کی دنیا میں انقلاب برپا ہو گیا، بے اختیاری میں تخت سے اترا اور اس نوجوان سے لپٹ کر رو پڑا، پھر تمام خدام و غلام وکنیزوں کو رخصت کر کے نوجوان کو ساتھ لئے گھر کے اندرونی حصے میں چلا گیا اور ایک بورئیے پر بیٹھ کر اپنی جوانی کے ضائع ہونے پر خود کو ملامت کرنے لگا ۔نوجوان اسے دلاسا دیتا اور اللہ تَعَالٰی کی ستاری و غفاری یاد دلاتا رہا۔اسی عالم میں پوری رات گزر گئی۔جب صبح ہوئی تو موسیٰ نے سچی توبہ کی ، تازہ غسل کیا اور نوجوان کے ساتھ مسجد میں داخل ہوا ، عبادتِ الٰہی کو اپنا مقصد بنا لیا۔تمام مال و دولت ، سونا چاندی ، کپڑے وغیرہ صدقہ کر دئے ۔غلاموں کو فروخت و آزاد کر دیا۔لوگوں کے حقوق شمار کر کے ادا کر ڈالے۔موٹا لباس زیبِ تن کر لیا، شب بیداری کو شعار بنایا، دن کو روزہ رکھتا اور رات بھر جاگ کر اللہ تَعَالٰی کے حضور روتا ، گڑگڑاتا۔مجاہدہ و ریاضت میں اس قدر مشغول ہوا کہ دیکھنے والوں کو اس پر رحم آنے لگا ۔بڑے بڑے صلحاء و زہاد اس کی زیارت کو آتے اور اتنی سخت مشقت سے اسے روکتے۔جب وہ نصیحتیں سنتا تو اپنے گزرے غفلت کے ایام یاد کر کے خوب روتا ۔بالآخر وہ دن بھی آیا کہ ننگے پیر ، ایک معمولی سا لباس پہنے ، حجِ بیت اللہ کے اردے سے نکلا۔اس پاک سر زمین پر پہنچا تو دل کی کیفیت میں مزید انقلاب پیدا ہو گیا، اکثر حجر اسود کے پاس یہ مناجات کرتا ہوا نظر آتا،
’’اے مالکِ بے نیاز!سینکڑوں خلوتیں غفلت میں گزر گئیں اور عمر کے کتنے ہی سال گناہوں میں ضائع ہوگئے ، نیکیاں تو جاتی رہیں بس حسرت و ندامت پاس رہ گئی ہے ۔جس روز تیری بارگاہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع