30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جب سیدتنا ام حکیم رضی اللہ عنہا سرور عالم ، نور ِ مجسم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی بارگاہ میں اسلام قبول کرنے کے لئے حاضر ہوئیں تو عرض کی ، ’’یارسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ! عکرمہ آپ سے بھاگ کر یمن جارہا ہے کیونکہ وہ ڈرتا ہے کہ کہیں آپ اسے قتل نہ کرڈالیں ، آپ اسے امان دے دیجئے ۔‘‘ یہ سن کر رسول اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے امان عطا فرمادی ۔ پھر ام حکیم رضی اللہ عنہا اپنے شوہر کی تلاش میں نکلیں اورانہیں تہامہ کے ساحل پر جالیا اور انہیں سمجھانے لگیں ، ’’اے چچا کے بیٹے ! میں تمہارے پاس لوگوں میں سے سب سے افضل اور نیک ہستی (یعنی رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ )کی طرف سے آئی ہوں ، لہذا! تم خود کو ہلاکت میں نہ ڈالو ۔‘‘ پھر انہیں رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی امان کے بارے میں بتایا تو عکرمہ (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ) نے پوچھا، ’’کیا تم نے واقعی ایسا کیا ہے ؟‘‘ ام حکیم رضی اللہ عنہا نے جواب دیا ، ’’ہاں ! میں نے ان سے عرض کی تو انہوں نے امان دے دی ۔‘‘ یہ سن کر عکرمہ (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ) ام حکیم رضی اللہ عنہا کے ساتھ واپس لوٹ آئے ۔
جب عکرمہ (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ) سرورِ کونین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی بارگاہِ بے کس پناہ میں حاضر ہوئے تو آپ کو دیکھ کر رسول اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ بہت خوش ہوئے ۔ آپ (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ) نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے سامنے کھڑے ہوگئے اور ساتھ ہی ام حکیم رضی اللہ عنہا بھی نقاب باندھے موجود تھیں ۔ عکرمہ (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ) بولے ، ’’میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے سواء کوئی معبود نہیں اور محمد صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے بندے اور رسول ہیں ۔‘‘ اور سب حاضرین کو اپنے مسلمان ہونے پر گواہ بنا لیا ۔ اس کے بعد سرکارِ مدینۃ المنورہ سلطان مکۃ المکرمہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے سابقہ کوتاہیوں کی معافی طلب کی ۔ (ملخصاً ۔کتاب التوابین ، ص۱۲۳)
٭…٭…٭…٭…٭…٭
اولیائے کرام رحمھم اللہ کی انفرادی کوشش کے واقعات
(39) ہارون رشیدپر انفرادی کوشش
ایک مرتبہ خلیفہ ہارون رشید نے اپنے وزیر فضل یرمکی کے سامنے، کسی ولی کامل سے ملاقات اور ان سے نصیحت حاصل کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔فضل جانتا تھا کہ حضرت فضیل بن عیاض رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ ولایت کے اعلیٰ مراتب پر فائز ہیں ، لھذا ہارون کو آپ کی بارگاہ میں لے آیا۔
جب یہ دونوں دروازے کے باہر پہنچے ، تو اندر سے حضرت کے قرآن پڑھنے کی آواز آرہی تھی۔آپ یہ آیت ِ پاک تلاوت فرما رہے تھے،
اَمْ حَسِبَ الَّذِیْنَ اجْتَرَحُوا السَّیِّاٰتِ اَنْ نَّجْعَلَهُمْ كَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا
ترجمۂ کنزالایمان : کیا جنہوں نے برائیوں کا ارتکاب کیا یہ سمجھتے ہیں کہ ہم انہیں ان جیسا کر دیں گے جو ایمان لائے ۔‘‘(پ۲۵، سورۃ الجاثیۃ : ۲۱)
یہ آیت ِ کریمہ سن کر ہارون نے کہا، ’’اس سے بڑھ کر اور کون سی نصیحت ہو سکتی ہے۔‘‘پھر فضل نے دروازے پر دستک دی۔اندر سے دریافت کیا گیا ، کون؟۔۔۔فضل نے کہا، ’’امیر المؤمنین تشریف لائے ہیں ، آپ سے ملاقات کیمُتَمَنِّی ہیں ۔‘‘حضرت فضیل رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے جواب دیا، ’’ان کا میرے پاس کیا کام اور میرا ان سے کیا واسطہ؟آپ حضرات میری مشغولیت میں خلل نہ ڈالیں ۔‘‘فضل بولا، ’’اگرآپ اجازت نہ دیں گے، تو ہم بلا اجازت ہی داخل ہوجائیں گے۔‘‘اندر سے جواب ملا، ’’میں تو اجازت نہیں دیتا، ویسے بلااجازت اندرداخل ہونے میں تم دونوں مختار ہو۔‘‘
جب یہ دونوں اندر داخل ہوئے، تو حضرت نے چراغ بجھا دیا تاکہ ان کی صورت نظر نہ آئے اور نماز میں مشغول ہوگئے۔فارغ ہوئے توہارون نے نصیحت کی درخواست کی۔آپ نے ارشاد فرمایا، ’’تمہارے والد ، سید الانبیاء صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے چچا تھے۔جب انہوں نے کسی ملک کا حکمراں بننے کی خواہش کا اظہار کیا، تورحمت ِ عالم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا تھا، ’’میں تمہیں ، تمہارے نفس کا حکمران بناتا ہوں ، کیونکہ دنیاوی حکومت توبروز ِقیامت ، وجہ ِندامت بن جائے گی۔‘‘یہ سن کر ہارون نے عرض کہ’’کچھ اور ارشاد فرمائیے۔‘‘فرمایا، ’’جب عمر بن عبدالعزیز رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کو حکومت حاصل ہوئی تو انہوں نے کچھ ذی عقل لوگوں کو جمع کر کے ارشاد فرمایا کہ’’مجھ پر ایک ایسے بار ِگراں کا بوجھ ڈال دیا گیا ہے، جس سے چھٹکارے کی کوئی سبیل نظر نہیں آتی۔‘‘
یہ سن کر ان میں سے ایک نے مشورہ دیا تھا کہ’’ آپ ہرسن رسیدہ شخص کو اپنا والد، ہرجوان کو بمنزلہ بھائی یا بیٹااور ہر عورت کو ماں یا بیٹی یا بہن سمجھیں ، پھر انہیں رشتوں کوملحوظ رکھتے ہوئے ان سے حسن سلوک سے پیش آئیں ۔‘‘ہارون رشید نے عرض کی ، ’’کچھ اور بھی ارشاد فرمائیں ۔‘‘آپ نے فرمایا، ’’مجھے خوف ہے کہ کہیں تمہاری حسین وجمیل صورت نار ِجہنم کا ایندھن نہ بن جائے ، کیونکہ بہت سے حسین چہرے ، بروز قیامت آگ میں جاکر تبدیل ہوجائیں گے، وہاں بہت سے امیر ، اسیر ہوجائیں گے۔اللہ تَعَالٰی سے ڈرتے رہو۔محشر میں جواب دہی کے لئے ہر لمحہ چوکس رہو کیونکہ وہاں تم سے ایک ایک مسلمان کی بازپرس ہوگی۔اگر تمہاری سلطنت میں ایک غریب عورت بھی بھوکی سو گئی ، تو بروز قیامت تمہارا گریبان پکڑے گی۔‘‘
ہارون اس نصیحت کو سن کر رونے لگا ، حتی کہ روتے روتے اس پرغشی طاری ہوگئی۔یہ حالت دیکھ کر فضل نے عرض کی، ’’حضرت!بس کیجئے، آپ نے تو امیر المؤمنین کو نیم مردہ کر دیا ۔‘‘آپ نے ارشاد فرمایا، ’’اے ہامان!خاموش ہوجا، میں نے نہیں بلکہ تواور تیری جماعت نے ہارون کو زندہ درگور کر دیا ہے۔‘‘یہ سن کر ہارون پر مزید رقت طاری ہوگئی ۔
جب کچھ افاقہ ہوا تو عرض کی، ’’حضورآپ پر کسی کا قرض تو نہیں ہے؟‘‘۔۔۔فرمایا، ’’ہاں ، اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا قرض ہے اور اس کی ادائیگی صرف اطاعت سے ہی ہو سکتی ہے۔لیکن اس کی ادائیگی بھی میرے بس کی بات نہیں ، میدان محشر میں میرے پاس کسی سوال کا جواب نہ ہوگا۔‘‘ہارون نے عرض کی ، ’’میرا مقصد دنیاوی قرض سے تھا۔‘‘آپ نے فرمایا، ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے فضل وکرم سے میرے پاس اتنی نعمتیں ہیں کہ مجھے کسی سے قرض لینے کی ضرورت ہی پیش نہیں آتی۔‘‘
ہارون نے ایک ہزار دینا رکی ایک تھیلی آپ کی خدمت میں بطور ِنذرانہ پیش کرتے ہوئے عرض کی، ’’یہ رقم مجھے اپنی والدہ کے ورثے میں سے حاصل ہوئی ہے، اس لئے قطعاً حلال ہے،
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع