30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!
علمِ دین کے حصول کے لئے بنیادی طور پر دو ذریعے ہیں ، …
{۱}رسمی… {۲} غیر رسمی …
{۱} رسمی:
کسی دارالعلوم یا جامعہ کے شعبۂ درس ِ نظامی میں داخلہ لے کر باقاعدہ طور پر علم دین حاصل کرنا ۔
{۲} غیر رسمی :
اس کی درج ِ ذیل صورتیں ہیں ، …
(۱)علمائے کرام (مثلاً بانیٔ دعوت ِ اسلامی حضرت علامہ ابوبلال محمد الیاس عطار قادری مدظلہ العالی)کی صحبت اختیار کرنا…
(۲)دینی کتب بشمول رسائلِ امیرِ اہلِ سنت مدظلہ العالی کا مطالعہ کرنا…
(۳) علمائے کرام مثلاً امیرِ اہلِ سنت مدظلہ العالی کے بیانات اور مدنی مذاکروں کی کیسٹیں سننا…
(۴) راہِ خدامیں سفر کرنے والے عاشقان ِ رسول کے مدنی قافلوں کا مسافر بننا…
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!
ہم ان میں سے جتنے زیادہ ذرائع اپنائیں گے ان شاء اللہ عَزَّ وَجَلَّ اسی قدر ہمارے علم میں اضافہ ہوتا چلا جائے گا ۔ چونکہ یہ کتاب درس ِ نظامی کے امتحانات کی تیاری کے موضوع پر لکھی گئی ہے لہذا آنے والی سطور میں اسی شعبہ سے متعلق گفتگو کی جائے گی ۔
الحمدللہ عَزَّ وَجَلَّ ! اہل سنت وجماعت کے کثیر جامعات اور دارالعلوم ‘پاکستان بھر میں علمِ دین کے فروغ میں شب و روز مصروف عمل ہیں جن میں تبلیغ قرآن وسنت کی عالمگیر تحریک دعوتِ اسلامی کے زیرِ اہتمام چلنے والے جامعات بنام’’ جامعۃ المدینہ ‘‘ بھی شامل ہیں جن میں ہزاروں طلباء اس مدنی مقصد کے پیشِ نظر تحصیل ِ علم دین میں مشغول ہیں کہ ’’مجھے اپنی اور ساری دنیا کے لوگوں کی اصلاح کی کوشش کرنی ہے ۔ ان شاء اللہ عَزَّ وَجَلَّ ‘‘
شعبہ درسِ نظامی میں عموماًآٹھ سالہ نصابِ تعلیم کے تحت پڑھایا جاتا ہے اور ہر سال کے اختتام پر سالانہ امتحانات کا سلسلہ ہوتا ہے جبکہ سہ ماہی اور ششماہی امتحانات اس کے علاوہ ہیں ۔ دیکھا گیا ہے کہ جیسے جیسے امتحانات کے دن قریب آتے ہیں طلبا ء کی اکثریت لاشعوری طور پر امتحانات کے خوف کی وجہ سے بے چینی اور اضطراب کا شکار ہوتی چلی جاتی ہے اور ان کے دل ودماغ میں ایک ہی سوال گردش کر رہا ہوتا ہے کہ ’’ہم امتحان کی تیاری کیسے کریں ؟‘‘
یہ تحریر اُن کے اِسی سوال کا جواب مہیا کرے گی اور ان کی بے چینی کو دور کرنے میں مدد گار ثابت ہو گی، ان شاء اللہ عَزَّ وَجَلَّ ۔ تمام طلباء اسلامی بھائیوں کی خدمت میں مدنی التجاء ہے کہ اس رسالے کا بغور مطالعہ کریں اور اس میں کی گئی گزارشات پر عمل کر کے امتحانات میں اپنی کامیابی کو بفضلہ تعالیٰ یقینی بنائیں ۔ اللہ تعالیٰ ہمارا حامی وناصر ہو ۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!
کسی بھی نوعیت کا(مثلاً ششماہی یا سالانہ ) امتحان (Examination)ہو ہمیں اس سے مندرجہ ذیل فوائد حاصل ہوتے ہیں ۔
(1) سال بھر پڑھے جانے والے اسباق کی دہرائی (Revision)کرنے کا موقع ملتا ہے ۔ اگر امتحانات کی ترکیب نہ ہوتو غالباً ہم ان اسباق کو دہرانے میں سستی کا شکار ہوجائیں ۔
(2) دہرائی کی وجہ سے پڑھے جانے والے اسباق ذہن میں مستحضر ہوجاتے ہیں ، جس کی وجہ سے سال بھر کی محنت رائیگاں ہونے سے محفوظ رہتی ہے ۔
(3) مختلف فنون میں اپنی خامیوں اورکمزوریوں (Weak Points)کا علم ہوتا ہے اور ان پر ابتداء ہی میں قابو پانے کا موقع ملتا ہے ۔ بصورتِ دیگر یہ خامیاں فارغ التحصیل ہونے تک ’’ہمارے دامن سے وابستہ‘‘ رہتے ہوئے اتنی پختہ ہوجائیں گی کہ باوجود کوشش کے ان سے جان چھڑانا بے حد مشکل ہوجائے گا ۔
(4) امتحان دینے سے مافی الضمیر اچھے انداز سے بیان کرنے کی مشق ہوتی ہے اور تدریسی صلاحیتں ابھر کر سامنے آتی ہیں جس کی برکت سے ہمیں تدریس کے مرحلے میں کوئی خاص مشکل پیش نہیں آئے گی ۔ اِنْ شَاءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ
(5) امتحان دینے کی برکت سے تحریری صلاحیتیں (Writing skills) اجاگر ہوتی ہیں اور باصلاحیت مصنف (Writers)سامنے آتے ہیں ۔
(6) امتحان کی تیاری کے دوران ہمیں وقت کی اہمیت (Importance)کا شدت سے احساس ہوتا ہے اور ہم امتحان کے بعد بھی وقت کے ضیاع سے بچنے کی بھر پور کوشش کرتے ہیں ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع