30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
پاک کی بارگاہ میں تمہارے اور تمہارے والدِ گرامی حضرتِ آدم صَفِیُّ اللہ کیلئے بھی وسیلہ ہیں ، تم نبیِ رَحمت ، شفیعِ اُمّت صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم ہی کی طرف منہ کرکے شَفاعت کی بھیک مانگو ، اللہ پاک اپنے حبیب صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی شَفاعت ضرور قَبول فرمائے گا ، اللہ ربُّ العباد خود ہی ارشاد فرماتا ہے :
وَ لَوْ اَنَّهُمْ اِذْ ظَّلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ جَآءُوْكَ فَاسْتَغْفَرُوا اللّٰهَ وَ اسْتَغْفَرَ لَهُمُ الرَّسُوْلُ لَوَجَدُوا اللّٰهَ تَوَّابًا رَّحِیْمًا(۶۴) (پ5 ، النساء : 64)
ترجَمۂ کنز الایمان : اور اگر جب وہ اپنی جانوں پر ظلم کریں تو اے محبوب! تمہارے حُضور حاضِر ہوں اورپھر اللہ سے مُعافی چاہیں اور رسول ان کی شَفاعت فرمائے تو ضَرور اللہ کوبَہُت توبہ قَبول کرنے والا مِہربان پائیں ۔ (الشفاء ، 2 / 41)
مجرِم بلائے آئے ہیں ’’ جَاءُوْكَ‘‘ ہے گواہ پھر رد ہو کب یہ شان کریموں کے در کی ہے
(حدائقِ بخشش ، 205)
حضرت امام مالک بن انس رحمۃُ اللہِ علیہ دُنیا سے بہت زیادہ بے رغبت رہتے اور امورِ آخرت میں غور وفکرکرتے رہتے تھے۔ حصولِ علم میں بہت کوشاں رہتے اور مؤمنین کی خیر خواہی کرتے تھے۔ خلیفۃُ المسلمین مہدی نے آپ رحمۃُ اللہِ علیہ سے پوچھا : کیا آپ کا کوئی مکان ہے؟تو آ پ نے جواب میں فرمایا : نہیں۔ لیکن میں آپ کو ایک حدیث ِ پاک سناتا ہوں ، میں نے حضرت ربیعہ بن ابی عبدالرحمن رضی اللہُ عنہ کو فرماتے سنا : آدمی کا نسب ہی اس کا مکان ہے۔ (احیاء العلوم ، 1 / 47)
جس سے ہوسکے وہ مدینے شریف میں مرے
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہُ عنہما روایت فرماتے ہیں کہ رسولُ اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشادفرمایا : مَنِ اسْتَطَاعَ اَنْ یَّمُوْتَ بِالْمَدِیْنَۃِ فَلْیَمُتْ بِہَا فَاِنِّی اَشْفَعُ لِمَنْ یَّمُوْتُ بِہَا یعنی جو مدینے میں مرسکے وہ وَ ہیں مرے کیونکہ میں مدینے میں مرنے والوں کی شَفاعت کروں گا۔ (ترمذی ، 5 / 483 ، حدیث : 3943)
مشہور مُفَسّرحکیمُ الْاُمَّت حضر ت مفتی احمد یار خان رحمۃُ اللہِ علیہ فرماتے ہیں : ظاہر یہ ہے کہ یہ بِشارت اورہِدایت سارے مسلمانوں کو ہے نہ کہ صِرْف مُہاجِرین کو یعنی جس مسلمان کی نیَّت مدینۂ پاک میں مرنے کی ہو وہ کوشِش بھی وہاں ہی مرنے کی کرے کہ خدانصیب کرے تو وہاں ہی قِیام کرے خُصُوصاً بڑھاپے میں اور بِلاضَرورت مدینۂ پاک سے باہَر نہ جائے کہ موت ودفن وہاں کاہی نصیب ہو ، حضرتِ عمر رضی اللہُ عنہ دعا کرتے تھے کہ ’’مولا! مجھے اپنے محبوب کے شہر میں شہادت کی موت دے۔ “ آپ کی دعا ایسی قَبول ہوئی کہ سبحاناللہ! فجر کی نماز ، مسجدِ نبوی ، مِحرابُ النبی ، مُصلّٰی نبی اور وہاں شہادت ۔ میں نے بعض لوگوں کو دیکھا کہ تیس چالیس سال سے مدینۂ مُنَوَّرہ میں ہیں ، حُدودِ مدینہ بلکہ شہرِ مدینہ سے بھی باہَر نہیں جاتے اِسی خطرے سے کہ موت باہَر نہ آجائے ، حضرتِ امام مالِک رحمۃُ اللہِ علیہ کا بھی یہ ہی دستور رہا۔ (مرآۃ المناجیح ، 4 / 222)
مدینے میں وفات ، بوقتِ رخصت نیکی کی دعوت
امامِ مالِک رحمۃُ اللہِ علیہ کی وفا ت179ہجری کے ماہِ صَفَرُالمُظَفَّر یا ربیعُ الاْوَّل شریف کی10یا 11 یا14تاریخ کو مدینۂ منوَّرہ میں ہوئی اور جنَّتُ البقیع میں دفن ہوئے۔ (سیر اعلام النبلاء ، 7 / 434-435)بوقتِ رِحْلَت آپ رحمۃُ اللہِ علیہ نے نیکی کی دعوت دی۔ یحییٰ بن یحییٰ مَصْمُوْدِی رحمۃُ اللہِ علیہ فرماتے ہیں : امام مالِک رحمۃُ اللہِ علیہ بیان کرتے ہیں کہ رَبِیْعہ نے فرمایا : میرے نزدیک کسی شخص کو نَماز کے مسائل بتانا روئے زمین کی تمام دولت صَدَقہ کرنے سے بہتر ہے اور کسی شخص کی دینی اُلجھن دُور کر دینا سو حج کرنے سے افضل ہے۔ نیزابنِ شَہاب زُہری رحمۃُ اللہِ علیہ کے حوالے سے بتایاکہ انہوں نے فرمایا : میرے نزدیک کسی شخص کو دینی مشورہ دینا سو غَزوات میں جِہاد کرنے سے بہتر ہے۔ یحییٰ بن یحییٰ رحمۃُ اللہِ علیہ کہتے ہیں : اس گفتگو کے بعد امامِ مالِک رحمۃُ اللہِ علیہ نے کوئی بات نہیں کی اور اپنی جان جانِ آفریں کے سِپُرد کر دی۔ (بستان المحدثین ، ص39 ، 38) اللہ رَبُّ العِزَّت کی اُن پر رَحْمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو۔ اٰمین بِجاہِ النّبیِّ الْاَمین صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم ۔
طیبہ میں مرکے ٹھنڈے چلے جاؤ آنکھیں بند سیدھی سڑک یہ شہرِ شَفاعت نگر کی ہے
(حدائقِ بخشش ، ص222)
حضرت ابنِ قاسم رحمۃُ اللہِ علیہ فرماتے ہیں کہ ہم حضرت امام مالک بن انس رحمۃُ اللہِ علیہ کے مرضِ وصال میں آپ رحمۃُ اللہِ علیہ کی خدمت میں حاضر تھے۔ حضرت ابنِ دَرَاوَرْدِی حاضر ہوئے اور عر ض کی : اے ابو عبداللہ ! گذشتہ رات میں نے ایک خواب دیکھا ہے ، کیا آپ سننا پسند فرمائیں گے؟آپ رحمۃُ اللہِ علیہ نے ارشاد فرمایا : سنائیے۔ انہوں نے خواب بیان کرتے ہوئے کہا : میں نے سفید لباس میں ملبوس ایک آدمی دیکھا جو آسمان سے اُترا۔ اس کے ہاتھ میں ایک ایسا رجسٹر تھا جو زمین وآسمان کے درمیان پھیلا ہوا تھا۔ اس نے تین مرتبہ کہا : ھٰذَا بَرَاءَ ۃٌ لِمَالِکٍ مِّنَ النَّارِ یعنی یہ حضرت امام مالک بن انس رحمۃُ اللہِ علیہ کے لئے دوزخ سے براءَ ت نامہ ہے۔ ابھی یہ گفتگو چل ہی رہی تھی کہ خلیفہ کا قاصد حاضر ہوکرعرض گزار ہوا : اے ابو عبداللہ ! مسجد ِ نبوی شریف کے مؤذن نے گذشتہ رات ایک خواب دیکھا ہے جو میں نے اس سے سناہے۔ چنانچہ اس نے بھی پہلے خواب کی مثل خواب سنایا۔ اس پر حضرت امام مالک بن انس رحمۃُ اللہِ علیہ نے ارشاد فرمایا : اللہ ہی حقیقی مدد گار ہے ، وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ (الروض الفائق ، ص217 ، حکایتیں اور نصیحتیں ، ص422)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع