دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Infiradi Koshish Main 25 Hikayaat e Attaria | انفرادی کوشش مع 25 حکایاتِ عطاریَّہ

book_icon
انفرادی کوشش مع 25 حکایاتِ عطاریَّہ

آنسو جاری ہو گئے۔ حضرت جعفر  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ   نے فرمایا کہ ہمارے رسول صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   نے ہم کو یہی بتایا ہے کہ حضرت عیسیٰ  ں خدا کے بندے اور اس کے رسول ہیں جو کنواری مریم کے شکم مبارک سے بغیر باپ کے خدا کی قدرت کا نشان بن کر پیدا ہوئے۔ نجاشی بادشاہ نے بڑے غور سے حضرت جعفر  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ   کی تقریر کو سنا اور یہ کہا کہ بلاشبہ انجیل اور قرآن دونوں ایک ہی آفتابِ ہدایت کے دو نور ہیں اور یقینا حضرت عیسیٰ  ں خدا کے بندے اور اس کے رسول ہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ بے شک حضرت محمدصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   اللہ   عَزَّ وَجَلَّ  کے وہی رسول ہیں جن کی بشارت حضرت عیسیٰ  ں نے انجیل میں دی ہے اور اگر میں دستور سلطنت کے مطابق تخت شاہی پر رہنے کا پابند نہ ہوتا تو میں خود مکہ جا کر رسول اکرم صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   کی جوتیاں سیدھی کرتا اور ان کے قدم دھوتا۔‘‘

         بادشاہ کی یہ تقریر سن کر اس کے درباری جو کٹرقسم کے عیسائی تھے، ناراض و برہم ہو گئے مگر نجاشی بادشاہ نے جوشِ ایمانی میں سب کو ڈانٹ پھٹکار کر خاموش کر دیا اور کفار مکہ کے تحفوں کو واپس لوٹا کر عمرو بن العاص اور عمارہ بن ولید کو دربار سے نکلوا دیا اور مسلمانوں سے کہہ دیا کہ تم لوگ میری سلطنت میں جہاں چاہو امن و سکون کے ساتھ آرام و چین کی زندگی بسر کرو کوئی تمہارا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتا۔    (زُرقانی  علی المواھب ج۲ ص۳۳)

(36) اپنی مشرکہ ماں پر انفرادی کوشش

        حضرت سیدنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ   فرماتے ہیں کہ میری ماں پہلے مشرکہ تھی ۔ میں اسے باربار اسلام کی دعوت پیش کیا کرتا تھا ۔ ایک دن جب میں نے اسے دعوتِ اسلام دی تو اس نے مجھے مدنی آقا صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کے بارے میں بہت ناگوار باتیں کہیں ۔ میں روتا ہوا رحمت ِ عالم صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور عرض کی ، ’’یارسول اللہ  صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ! میں اپنی ماں کو اسلام کی دعوت دیتا رہتا تھا اور وہ انکار کردیتی تھی ، لیکن آج جب میں نے اسے اسلام کی دعوت دی تواس نے آپ کے بارے میں بہت ناگوار باتیں کیں ، آپ اللہ   عَزَّ وَجَلَّ  سے دعا کریں کہ وہ ابوہریرہ (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  ) کی ماں کو ہدایت دے ۔‘‘ یہ سن کرآپ صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فورا دعا کی ، ’’اے اللہ   عَزَّ وَجَلَّ  !ابوہریرہ (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  ) کی ماں کو ہدایت عطا فرما۔‘‘

        میں آپ کی دعا کے بعد وہاں سے بہت خوش ہو کر اپنے گھر آیا اور جیسے ہی دروازہ کھولنا چاہا تو میری ماں نے میرے قدموں کی آہٹ سن کر کہا ، ’’ابوہریرہ !وہیں ٹھہرے رہو ۔‘‘ پھر میں نے پانی گرنے کی آواز سنی ۔ کچھ دیر بعد میری ماں نے دروازہ کھولا اور کہا ، ’’اے ابوہریرہ ! میں گواہی دیتی ہوں کہ اللہ   عَزَّ وَجَلَّ  کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور محمد صلی اللہ  علیہ وسلم اللہ   عَزَّ وَجَلَّ  کے رسول ہیں ۔‘‘ میں نے پیارے آقا صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی بارگاہ میں حاضر ہوکر یہ خوشخبری سنائی تو آپ نے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  کا شکر ادا کیا اور دعائے خیر فرمائی۔‘‘

(صحیح مسلم، کتاب المناقب ، باب من فضائل ابی ھریرۃ الدوسی ، رقم الحدیث : ۲۴۹۱)

( 37) اپنے والد اور بیوی پر انفرادی کوشش

        حضرت سیدنا طفیل بن عمرو رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ   نے اسلام قبول کرنے کے بعد بارگاہِ رسالت صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  میں عرض کی’’ یارسول اللہ صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ! میں اپنی قوم کارئیس اور سردار ہوں ، میں واپس جاکر انہیں بھی دعوتِ اسلام دوں گا، آپ اللہ   تَعَالٰی سے دعا کریں کہ وہ میرے لئے ایسی علامت اور نشانی قائم فرمائے، جو میرے لئے اس دعوت ِاسلام اور رشد وہدایت میں معاون ثابت ہو ۔‘‘میری اس درخواست پرنبی اکرم صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے بارگاہِ خداوندی میں دعا کرتے ہوئے فرمایا، ’’اللھم اجعل لہ آیۃ ۔ اے اللہ  ! اس کے لئے کوئی نشانی قائم فرما دے ۔‘‘

        سیدنا طفیل بن عمرورَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ   فرماتے ہیں ، ’’ جب میں اپنی قوم کی طرف نکلا، توابھی اس گھاٹی تک پہنچنے ہی پایاتھا، جس سے میں اپنے شہرکودیکھ سکتاتھا، تواچانک میری آنکھوں کے درمیان چراغ کی مانندایک نور رونما ہوگیا ۔ میں نے بارگاہ ِ الہی میں عرض کی کہ ’’ اے اللہ  ! اس نور کو میرے چہرے کے علاوہ کسی اور جگہ ظاہر فرما، کیونکہ مجھے خوف ہے کہ میری قوم یہ گمان کرے گی کہ میرے چہرے پر آنے والی تبدیلی، ان کا دین چھوڑنے کی وجہ سے ہے ۔‘‘میرے دعاکرتے ہی وہ نور، میرے چہرے سے چھڑی کے سرے پر منتقل ہو گیا۔ جب میں گھاٹی سے نیچے اتر رہا تھا، تومیرے شہر والے ، میری اس چھڑی کے نور کو اس طرح دیکھ رہے تھے، جیسے فضا میں لٹکا ہو اکوئی چراغ۔ میں چلتے چلتے ان کے قریب جا پہنچا ۔ صبح ہوئی، تومیراعمررسیدہ باپ میرے پاس آیا۔ میں نے کہا ’’ مجھ سے دور ہو جائیے، اب میرا اور آپ کا کوئی رشتہ نہیں ہے ۔ ‘‘اس نے پوچھا ، ’’بیٹے!وہ کیوں ؟‘‘ میں نے جواب دیا’’میں مسلمان ہو چکا ہوں اور میں نے محمد رسول اللہ  صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کے دست ِ اقدس پر اسلام کی بیعت کرلی ہے ۔‘‘ انہوں نے کہا ، ’’ اے لخت ِ جگر ! مجھ سے جدانہ ہو، اب میرا دین وہی ہے، جو تیرا دین ہے ۔‘‘میں نے عرض کی ، ’’توپھر جائیے ، غسل کیجئے ، پاک کپڑے پہنئے اور میرے پاس تشریف لائیے، تاکہ میں آپ کو وہ تعلیم دوں ، جو بارگاہِ نبوت صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  سے مجھے حاصل ہوئی ہے ۔‘‘ میرے مطالبے پروہ فوراًگئے اور غسل کرکے اورپاک کپڑے پہن کر میرے پاس تشریف لے آئے ۔میں نے انہیں اسلام کی پاکیزہ تعلیمات کے بارے میں بتایا، چنانچہ انہوں نے بھی اسلام قبول کر لیا ۔

         پھر میری بیوی میرے پاس آئی، تو میں نے اس سے کہا، مجھ سے دور ہوجا!اب میرا تجھ سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔‘‘۔۔۔۔اس نے مجسم سوال بن کر پوچھا ، ’’میرے ماں باپ آپ پر فدا !آپ ایسا کیوں کہہ رہے ہیں ؟‘‘۔۔۔۔ میں نے اسے بھی بتایا کہ اسلام کی وجہ سے ہم دونوں کے درمیان جدائی ہو چکی ہے ۔‘‘ یہ سن کر وہ بھی مسلمان ہوگئی ۔

(الوفاء باحوال المصطفی صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  ، ص۲۵۲)   

(38) حضرت ِ سیدناعکرمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ   پر انفرادی کوشش

        فتح مکہ کے موقع پر جب نبی اکرم صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ مکۃ المکرمہ میں داخل ہوئے تو ابوجہل کے بیٹے عکرمہ (جو ابھی مسلمان نہیں ہوئے تھے)نے کہا کہ میں ایسی سرزمین میں نہیں رہوں گا جہاں مجھے اپنے باپ کے قاتلوں کو دیکھنا پڑے ۔ چنانچہ اپنے سسرال پہنچے اور بیوی ام حکیم کو رخت سفر باندھنے کی ہدایت کی ۔ اس نے روکنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا ، ’’اے قریش کے نوجوانوں کے سردار تم کہاں جارہے ہو ، تم ایسی جگہ جارہے ہو جہاں تمہاری کوئی پہچان نہیں ۔‘‘لیکن عکرمہ(رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ   )نے اس کی بات ماننے سے انکار کر دیا ۔

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن