30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(11) پرچہ شروع ہونے سے چند منٹ قبل استنجاء ووضوسے فراغت حاصل کر لیں کیونکہ اگر دورانِ امتحان استنجاء خانے جانے کی حاجت پیش آئی تو شاید ممتحن (Examiner)کی طرف سے جانے کی اجازت نہ ملے اور اگر اجازت مل بھی گئی تو وقت کا ضیاع ہوگا ۔
(12) اگرشدید گرمی کا موسم ہو یا آپ کو عادتاًپیاس زیادہ لگتی ہوتوامتحان شروع ہونے سے قبل مناسب مقدارمیں پانی بھی پی لیں ، یا کسی بوتل میں ساتھ لے لیں ۔
(13) پرچہ شروع ہونے سے پہلے بالخصوص پہلے دن ممتحن کی ہدایات کو غور سے سنیں ۔
(14) جب جوابی کاپی اور سوالیہ پرچہ(answer sheet and question paper ) تقسیم کیا جارہا ہوتو ادب اور شائستگی کے ساتھ وصول کریں کیونکہ امتحانات میں اکثر اساتذہ کرام کو ہی نگرانی پر معمور کیا جاتا ہے ۔
(15) عموماً امتحان میں پہلے جوابی کاپی دی جاتی ہے پھر کچھ دیر بعد سوالیہ پرچہ دیا جاتا ہے لہذا ! جوابی کاپی ملنے پر اس پر اپنا رول نمبر (Roll No)لکھ لیں اور سائیڈ پر حاشیے وغیرہ لگا لیں ۔
(16) جب آپ کو سوالیہ پرچہ دیا جائے تو اسے کامل توجہ کے ساتھ مکمل طور پرپڑھیں ۔ اس کے آغاز میں دی گئی ہدایات کا بھی بغور مطالعہ فرمائیں ۔
(17) سوالات کی درجہ بندی فرما لیں کہ کس سوال کا جواب آپ کوبہترین یاد ہے ؟ کون سے سوال کا جواب قدرِ کفایت یاد ہے ؟ اور کون سے سوال کا جواب اچھی طرح یاد نہیں ؟
(18) اب اگر سوالات میں گنجائش دی گئی ہو تو وہ سوال حل نہ فرمائیں جس کا جواب اچھی طرح یاد نہ ہو ۔
(19) سوالات کے حل کے لئے وقت تقسیم فرمالیں مثلاً پانچ سوالات کے جوابات لکھنے کا مطالبہ کیا گیا ہواور مقررہ وقت تین گھنٹے ہو تو ایک سوال کے لئے اوسطاً۳۰ منٹ مقرر کر لیں اور بچ رہنے والا وقت اپنے جوابات پر نظر ثانی کے لئے صرف کریں ۔ اس تقسیم کا فائدہ یہ ہوگا کہ آپ مقرر کردہ وقت میں سوالات کے مکمل جوابات دینے میں کامیاب ہوجائیں گے ، ان شاء اللہ عَزَّ وَجَلَّ ۔ بصورت دیگر آپ کو شدید دشواری کا سامنا ہوسکتا ہے ۔
(20) پرچہ آسان ہو یا مشکل یکساں توجہ سے حل کریں ۔ بعض اسلامی بھائی آسان سوالات پوچھے جانے پر جلد بازی کا شکار ہوجاتے ہیں اور غلط جوابات بھی لکھ ڈالتے ہیں ۔
(21) سوالات کے جوابات دینے میں ترتیب یوں رکھئے کہ سب سے پہلے آسان سوال پھر اس سے مشکل اس کے بعد جو اس سے مشکل ہو، علی ھذا القیاس ۔ کیونکہ اگر آپ ابتدائً مشکل سوال کا جواب لکھنے میں مشغول ہوگئے تو ہوسکتا ہے کہ اس میں زیادہ وقت صرف ہونے کی وجہ سے آسان سوالات لکھنے سے رہ جائیں ۔ اپنے ذہن میں طے کی گئی جوابات دینے کی ترتیب کے مطابق سوالات پر بھی نشانات لگا لیں ۔ مثلاً آپ کو چوتھے سوال کا جواب پہلے لکھنا ہے تو اس پر 1لکھ لیں ، اور دوسرے نمبر پر پہلا سوال حل کرنا ہے تو اس پر 2لکھ لیں ، علی ھذا القیاس ۔
(22) بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھ کر اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کرتے ہوئے لکھنے کا آغاز فرمادیں ۔
(23) لکھنے کے دوران اپنے ارد گرد تشریف فرماہونے والے اسلامی بھائیوں سے نہ توکسی قسم کی گفتگو کریں اور نہ ہی کسی شے کا لین دین کریں کہ ایسا کرنے کی صورت میں آپ ممتحن کی نگاہ میں مشکوک قرار پائیں گے اور وقت الگ سے ضائع ہوگا ۔
(24) جوابی کاپی میں سوالیہ عبارت لکھنے کی بجائے سوال کا نمبر دے کر جواب لکھنے کا آغازفرما دیں ۔ اگر کوئی سوال ایسا ہو جسے جوابی کاپی پر نقل کرنا ضروری ہو تو حرج نہیں ۔
(25) لکھے گئے جوابات کے الفاظ نہ تو اتنے تنگ تنگ ہوں کہ مفتش (Checker) کوپڑھنے میں دقت پیش آئے اور نہ ہی اتنے بڑے کہ نامناسب دکھائی دیں ۔
(26) جتنا ممکن ہوسکے عنوانات قائم کر کے جوابات لکھیں کہ اس سے مفتش پر اچھا اثر مترتب ہوتا ہے ۔ مثلاً
نواقض ِ وضو: درجِ ذیل صورتوں میں وضو ٹوٹ جاتا ہے ، …الخ
(27) جو سوالات دو یا اس سے زائد اجزاء (Parts)پر مشتمل ہوں ان کے تمام اجزاء کے جوابات یکے بعد دیگرے ایک ساتھ ہی لکھیں ، ایسا نہ ہو کہ سوال نمبر ۲ کا پہلاجز حل کرنے کے بعد دوسرا جز چند دوسرے سوالات کے بعد لکھ دیا جائے ۔
(28) سوال میں جوبات پوچھی گئی ہو اسی کاجواب لکھیں اور غیر ضروری تفصیل سے پرہیز کریں کہ وقت کی تنگی کا سامنا ہوسکتا ہے ۔
(29) ہر سوال کا جواب لکھتے وقت وقفے وقفے سے گھڑی بھی دیکھتے رہیں تاکہ اس سوال کو طے کردہ وقت ہی میں مکمل کیا جاسکے ۔ اگر کسی سوال پر زیادہ وقت صرف ہوجائے تو بقیہ سوالات کے وقت میں مناسب ردو بدل(Adjustment) کر لیں ۔
(30) اگر کوئی بات بھول جائے تو درودِ پاک پڑھ لیں جیسا کہ حدیث میں ہے ، ’’جب تم کسی چیز کو بھول جاؤ تو مجھ پر درود پڑھو ان شاء اللہ وہ چیز تمہیں یاد آجائے گی ۔ ‘‘ (القول البدیع، ص ۲۱۷، مطبوعۃ دارالکتب العلمیۃ بیروت)
اگر باوجود کوشش کے وہ بات یاد نہ آئے تو اندازے سے جگہ خالی چھوڑ کر آگے بڑھ جائیں اور اپنا وقت بچائیں پھر اگر وہ بات یاد آجائے تو لکھ لیجئے ۔
(31) آپ کو جس قدر سوالات کے جوابات آتے ہوں ، لکھ دیجئے اور اسی پر قناعت کریں ہر گز ہرگز نقل لگانے کی کوشش نہ کریں کیونکہ علمائے کرام نے اسے ناجائز قرار دیا ہے ۔
(32) جب آپ تمام سوالات کے جوابات لکھ چکیں توکم از کم ایک مرتبہ انہیں غور سے پڑھ لیجئے اور جہاں غلطی نظر آئے درست کر لیجئے اور جہاں کہیں جواب ادھورا ہو اسے مکمل کر لیجئے ۔
(33) پرچہ جمع کرانے میں جلد بازی مت کریں بلکہ جب آپ حقیقۃًمطمئن ہوجائیں تو جمع کروادیجئے ۔
(34) اس کے بعد مناسب آرام لینے کے بعد اگلے پرچے کی تیاری شروع کردیں ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع