دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Infiradi Koshish Main 25 Hikayaat e Attaria | انفرادی کوشش مع 25 حکایاتِ عطاریَّہ

book_icon
انفرادی کوشش مع 25 حکایاتِ عطاریَّہ

نوجوان تمام عمر زناسے بے زار رہا۔(مسند امام احمد، ج۸، ص۲۸۵، رقم : ۲۲۲۷۴)

(28)  صحابہ کرام رضی اللہ  عنہم پر انفرادی کوشش     

        ایک دن مکی مدنی سلطان رحمت ِ عالمیان صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  ایک مردار بکری کے پاس سے گزرے تو اپنے صحابہ رضی اللہ  عنہم سے فرمایا، ’’کیا تم جانتے ہو کہ یہ بکری اپنے گھر والوں کے نزدیک کس قدر حقیر ہے ؟ ‘‘ صحابہ رضی اللہ  عنہم نے عرض کی ، ’’اسی حقارت کی وجہ سے ہی تو انہوں نے اسے یہاں پھینکا ہے ۔‘‘ آپ نے فرمایا ، ’’اس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے ، جس قدر یہ بکری اپنے گھر والوں کی نظر میں حقیر ہے ، اللہ  تَعَالٰی کے نزدیک یہ دنیا اس سے بھی ہلکی اور حقیر ہے ۔‘‘(ابن ماجہ ، ج۴، ص۴۲۷، رقم : ۴۱۱۰)

٭٭٭٭٭٭   

 صحابہ کرام رضی اللہ  عنہم کی انفرادی کوشش کے واقعات

(29) حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ   کی انفرادی کوشش

         حضرت ابوبکر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ   نے ایمان لاتے ہی اسلام کی دعوت پیش کرنا شروع کردی۔اہل ِ مکہ پہلے ہی سے آ پرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  کی دانائی ، حسن تدبیر اورعلم وفہم کے معترف تھے۔ لہذا! آپ کی کوششیں رنگ لائیں اوربہت سے لوگوں نے اسلام قبول کیا ، جن میں وہ پانچ محترم صحابہ کرام علیہم الرضوان مشرف بہ اسلام ہوئے جوعشرہ مبشرہ میں سے ہیں ۔ ان کے اسمائے گرامی یہ ہیں :

   (۱) حضرت سیدنا عثمان غنی  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ   

   (۲) حضرت سیدنا سعد بن ابی وقاص  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  

   (۳) حضرت سیدنا طلحٰہ بن عبیداللہ   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ                     

   (۴) حضرت سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  

   (۵) حضرت سیدنا زبیر بن العوام  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ    (البدایۃ والنہایۃ ، ج۳، ص۳۹)

( 30) حضرت سیدنا ابو موسی اشعری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ   پر انفرادی کوشش

          حضرت سیدنا عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ   نے حضرت سیدنا ابوموسیٰ اشعری کو لکھا کہ ،   

 ’’حَاسِبْ نَفْسَکَ فِی الرُّخَائِ قَبْلَ حِسَابِ الشِّدَّۃِ    یعنی شدت کے وقت میں حساب سے پہلے ، راحت کے وقت اپنے نفس کا محاسبہ کرو ۔ ‘‘  ( احیاء العلوم، کتاب المراقبۃ والمحاسبۃ، ج۵ ، ص ۱۲۸)

(31) ایک نصرانی بڑھیا پر انفرادی کوشش

         حضرت سیدنا اسلم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ   فرماتے ہیں کہ جب میں ملک ِ شام میں تھا تو حضرت سیدنا عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  کے پاس وضو کا پانی لے کر حاضر ہوا ۔ آپ نے دریافت فرمایا ، ’’یہ پانی کہاں سے لائے ہو ؟بہت اچھا پانی ہے ۔‘‘ میں نے عرض کی، ’’ایک نصرانی بڑھیا کے گھر سے لایا ہوں ۔‘‘ آپ وضو کرنے کے بعد اس بڑھیا کے گھر تشریف لے گئے اور اسلام کی دعوت پیش کرتے ہوئے کہنے لگے ، ’’اللہ  تَعَالٰی نے محمد صلی اللہ  علیہ وسلم کو سچا دین دے کر بھیجا ہے ، تم بھی اسلام قبول کر لو ۔‘‘یہ سن کر اس بڑھیا نے اپنے سر سے چادر اتار کر اپنے سفید بال دکھائے اور کہنے لگی ، ’’میں انتہائی بوڑھی ہوچکی ہوں اور اب میری موت بالکل قریب ہے ۔(یعنی ایسے وقت میں کیا اسلام لاؤں گی )‘‘ یہ سن کر سیدنا عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ   نے کہا ، ’’یااللہ   عَزَّ وَجَلَّ  ! تو گواہ ہوجا(کہ میں اسلام کی دعوت پیش کر چکا) ۔‘‘(الدار قطنی ، ج۱، ص۴۴، رقم : ۶۰)

(32) اپنے نصرانی غلام پر انفرادی کوشش

  حضرت سیدنا عمرفاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ   اپنے نصرانی غلام کومسلسل دعوتِ اسلام دیتے رہتے اور فرمایا کرتے ، ’’اگر تم مسلمان ہوجاؤ تو میں تم سے مسلمانوں کی امانتوں میں مدد لیا کروں لیکن تم نصرانی ہو ، لہذا! میرے لئے حلال نہیں کہ میں مسلمانوں کی امانتوں کے سلسلے میں تم سے کوئی مدد لوں ۔‘‘ لیکن وہ ہمیشہ انکار کردیتا توآپ فرماتے ، ’’دین میں کوئی جبر نہیں ۔‘

(حلیۃ الاولیاء ج۹، ص۳۴)

(33) حضرت سیدنا سعد بن معاذ اورحضرت اُسید بن حضیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ   پر انفرادی کوشش

        حضرت مصعب بن عمیررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ   ، حضرت اسعد بن زرارہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ   کی رفاقت میں راہِ خدا عَزَّ وَجَلَّ  میں سفر پر روانہ ہوئے تو قبیلہ ٔبنی ظفر کے باغ میں مرق نامی کنوئیں پر جاکر بیٹھ گئے ۔ ان دونوں کے پاس قبیلہ ٔبنو اسلم کے لوگ جمع ہوگئے۔ ان کے چوٹی کے سردار سعد بن معاذ اور اسید بن حضیر تھے جو ابھی دامنِ اسلام سے وابستہ نہ ہوئے تھے ۔ جب ان دونوں کو اپنے خالہ زاد بھائی حضرت اسعد بن زرارہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ   کے آنے کی خبر ملی تو سعد بن معاذ نے اسید بن حضیر کو بھیجا کہ جاؤان دونوں کو ڈانٹ کر روک دو جو ہمارے کمزور لوگوں کو (معاذ اللہ   عَزَّ وَجَلَّ ) بہکانے کے لئے آئے ہیں ۔ چنانچہ اسید بن حضیر نے اپنا نیزہ لیا اور کنوئیں کی طرف روانہ ہوگئے ۔ حضرت اسعد بن زرارہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  نے ان کو دور سے ہی آتے ہوئے دیکھ لیا اور حضرت مصعب بن عمیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ   سے کہنے لگے ، ’’یہ شخص اپنی قوم کا سردار ہے ۔‘‘ آپ نے فرمایا، ’’ذرا آنے تودو ، میں ہی اس سے بات کروں گا۔‘‘

        اسید بن حضیر نے آتے ہی ان کو برا بھلا کہنا شروع کر دیا اور کہنے لگے ، ’’تم یہاں کس لئے آئے ہو ؟ ہمارے کمزوروں کو بے وقوف بنانے کے لئے ؟ اگر تمہیں زندگی پیاری ہے تو یہاں سے چلے جاؤ۔‘‘ حضرت مصعب بن عمیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ   نے نرمی سے کہا ، ’’ذرا بیٹھ کر میری بات تو سن لو ، اگر میری بات سمجھ میں آجائے تو اسے مان لینا اور اگر پسند نہ آئے تو ہم تمہیں مجبور نہیں کریں گے ۔‘‘ اسید بن حضیر نے کہا ، ’’یہ بات تو تم نے قاعدے کی کہی ہے ۔‘‘اور اپنا نیزہ زمین پر گاڑ کر ان دونوں کے پاس بیٹھ گئے ۔ حضرت مصعب بن عمیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ   نے ان کو اسلام کے

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن