30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کہ قبلہ امیراہل ِ سنت علامہ مولانا محمد الیاس عطار قادری مدظلہ العالی فرماتے ہیں کہ ’’بلغم اور زکام کے علاج کے سلسلے میں جو فائدہ کشمش نے دیا کسی دواء نے بھی نہیں دیا ۔ ‘‘(مدنی مذاکرہ :کیسٹ نمبر۱۲۴)
(۵)اپنی صحت (Health)کا خاص طور پرخیال رکھیں ۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہر وقت پڑھتے رہنے کی بناء پر اتنے کمزور ہوجائیں کہ ادھر ذرا سی سرد ہوا چلی ادھر حضرت کو زکام اور بخار نے آن گھیرا ، …اور نہ ہی اتنا وزن بڑھا لیں کہ نیند اور سستی سے دامن چھڑانا دشوار ہوجائے ۔
(۶)حافظے کی مضبوطی کے لئے اپنے معالج کے مشورے سے دوائی کا استعمال بھی کریں اس کے لئے خمیرہ گاؤزبان کا استعمال بہت مفید ہے ۔
(۷) ذہن کو آرام دینے کی غرض سے مناسب مقدار میں (مثلاً ۲۴ گھنٹوں میں ۶ سے ۸ گھنٹے )نیند ضرور لیں ۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ پہلے پہل توپڑھائی کے جوش میں نیند کو فراموش کر بیٹھیں لیکن چند دنوں کے بعد تھکاوٹ کا احساس آپ کے دل ودماغ کو ایسا گھیرے کہ تھوڑی سی دیر پڑھنے کے بعد ذہن پر غنودگی چھانے لگے اورآپ نیند کی آغوش میں جاپڑیں ۔ نیند کے بعد مکمل طور پر تازہ دم(Fresh) ہونے کے لئے حصول ِ ثواب کی نیت سے باوضو سونے کی عادت بنائیں اور سونے سے پہلے تسبیح فاطمہ رضی اللہ عنہا (یعنی ۳۳مرتبہ سبحان اللہ ، ۳۳ مرتبہ الحمدللہ اور ۳۴ مرتبہ اللہ اکبر )پڑھ لیں ۔ اگر آرام کرنے کے بعد بھی پڑھائی کے دوران نیند کا غلبہ ہونے کی شکایت ہوتوروزانہ لیموں ملے ایک گلاس پانی میں ایک چمچ شہد ملا کر پی لینا بے حد مفید ہے جیسا کہ شیخ ِ طریقت امیرِ اہل سنت علامہ مولانا محمد الیاس عطار قادری مدظلہ العالی فرماتے ہیں کہ ’’خلاف ِ معمول نیند کا آنا جگر کی کمزوری پر دال (دلالت کرتا) ہے اور اس کا علاج یہ ہے کہ لیموں والے پانی میں شہد کا ایک چمچ نہار منہ استعمال کریں ۔ ‘‘(مدنی مذاکرہ :کیسٹ نمبر ۱۲۴)
(۸) اپنے اساتذہ اور پیر ومرشد کا احترام اپنی عادات میں شامل کر لیں اور ان کے فیوض وبرکات حاصل کریں ۔
(۹)فضول گفتگو سے پرہیز کرتے ہوئے زبان کا قفل مدینہ لگائیں (اس کی تفصیلی وضاحت کے لئے امیر اہل سنت مدظلہ کے رسالہ’’ قفلِ مدینہ ‘‘کا مطالعہ فرمائیں )، اس کا فائدہ یہ ہو گا کہ زبان جتنی کم استعمال ہوگی ذہن کی توانائی اتنی زیادہ محفوظ رہے گی اور یہ توانائی(Energy) سبق یاد کرنے کے وقت ہمارے کام آئے گی ۔ ان شاء اللہ عَزَّ وَجَلَّ
(۱۰) نگاہیں نیچی رکھنے کی سنت پر عمل کرتے ہوئے آنکھ کا قفل مدینہ لگائیں ۔ اس کا بھی یہی فائدہ ہوگا کہ ہمارے ذہن کی توانائی محفوظ رہے گی ۔
(۱۱)غیر ضروری اور گناہوں بھرے خیالات سے بچتے ہوئے ذہن کا قفل مدینہ لگائیں ۔ اس کا بھی وہی فائدہ ہوگا جو اوپر ذکر کیا جاچکا ہے ۔
(۱۲) جو اسلامی بھائی شیخ طریقت ، امیرِ اہلِ سنت حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطار قادری رضوی مدظلہ العالی سے بیعت یا طالب ہوں وہ یاداشت میں بہتری کے لئے ۴۱ دن تک روزانہ ۲۱ مرتبہ ’’ یَاعَلِیْمُ ‘‘ پانی پر پڑھ کر نہار منہ پئیں ، ان شاء اللہ عزوجل حافظہ روشن ہوجائے گا ۔ (شجرۂ عطاریہ ، ص۴۶، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ )
جوطلباء اسلامی بھائی کسی کے مُرید نہ ہوں اُنکی خدمت میں مَدَنی مشورہ ہے !کہ وہ شیخ طریقت امیراہلسنت بانی دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس قادری دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہکے مُرید بن جائیں اور جو پہلے سے کسی پیر صاحب سے بیعت ہوں وہ امیراہل ِ سنتمدظلہ العالی سے طالب ہوکر اپنے پیر صاحب کے فیض کے ساتھ ساتھ امیرِ اہل سنت مدظلہ العالی کا فیض بھی حاصل کریں ۔ الحمدللہ عزوجل !آپ مدظلہ العالی کی نگاہِ فیض سے لاکھوں مسلمانوں بالخصوص نوجوانوں کی زندگیوں میں مدنی انقلاب برپا ہوگیا اور وہ گناہوں سے تائب ہوکر صلوۃ وسنت کی راہ پر گامزن ہوگئے ۔
امیرِ اَہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ سلسلہ عالیہ قادریہ رضویہ میں مُرید کرتے ہیں ، اورقادری سلسلے کی تو کیا بات ہے ! کہ حضور غوثِ اعظم رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں ، ’’میں اپنے مریدوں کاقیامت تک کے لئے توبہ پر مرنے کا (بفضلِ خدا عزوجل)ضامن ہوں ۔ ‘‘(بہجۃ الاسرار، ص۱۹۱، مطبوعۃ دارالکتب العلمیۃ بیروت)
{۲} سبق یاد کرنے کا طریقہ درست نہ ہونا :
سبق صحیح یاد نہ ہونے یا دیر سے یاد ہونے یا یاد ہو کر بھول جانے کی دوسری وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ ہمارا سبق یاد کرنے کا طریقہ درست نہ ہو ۔ اس سبب کو دور کرنے کے لئے نیچے دئیے گئے طریقے کے مطابق سبق یاد کرنے کی کوشش کریں ، ان شاء اللہ عَزَّ وَجَلَّ چند ہی دنوں میں آپ کو بہتری (Improvement) کے آثار دکھائی دیں گے ۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! کسی بھی سبق کو اچھی طرح یاد رکھنے کے لئے پہلے اسے زبانی یاد کر لیجئے پھر اسے لکھ کردہرالیجئے کیونکہ اس کی ترغیب حدیث پاک میں وار دہوئی ہے جیسا کہ کنزالعمال میں ہے کہ
ایک آدمی نے رسول اﷲ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی بارگاہ میں حافظہ کی خرابی کی شکایت کی تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اپنے ہاتھ سے خط (یعنی لکھنے ) کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا ، ’’اپنے دائیں ہاتھ سے مدد طلب کر ۔ ‘‘(کنزالعمال ، کتاب العلم ، ج ۱۰، ص ۱۰۷، رقم الحدیث :۲۹۲۹۱ ، مطبوعۃ دارالکتب العلمیۃ بیروت)
لکھ کر دہرا لینے کے بعدکسی دوسرے اسلامی بھائی کو زبانی سنا کر محفوظ ترین بنا لیجئے کہ ایک دوسرے کو سنا کر یاد کرنا صحابہ کرام علیھم الرضوان کی سنت بھی ہے جیسا کہ …
(۱)حضرت سیدناانس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ ہم لوگ رسولِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے ارشادات سنتے تھے ۔ پھر جب مدنی آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ مجلس سے تشریف لے جاتے تو ہم لوگ آپس میں (آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی زبان ِ اقدس سے نکلنے والے ارشادات کا ) دَور کرتے ۔ اس کا طریقہ یہ ہوتا کہ ایک شخص کل حدیثیں بیان کرتا اور سب سنتے پھر دوسرا، اس کے بعد تیسرا حتی کہ سب باری باری سناتے ۔ کبھی کبھی ساٹھ ساٹھ آدمی بھی مجلس میں ہوتے تھے ۔ جب ہم وہاں سے اٹھتے تو حدیثیں ہمیں اس طرح یاد ہوتیں کہ گویا ہمارے دلوں میں بو دی گئی ہیں ۔ (مجمع الزوائد ، کتاب العلم ، ج۱، ص۳۹۷، رقم الحدیث:۷۳۴، مطبوعۃ دارالفکر بیروت)
(۲)حضرت سیدنا معاویہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ اپنا آنکھوں دیکھا حال بیان کرتے ہیں کہ صحابہ کرام علیھم الرضوان فرض نمازوں کے بعد مسجد نبوی میں بیٹھ کر قرآن وحدیث کا مذاکرہ کیا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع