دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Infiradi Koshish Main 25 Hikayaat e Attaria | انفرادی کوشش مع 25 حکایاتِ عطاریَّہ

book_icon
انفرادی کوشش مع 25 حکایاتِ عطاریَّہ

بارے میں بتانا شروع کیا اور قرآن پڑھ کر سنایا تو ان کے چہرے پر قبولِ اسلام پر آمادگی کے آثار نمودار ہوئے اور یہ کہنے لگے ، ’’ کیا ہی اچھا اور پسندیدہ دین ہے ، اس دین میں داخل ہونے کے لئے تم کیا کہلواتے اور کون سا کام کرواتے ہو ؟‘‘ ان دونوں نے جواب دیا ، ’’پہلے غسل کریں اور اپنے کپڑے پاک کریں پھر کلمۂ حق کی گواہی دیں پھر نماز پڑھیں ۔‘‘ [1]؎  حضرت اسید بن حضیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ   نے ان کے کہنے کے مطابق غسل کر کے کلمہ پڑھا اور دو رکعت نماز ادا کی پھر ان سے کہنے لگے کہ ’’ میرے پیچھے ایک آدمی اور ہے جس کا نام سعد بن معاذ ہے ، اگر اس نے تم دونوں کی بات مان لی تو میری ساری قوم تمہاری بات مان لے گی ، میں اسے ابھی تمہارے پاس بھیجتا ہوں ۔ ‘‘ یہ کہہ کر آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ   وہاں سے چل دئیے اور سعد بن معاذ کے پاس جا پہنچے اور ان سے کہنے لگے ، ’’میں نے ان سے گفتگو کی ہے ، خدا کی قسم ! میں نے کوئی خطرے والی بات نہیں دیکھی ۔‘‘ پھر آپ نے کسی نہ کسی حیلے سے سعد بن معاذ کو ان کے پاس جانے پر راضی کر لیا ۔ جب سعد بن معاذ ان دونوں کے پاس پہنچے تو ان کو برا بھلا کہنا شروع کر دیا اورحضرت اسعد بن زرارہ سے کہا، ’’ اے ابوامامہ (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  ) ! اگر ہمارے درمیان رشتہ داری نہ ہوتی تو تم کبھی ایسی ہمت نہ کر سکتے ، کیا تم ہمارے گھروں میں وہ چیز لانا چاہتے ہو جس کو ہم برا سمجھتے ہیں ؟‘‘ حضرت مصعب بن عمیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ   نے انہیں بھی سمجھاتے ہوئے فرمایا ، ’’ارے بیٹھو تو سہی ! اور ہماری بات تو سن لو ، اگر سمجھ میں آجائے تو مان لینا اور اگر ناپسند گزرے تو ہم یہاں سے چلے جائیں گے ۔‘‘اس پیش کش کو سن کر یہ بھی نرم پڑگئے اور اپنا نیزہ زمین پر گاڑ کر ان کے قریب بیٹھ گئے ۔ حضرت مصعب بن عمیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ   نے ان پر بھی اسلام کی خوبیاں آشکار کیں اور سورۂ زخرف کی ابتدائی آیات پڑھ کر سنائیں ۔ قرآن پاک سنتے ہی ان کے چہرے پر بھی قبولِ اسلام کے ارادے کا نور چمکنے لگا اور اِنہوں نے دریافت کیا ، ’’جب تم اسلام لاتے ہو تو کیا کام کرتے ہو اور کیا بات کہتے ہو؟‘‘ انہیں بھی بتایا گیا کہ اچھی طرح پاکی حاصل کر کے کلمۂ حق کی گواہی دو اور نماز پڑھو۔‘‘چنانچہ حضرت سعد بن معاذ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ   نے بھی غسل کر کے کلمہ پڑھا اور دورکعت نماز پڑھی ۔ پھر اپنی قوم کی طرف لوٹے اور ان سے کہنے لگے ، ’’تم میرے بارے میں کیا رائے رکھتے ہو؟‘‘ سب نے بیک زبان ہو کر کہا ، ’’آپ ہمارے سردار ہیں اور آپ کی رائے درست اور دُور رس ہوتی ہے ۔‘‘حضرت سعد بن معاذ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ   نے کہا ، ’’مجھ پرتمہارے مردوں اور عورتوں سے اس وقت تک بات کرنا حرام ہے جب تک تم اللہ   عَزَّ وَجَلَّ  اور اس کے رسول پر ایمان نہیں لے آتے ۔‘‘ راوی فرماتے ہیں ، ’’خدا  عَزَّ وَجَلَّ  کی قسم ! شام نہیں ہونے پائی تھی کہ اس قبیلے کے تمام مرد وعورت مسلمان ہوچکے تھے ۔‘‘ (البدایۃ والنہایۃ ، ج۳، ص۱۸۶)   

(34) اپنی ماں پر انفرادی کوشش

        حضرت طلیب بن عمیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ   اسلام قبول کرنے کے بعد اپنی ماں ارویٰ بنت عبدالمطلب کے پاس آئے اوراسلام کی دعوت پیش کرتے ہوئے کہنے لگے ، ’’ماں !میں نے اسلام قبول کر لیا ہے اور محمد صلی اللہ  علیہ وسلم کی اتباع کر لی ہے ، اب تمہیں اسلام قبول کرنے اور آپ صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی اتباع کرنے میں کیا چیز مانع ہے؟ جبکہ تمہارے بھائی سیدنا حمزہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ   بھی مسلمان ہوچکے ہیں ۔‘‘ ان کی ماں نے جواب دیا ، ’’میں اس انتظار میں ہوں کہ میری بہنیں کیا کرتی ہیں ؟ پھر میں بھی ویسا ہی کروں گی۔‘‘حضرت طلیب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ   نے پھر عرض کی ، ’’ماں ! میں تمہیں خدا  عَزَّ وَجَلَّ  کا واسطہ دیتا ہوں کہ تم ضرور حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت میں حاضر ہو ، انہیں سلام کرو ، ان کی تصدیق کرو اور اس بات کی گواہی دو کہ اللہ   عَزَّ وَجَلَّ  کے سوا کوئی معبود نہیں (یعنی مسلمان ہوجاؤ)۔‘‘بیٹے کی فریاد سن کر ماں کا دل پسیج گیا اور انہوں نے کہا ، ’’میں گواہی دیتی ہوں کہ اللہ   عَزَّ وَجَلَّ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  اس کے رسول ہیں ۔‘‘اور مسلمان ہوگئیں ۔( الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب ، کتاب النساء ، ج۴، ص۳۴۳)

(35) نجاشی کے دربار میں انفرادی کوشش

        حبشہ کی جانب ہجرت کرنے کے بعد تمام مہاجرین وہاں نہایت امن و سکون کے ساتھ رہنے لگے۔ مگر کفار ِمکہ کو کب گوارا ہو سکتا تھا کہ فرزندان توحید کہیں امن و چین کے ساتھ رہ سکیں ۔ ان ظالموں نے کچھ تحائف کے ساتھ ’’عمرو بن العاص‘‘ اور ’’عمارہ بن ولید‘‘ کو بادشاہ حبشہ کے دربار میں اپنا سفیر بنا کر بھیجا ان دونوں نے نجاشی کے دربار میں پہنچ کر تحفوں کا نذرانہ پیش کیا اور بادشاہ کو سجدہ کرکے یہ فریاد کرنے لگے کہ’’ اے بادشاہ! ہمارے کچھ مجرم مکہ سے بھاگ کر آپ کے ملک میں پناہ گزین ہو گئے ہیں ، آپ ہمارے ان مجرموں کو ہمارے حوالہ کر دیجئے ۔‘‘یہ سن کر نجاشی بادشاہ نے مسلمانوں کو دربار میں طلب کیا ۔ حضرت علی  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ   کے بھائی حضرت جعفر  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ   مسلمانوں کے نمائندہ بن کر گفتگو کے لئے آگے بڑھے اور دربار کے آداب کے مطابق بادشاہ کو سجدہ نہیں کیا بلکہ صرف سلام کرکے کھڑے ہو گئے درباریوں نے ٹوکا۔ تو حضرت  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ   نے فرمایا کہ ہمارے رسول صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   نے خدا کے سوا کسی کو سجدہ کرنے سے منع فرمایا ہے اس لئے میں بادشاہ کو سجدہ نہیں کر سکتا۔  

        اس کے بعد حضرت جعفر بن ابی طالب  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ   نے نجاشی سے مخاطب ہو کر فرمایا ،

        ’’اے بادشاہ! ہم لوگ ایک جاہل قوم تھے شرک و بت پرستی کرتے تھے لوٹ مار‘ چوری‘ ڈکیتی‘ ظلم و ستم اور طرح طرح کی بدکاریوں اور بداعمالیوں میں مبتلا تھے۔ اللہ  تَعَالٰی نے ہماری قوم میں ایک شخص کو اپنا رسول  بنا کر بھیجا۔ جس کے حسب و نسب اور صدق و دیانت کو ہم پہلے سے جانتے تھے۔ اس رسول  نے ہم کو شرک و بت پرستی سے روک دیا اور صرف ایک خدائے واحد کی عبادت کا حکم دیا اور ہر قسم کے ظلم و ستم اور تمام برائیوں اور بدکاریوں سے ہم کو منع کیا۔ ہم اس رسول  پر ایمان لائے اور شرک و بت پرستی چھوڑ کر تمام برے کاموں سے تائب ہو گئے۔ بس یہی ہمارا گناہ ہے جس پر ہماری قوم ہماری جان کی دشمن ہو گئی اور ان لوگوں نے ہمیں اتنا ستایا کہ ہم اپنے وطن کو خیر باد کہہ کر آپ کی سلطنت کے زیر سایہ پرامن زندگی بسر کر رہے ہیں اب یہ لوگ ہمیں مجبور کر رہے ہیں کہ ہم پھر اسی پرانی گمراہی میں واپس لوٹ جائیں ۔‘‘

        حضرت جعفر  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ   کی انفرادی کوشش سے نجاشی بادشاہ بے حد متاثر ہوا۔ یہ دیکھ کر کفار ِمکہ کے سفیر عمرو بن العاص نے اپنے ترکش کا آخری تیر بھی پھینک دیا اور کہا کہ’’ اے بادشاہ! یہ مسلمان لوگ آپ کے نبی حضرت عیسیٰ  ں کے بارے میں کچھ دوسرا ہی اعتقاد رکھتے ہیں جو آپ کے عقیدہ کے بالکل ہی خلاف ہے۔ ‘‘یہ سن کر نجاشی بادشاہ نے حضرت جعفر  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ   سے اس بارے میں سوال کیا تو آپ نے سورئہ مریم کی تلاوت فرمائی۔ کلام ربانی کی تاثیر سے نجاشی بادشاہ کے قلب پر اتنا گہرا اثر پڑا کہ اس پر رقت طاری ہو گئی اور اس کی آنکھوں سے



1     یہ ابتدائے اسلام کا واقعہ ہے ، تاہم اب کسی کو اسلام قبول کرنے کے لئے غسل کرنے کا نہیں کہا جائے گا بلکہ فوراً کلمہ پڑھا دینا ضروری ہے۔ماخوذ از فتاویٰ مصطفویہ ص۲۳

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن