30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
معروف ومشہور ہو گیا ۔
اگلے سال انصار میں سے بارہ افراد مکہ مکرمہ حاضر ہوئے ، جنہوں نے مقام ِ عقبہ میں آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے ملاقات کا شرف حاصل کیا۔ حضرت جابر کے علاوہ پانچ تووہ تھے، جو پچھلے سال شرفِ اسلام حاصل کر چکے تھے۔ اور ان کے علاوہ معاذ بن عفراء ، ذکوان بن عبد قیس ، عبادہ بن صامت ، یزید بن ثعلبہ ، عباس بن عبادہ ، عویم بن ساعدہ اور ابوالہیثم ابن التیہان رضی اللہ عنہمنے رسول اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے بیعت کا شرف حاصل کیا ۔
جب یہ حضرات مشرف بہ اسلام ہو کر سرورِ عالم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی بارگاہ سے رخصت ہوئے، توآپ نے حضرت مصعب بن عمیررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو ان کے ساتھ مدینہ منورہ کی طرف روانہ فرمایا کہ اہلِ مدینہ کو دین ِ اسلام کی تعلیم دیں اور قرآن پاک پڑھائیں ۔ اللہ تَعَالٰی کے فضل وکرم سے ان کے ہاتھ پر بہت سے لوگ شرفِ اسلام سے مشرف ہوئے۔
( الوفاء باحوال المصطفٰی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ، ص۲۶۶)
( 12) حضرت خالد بن سعید ابن العاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ پر انفرادی کوشش
حضرت خالد بن سعید بن العاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ اپنے تمام بھائیوں میں سب سے پہلے اسلام لے آئے تھے ۔ ان کے اسلام کی طرف مائل ہونے کی ابتدا اس طر ح ہوئی کہ انہوں نے خواب میں دیکھا کہ’’ ان کو وسیع عریض اور بلند آگ کے کنارے کھڑا کیا گیا ہے۔ پھر کسی نے انہیں آگ میں دھکا دینا چاہا مگر رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ان کی کمر پکڑے ہوئے ہیں اور آگ میں گرنے سے بچارہے ہیں ۔‘‘ اسی گھبراہٹ میں ان کی آنکھ کھل گئی اور اسی وقت ان کی زبان سے نکلا، ’’خدا کی قسم ! یہ خواب سچا ہے۔‘‘پھر فوراً حضرت ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی خدمت میں حاضر ہوکر اس خواب کا تذکرہ کیا تو آپ نے فرمایا ’’ اللہ تَعَالٰی کی طرف سے تمہارے ساتھ بھلائی کا ارادہ کیا گیا ہے، اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے رسول صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ہمارے درمیان موجود ہیں ان کی پیروی کرلو، تمہارے خواب کی یہی تعبیر ہے ۔ تم اُن کی پیروی کروگے اور اسلام میں داخل ہو جاؤگے تو اسلام تمہیں آگ میں داخل ہونے سے بچائے گا۔‘‘
پھر حضرت خالد رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے حاضر خدمت ہوکر عرض کیا۔’’ اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے رسول! آپ کس چیز کی طرف بلاتے ہیں ؟ ‘‘آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے (اسلام کی دعوت پیش کرتے ہوئے ) فرمایا، ’’میں تم کو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی طرف بلاتا ہو ں ، وہ ایک ہے اس کا کوئی شریک نہیں اور اس کی طرف بلاتا ہوں کہ جس کا محمد صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ بندہ اور رسول ہے۔ اور بت پرستی جس پر تم جم رہے ہو چھوڑدو، یہ پتھر نہ سنتے ہیں نہ دیکھتے ہیں اور نہ نفع دے سکتے ہیں اور نہ یہ جانتے ہیں کہ ان کی کون عبادت کرتا ہے اور کون نہیں کرتا؟‘‘ حضرت خالد رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے یہ سن کر فوراً اسلام قبول کرلیا۔(البدایۃ والنہایۃ ، ج۳، ص۴۴)
(13) حضرت سیدنا معاویہ بن حکم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ پر انفرادی کوشش
حضرت سیدنا معاویہ بن حکم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ایک مرتبہ رسولِ اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے ساتھ نماز پڑھ رہے تھے کہ دورانِ نماز آپ سے کوئی خطا سرزد ہوئی ۔ نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے نماز ادا کرنے کے بعد ان کی اصلاح فرمائی ۔حضرت سیدنا معاویہ بن حکم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ، ’’(ان پر میرے ماں باپ قربان )میں نے ایسا اچھا سمجھانے والا نہ پہلے کبھی دیکھا اور نہ بعد میں ، خدا کی قسم ! آپ نے نہ مجھے ڈانٹا ، نہ مارا اور نہ ہی برا بھلا کہا بلکہ فرمایا ، ’’ نمازمیں انسانی کلام مناسب نہیں ، یہ تو صرف تسبیح ، تکبیر ، اور تلاوتِ قرآن (کا نام ) ہے ۔‘‘
(مشکوۃ المصابیح ، کتاب الصلوۃ ، ج۱، ص۲۹۲، رقم : ۹۷۸ )
(14) ابو طالب پر انفرادی کوشش
جب ابو طالب کی موت کا وقت قریب آیا تو نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ تشریف لائے اور (دعوتِ اسلام پیش کرتے ہوئے)فرمایا ، ’’ اے چچا! آپ کلمہ پڑھ لیجئے، یہ وہ کلمہ ہے کہ اس کے سبب سے میں خدا ( عَزَّ وَجَلَّ )کے دربار میں آپ کی مغفرت کے لئے اصرار کروں گا۔‘‘ اس وقت ابو جہل اور عبداﷲ بن ابی امیہ ‘ ابوطالب کے پاس موجود تھے۔ ان دونوں نے ابو طالب سے کہا ، ’’ اے ابو طالب! کیا تم عبدالمطلب کے دین سے روگردانی کروگے؟ ‘‘پھر یہ دونوں برابر ابو طالب سے گفتگو کرتے رہے یہاں تک کہ ابو طالب نے کلمہ نہیں پڑھا بلکہ ان کی زندگی کا آخری قول یہ تھا کہ ’’میں عبدالمطلب کے دین پر ہوں ۔‘‘ یہ کہنے کے بعدان کی روح پرواز کر گئی۔
رحمت ِعالم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو اس سے بڑا صدمہ پہنچا۔ اور آپ نے فرمایا کہ ’’میں آپ کے لئے اس وقت تک دعائے مغفرت کرتا رہوں گا جب تک اﷲ تعالیٰ مجھے منع نہ فرمادے۔‘‘ اس کے بعد یہ آیت نازل ہو گئی کہ،
مَا كَانَ لِلنَّبِیِّ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْ یَّسْتَغْفِرُوْا لِلْمُشْرِكِیْنَ وَ لَوْ كَانُوْۤا اُولِیْ قُرْبٰى مِنْۢ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَهُمْ اَنَّهُمْ اَصْحٰبُ الْجَحِیْمِ(۱۱۳)
ترجمہ کنزالایمان : نبی اورایمان والوں کو لائق نہیں کہ مشرکوں کی بخشش چاہیں اگرچہ وہ رشتہ دار ہوں جب کہ انہیں کھل چکا کہ وہ دوزخی ہیں ۔ (پ۱۱، التوبۃ : ۱۱۳)
(بخاری ، باب قصہ ابی طالب ، ج۲ ص۵۸۳ ، رقم : ۳۸۸۴)
(15) عتبہ بن ربیعہ پر انفرادی کوشش
ایک مرتبہ سرداران ِقریش حرمِ کعبہ میں بیٹھے ہوئے یہ سوچنے لگے کہ آخر اتنی تکالیف اور سختیاں برداشت کرنے کے باوجود محمد(صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ) اپنی تبلیغ کیوں بند نہیں کرتے؟ آخر ان کا مقصد کیا ہے؟ ممکن ہے یہ عزت و جاہ‘ یا سرداری اور دولت کے خواہش مند ہوں ۔ چنانچہ اُن سب نے عتبہ بن ربیعہ کو حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے پاس بھیجا کہ تم کسی طرح ان کا دلی مقصد معلوم کرو۔
چنانچہ عتبہ تنہائی میں آپ سے ملا اور کہنے لگا کہ، ’’ اے محمد(صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ) آخر اس دعوت اسلام سے آپ کا مقصد کیا ہے؟ کیا آپ مکہ کی سرداری چاہتے ہیں ؟ یا عزت و دولت کے خواہاں ہیں ؟ یا کسی بڑے گھرانے میں شادی کے خواہش مند ہیں ؟ آپ کے دل میں جو تمنا ہو کھلے دل کے ساتھ کہہ دیجئے میں اس کی ضمانت لیتا ہوں کہ اگر آپ دعوتِ اسلام سے باز آ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع