30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مجلس المدینۃ العلمیۃ کے شعبۂ اصلاحی کتب نے حاصل کی ہے ۔ اللہ تَعَالٰی سے دعا ہے کہ ہمیں ’’اپنی اور ساری دنیا کے لوگوں کی اصلاح کی کوشش‘‘ کرنے کے لئے مدنی انعامات پر عمل اور مدنی قافلوں کا مسافر بنتے رہنے کی توفیق عطا فرمائے اور دعوت ِ اسلامی کی تمام مجالس بشمول مجلس المد ینۃ العلمیۃ کو دن گیارھویں رات بارھویں ترقی عطا فرمائے ۔
اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم
شعبہ اصلاحی کتب (المدینۃ العلمیۃ )
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط
اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط بِسْمِ اللہ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط
پیارے اسلامی بھائیو!
رب تعالیٰ کا کروڑہا احسان کہ اس نے ہمیں دولت ِ اسلام سے نوازکر مسلمان بنایا۔ اب ہونا تو یہ چاہئے تھاکہ ہمارا ہر کام رب عَزَّ وَجَلَّ اور اس کے پیارے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی خوشنودی کے لئے ہوتا مگر افسوس صد افسوس کہ آج مسلمانوں کی اکثریت بے عملی کا شکار ہے اوریوں محسوس ہوتا ہے کہ(معاذ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ) جہنم کے گڑھے میں چھلانگ لگانے کے لئے پوری رفتارسے بھاگی چلی جارہی ہے ۔ بلکہ اس رفتار کو دوام دینے کے لئے جہنم میں لے جانے والے اعمال دانستہ یا نادانستہ طور پر ’’استقامت ‘‘ سے اپنائے ہوئے ہے مثلاًگالی دینا، تہمت لگانا ، غیبت کرنا، چغلی کھانا ، کسی کے عیب جاننے کی جستجو میں رہنا ، کسی کے عیب اچھالنا ، جھوٹ بولنا ، جھوٹے وعدے کرنا، کسی کا مال ناحق کھانا، خون بہانا، کسی کو بلااجازت ِشرعی تکلیف دینا ، قرض دبالینا، کسی کی چیز عاریتاً لے کر واپس نہ کرنا، کسی کانام بگاڑ نا، کسی کی چیز باوجود اسے ناگوار گزرنے کے بلااجازت استعمال کرنا، شراب پینا ، جوا کھیلنا ، چوری کرنا ، زناکرنا، حیاء سوز مناظر پر مشتمل فلمیں دیکھنا، گانے سننا ، سود ورشوت کا لین دین کرنا، ماں باپ کی نافرمانی کرنااور انہیں ستانا، امانت میں خیانت کرنا، بدنگاہی کرنا، عورتوں کا مردوں کی اور مردوں کا عورتوں کی مشابہت اختیار کرنا ، غرور، تکبر، حسد ، ریاء کاری ، اپنے دل میں کسی مسلمان کا بغض وکینہ رکھنا، شماتت(یعنی کسی مسلمان کو نقصان پہنچنے پر خوش ہونا)، بدگمانی کرنا، اپنی ذات کے لئے غصہ کرنا، گناہوں کی حرص، نامحرم عورتوں کی محبت، حب ِ جاہ ، بخل ، خود پسندی…وغیرہ
سب سے زیادہ تشویش ناک بات تو یہ ہے کہ علم دین کی دولت سے محرومی کی بناء پر اب ان ’’کارناموں ‘‘کوسرانجام دیتے وقت یہ بھی خیال نہیں کیا جاتا کہ یہ گناہ اور جہنم میں لے جانے والے کام ہیں ۔اس کی بجائے ’’اجی !زمانے کا دستور ہے ، خوشی کا موقع ہے ، مجبوری ہے ، عادت بن گئی ہے ، بچنا مشکل ہے ، جوانی کا تقاضا ہے …‘‘ جیسے بیوقوفانہ جملوں کو دلیل بنا کر ان گناہوں کا ارتکاب اس قدر بے باکی اور دلیری سے کیا جاتا ہے کہ الامان والحفیظ…
جبکہ اس کے برعکس ایسے مسلمانوں کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے جو زیورِ علم سے آراستہ ہوں اور اپنی زندگی رب تعالیٰ کی فرمانبرداری اور اس کے حبیب ، بیمار دلوں کے طبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی اطاعت میں بسر کریں ، میدانِ محشر میں سرخروئی کے لئے خوب نیکیاں کریں ، سنتوں پر عمل کریں اور ارتکاب ِ گناہ سے باز رہیں ۔
اب اگرکسی ’’عقل مند‘‘ کے مشورے کے مطابق اس صورت ِ حال کو جوں کا توں رہنے دیا جائے تو نتیجۃً ہمیں اجتماعی اور انفرادی طور پر درج ِ ذیل نقصانات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ، …
اجتماعی طور پرپیش آنے والے نقصانات :
کثیر گناہ ایسے ہیں کہ جن کی وجہ سے براہ ِ راست دوسروں کونقصان اٹھانا پڑتا ہے ، مثلاًاگرکوئی شخص چوری کا گناہ کرے گا تو اس شخص کا نقصان ہوگا جس کی چیز چرائی جائے گی بالکل یہی معاملہ ڈاکہ ڈالنے ، امانت میں خیانت ، گالی دینے، تہمت لگانے ، غیبت کرنے، چغلی کھانے ، کسی کے عیب اچھالنے، کسی کا مال ناحق کھانے، خون بہانے، کسی کو بلااجازت ِشرعی تکلیف دینے، قرض دبالینے، کسی کی چیز اُسے ناگوار گزرنے کے باوجودبلااجازت استعمال کرنے، ماں باپ کو ستانے اوربدنگاہی کرنے کا ہے …
اب اگر ہر ایک کو ان گناہوں کے ارتکاب کی کھلی چھوٹ دے دی جائے تو نہ توکسی کامال سلامت رہے گا اور نہ ہی عزت… بلکہ یوں کہنا چاہئیے کہ ہمارا معاشرہ ’’درندوں کے جنگل ‘‘کا منظر پیش کرنے لگے گا ۔
انفرادی طور پر ہونے والے نقصانات :
ان گناہوں میں سے کچھ ایسے ہیں ، جن کے ارتکاب سے انسان کی عزت کو نقصان پہنچتا ہے مثلاً جو شخص چغل خور یا زانی یا شرابی کے طور پر مشہور ہوجائے تو سب پر عیاں ہے کہ معاشرے میں اس کا کیا مقام ہوتا ہے ؟ اور بعض گناہ ایسے ہیں جو انسان کے مال کو نقصان پہنچاتے ہیں مثلاً جوا کھیلنے کی لت پڑ جانا ، سود پر قرض لینا، کام کاج کرنے کی بجائے فلمیں ڈرامے دیکھنے میں مشغول رہنا … افعالِ مذکورہ میں ملوث افراد مالی طور پر جس طرح’’ دن دگنی رات چوگنی‘‘ اُلٹی ترقی کرتے ہیں یہ کسی صاحب ِعقل سے مخفی نہیں ۔ ان تمام دنیاوی نقصانات کے ساتھ ساتھ ایسے شخص کو اُخروی طور پر بھی خسارے کا سامنا ہے جوجہنم کے بھیانک اور ہولناک عذابات کی صورت میں سامنے آسکتا ہے ۔والعیاذ باللہ عَزَّ وَجَلَّ
٭…٭…٭…٭…٭…٭
ان نقصانات سے بچنے کا طریقہ
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!
ان نقصانات سے بچنے کے لئے ضروری ہے کہ ہم اپنی اور ساری دنیا کے لوگوں کی اصلاح کی کوشش میں لگ جائیں بلکہ اس کے لئے باقاعدہ طور پر کوئی ایسی تنظیم ہونی چاہئے جو ساری دنیا میں نیکی کی دعوت عام کرنے کے لئے کوشاں رہے ۔ قرآن کریم میں بھی اسی بات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے، چنانچہ سورۂ اٰل عمران میں ارشاد ہوتا ہے ،
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع