30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ایک اَعرابی نے سرورِ عالم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی بارگاہ میں حاضر ہو کر عرض کی، ’’میری بیوی کے شکم سے ایک ایسا بچہ پیدا ہوا ہے جو کالا ہے اور میرا ہم شکل نہیں ہے ، اس لئے میرا خیال ہے کہ یہ بچہ میرا نہیں ہے ۔‘‘ اَعرابی کی بات سن کر آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ، ’’کیا تیرے پاس کچھ اونٹ ہیں ؟‘‘ اس نے عرض کی ، ’’میرے پاس بہت سے اونٹ ہیں ۔‘‘ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا ، ’’ تمہارے اونٹ کس رنگ کے ہیں ؟‘‘ اس نے بتایا ، ’’سرخ رنگ کے ہیں ۔‘‘ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے دریافت فرمایا، ’’ کیا ان میں کچھ خاکی رنگ کے بھی ہیں ؟‘‘ اس نے کہا، ’’جی ہاں ! کچھ اونٹ خاکی رنگ کے بھی ہیں ۔‘‘ آپ نے فرمایا ، ’’یہ بتاؤ کہ سرخ رنگ کے اونٹوں کی نسل میں خاکی رنگ کے اونٹ کیسے اور کہاں سے پیدا ہوگئے؟‘‘ اس نے عرض کی ، ’’میرے سرخ رنگ کے اونٹوں کے باپ داداؤں میں کوئی خاکی رنگ کا اونٹ رہا ہوگا، اس کی رگ نے اس کو اپنے رنگ میں کھینچ لیا ہوگا اس لئے سرخ رنگ کے اونٹوں کا بچہ خاکی رنگ کا ہوگیا ہو گا ۔‘‘یہ سن کر آپ نے ارشا د فرمایا ، ’’ممکن ہے کہ تمہارے باپ دادؤں میں بھی کوئی کالے رنگ کا ہوا ہو ، اور اس کی رگ نے تمہارے بچے کو اپنے رنگ میں کھینچ لیا ہو اور یہ بچہ اس کا ہم شکل ہوگیا ہو ۔‘‘(بخاری ، کتاب الطلاق ، ج۳، ص۴۹۷، رقم : ۵۳۰۵)
( 22) دنیا سے بے رغبتی اپنانے کے بارے میں انفرادی کوشش
حضرت سیدنا سہل بن اسعد رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ ایک شخص بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوا اور عرض کرنے لگا ، ’’یارسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ !کسی ایسے کام کے لئے میری راہنمائی فرمائیے کہ جسے میں کروں تو اللہ تَعَالٰی مجھ سے محبت کرے اور لوگ بھی محبت کریں ۔‘‘ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ، ’’دنیا سے بے رغبت رہو، اللہ تَعَالٰی تم سے محبت کرے گا اور لوگوں کی چیزوں سے بے نیاز رہو ، لوگ تم سے محبت کرنے لگیں گے ۔‘‘(مشکوۃ المصابیح ، کتاب الرقاق، ج۳، ص۱۱۰، رقم : ۵۱۸۷)
(23) ایک اَعرابی پر انفرادی کوشش
حضرت انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم ‘ رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے ساتھ مسجد میں موجود تھے کہ ایک اَعرابی آیا اور مسجد میں کھڑے ہو کر پیشاب کرنا شروع کر دیا ۔ رسول اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے اَصحاب رضی اللہ عنہم نے (اسے) فرمایا ، ’’ رک‘ جا ‘ رک جا۔‘‘ رحمتِ کونین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا کہ ’’اسے نہ روکو چھوڑ دو۔ ‘‘ صحابہ کرام علیہم الرضوان نے اسے چھوڑ دیا حتی ٰ کہ اس نے پیشاب کر لیا۔ پھر مبلّغِ اعظم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اسے بلا کر (نرمی و شفقت) سے فرمایا ’’ یہ مساجدپیشاب اور گندگی کیلئے نہیں ‘ یہ تو صرف اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ذکر‘ نماز اور تلاوت ِ قرآن کیلئے ہیں ۔‘‘ پھر آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے قوم کے ایک آدمی کو حکم فرمایا ‘ وہ پانی کا ایک ڈول لایا‘ جسے اس نے اس (پیشاب کی جگہ) پر بہا دیا۔(مسلم، کتاب الطہارۃ، باب وجوب غسل البول الخ، ص۱۶۵، رقم : ۱۰۰)
(24) زبان کی حفاظت وغیرہ کے بارے میں انفرادی کوشش
حضرت سیدنا ابوایوب انصاری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی خدمت ِ اقدس میں حاضر ہوا اور عرض کی ، ’’مجھے کوئی مختصر نصیحت فرمائیے۔‘‘ سرورِ کونین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا، ’’جب تم اپنی نماز کے لئے کھڑے ہو تو رخصت ہونے والے کی سی نماز پڑھو، کوئی ایسی بات نہ کرو، جس کے بارے میں بعد میں معذرت کرنی پڑے اور لوگوں کے ہاتھوں میں موجود اشیاء سے مکمل طور پر مایوس ہوجاؤ(یعنی کسی سے مال ملنے کی امید نہ رکھو )۔‘‘(مشکوۃ المصابیح، ج۳، ص۱۱۶، رقم : ۵۲۲۶)
(25) حضرت اسماء رضی اللہ عنہا پر انفرادی کوشش
حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ا سے مروی ہے کہ حضرت اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہما باریک کپڑے پہن کر رسول ِ اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے سامنے آئیں تو آپ نے ان کی جانب سے منہ پھیر لیا اورارشاد فرمایا، ’’اے اسماء ! جب عورت بالغ ہوجائے تو اس کے بدن کا کوئی حصہ دکھائی نہیں دینا چاہئیے سوائے اس کے (پھر اپنے منہ اور ہتھیلیوں کی طرف اشارہ فرمایا )۔‘‘
( ابوداؤد، کتاب اللباس، ج۴، ص۸۵، رقم : ۴۱۰۴)
(26) ادائیگی زکوۃکے لئے انفرادی کوشش
مروی ہے کہ نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی خدمت میں ایک عورت آئی ، اس کے ساتھ اس کی بیٹی بھی تھی جس کے ہاتھ میں سونے کے موٹے موٹے کنگن تھے ۔ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اس عورت سے پوچھا کہ کیا تم ان کی زکوۃ ادا کرتی ہو؟‘‘ اس عورت نے عرض کی ، ’’جی نہیں ۔‘‘ تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے دریافت فرمایا ، ’’کیا تم اس بات سے خوش ہو کہ قیامت کے دن اللہ تَعَالٰی تمہیں ان کنگنوں کے بدلے آگ کے کنگن پہنا دے ؟‘‘ یہ سنتے ہی اس عورت نے وہ کنگن رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے آگے ڈال دئیے اور عرض کی ، ’’یہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور اس کے رسول صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے لئے ہیں ۔‘‘ (سنن ابوداؤد، کتاب الزکوۃ، ج۲، ص۱۳۷، رقم : ۱۵۶۳)
(27) ایک نوجوان پر انفرادی کوشش
مروی ہے کہ ایک نوجوان رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی بارگاہ میں حاضر ہوااور عرض کرنے لگا ، ’’یارسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ !مجھے زناء کی اجازت دیجئے۔‘‘یہ سنتے ہی تمام صحابۂ کرام ر ضی اللہ عنھم جلال میں آ گئے اور اسے مارنا چاہا۔رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا کہ’’ اسے نہ مارو۔‘‘پھر اسے اپنے پاس بلا کر بٹھایا اور نہایت نرمی اور شفقت کے ساتھ سوال کیا،
’’اے نوجوان!کیا تجھے پسند ہے کہ کوئی تیری ماں سے ایسا فعل کرے؟‘‘اس نے عرض کی ، ’’میں اس کو کیسے روا رکھ سکتا ہوں ؟‘‘آپ نے ارشاد فرمایا، ’’تو پھر دوسرے لوگ تیرے بارے میں اسے کیسے روا رکھ سکتے ہیں ؟‘‘پھر آپ نے دریافت فرمایا، ’’تیری بیٹی سے اگر اس طرح کیا جائے تو تو اسے پسند کرے گا؟‘‘عرض کی نہیں ۔‘‘فرمایا، ’’اگر تیری بہن سے کوئی ایسی ناشائستہ حرکت کرے تو ؟‘‘اور اگر تیری خالہ سے کرے تو؟اسی طرح آپ نے ایک ایک رشتے کے بارے میں سوال فرمایا، اور وہ یہی کہتا رہا کہ مجھے پسند نہیں اور لوگ بھی رضا مند نہیں ۔تب رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اس کے سینے پر ہاتھ رکھ کر اللہ تَعَالٰی کی بارگاہ میں عرض کی ، ’’یا الہی عَزَّ وَجَلَّ !اس کے دل کو پاک کر دے ، اس کی شرمگاہ کو بچا لے اور اس کا گناہ بخش دے۔‘‘اس کے بعد وہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع